حدیث نمبر: 4632
عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ حَجَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ وَمَعَ سِنَانٍ بَدَنَةٌ فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ فَعَيَّ بِشَأْنِهَا فَقُلْتُ لَئِنْ قَدِمْتُ مَكَّةَ لَأَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ هَذَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قُلْتُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَعِنْدَهُ جَارِيَةٌ وَكَانَ لِي حَاجَتَانِ وَلِصَاحِبِي حَاجَةٌ فَقَالَ أَلَا أُخْلِيكَ قُلْتُ لَا فَقُلْتُ كَانَتْ مَعِي بَدَنَةٌ فَأَزْحَفَتْ عَلَيْنَا فَقُلْتُ لَئِنْ قَدِمْتُ مَكَّةَ لَأَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ هَذَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبُدْنِ مَعَ فُلَانٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ فَلَمَّا قَفَّا رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْنَعُ بِمَا أَزْحَفَ عَلَيَّ مِنْهَا قَالَ انْحَرْهَا وَاصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا وَاضْرِبْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ موسی بن سلمہ کہتے ہیں؛ میں نے اور سنان بن سلمہ نے حج کیا، سنان کے پاس ہدی کا اونٹ تھا، ہوا یوں کہ وہ اونٹ تھک کر کھڑا ہو گیا اور چلنے سے عاجز آ گیا، میں نے کہا: جب میں مکہ مکرمہ پہنچوں گا تو اس کے بارے میں تحقیق کروں گا، پس جب ہم مکہ میں آئے تو میں نے اس سے کہا: تم ہم کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر چلو، پس ہم ان کے پاس گئے، جبکہ ان کے پاس ایک لونڈی تھی، میری دو ضرورتیں تھیں اور میرے ساتھی کی ایک ضرورت تھی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: کیا میں تجھے علیحدگی میں لے جاؤں؟ میں نے کہا: جی نہیں، بس ایک سوال کرنا ہے کہ میرے پاس ایک اونٹ تھا اور وہ تھک کر کھڑا ہو گیا، میں نے کہا: میں مکہ پہنچ کر اس کے بارے میں تحقیق کروں گا، انھوں نے جواباً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں آدمی کے ساتھ ہدی کے اونٹ بھیجے تھے اور اس کو ان کا امیر بنایا تھا، جب وہ آدمی پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو واپس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! جو اونٹ تھک کر کھڑا ہو جائے (اور چلنے سے عاجز آ جائے)، میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے کھانا ہے۔
حدیث نمبر: 4633
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانِي عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ فَأَمَّرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ أَزْحَفَ عَلَيْنَا مِنْهَا شَيْءٌ فَقَالَ انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي وَلَمْ يَسْمَعْ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ مِنْ أَبِي التَّيَّاحِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہدی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ بھیجے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو اس معاملے کا امیر بنایا، پس جب وہ چل پڑا تو پھر لوٹ آیا اور اس نے کہا: جو اونٹ تھک کر کھڑا ہو جائے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو ذبح کر دینا اور اس کا جوتااس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا، اور نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے۔ امام احمد نے کہا: اسماعیل بن علیہ نے ابو تیاح سے صرف یہ حدیث سنی ہے۔
حدیث نمبر: 4634
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَكَانَ صَاحِبَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ قَالَ انْحَرْهُ وَاغْمِسْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ وَاضْرِبْ صَفْحَتَهُ وَخَلِّ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَهُ فَلْيَأْكُلُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ناجیہ خزاعی رضی اللہ عنہ ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہدی کے اونٹوں کے منتظم تھے، سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو اونٹ چلنے سے عاجز آجا ئے، میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور پھر لوگوں اور اس کے درمیان سے ہٹ جانا، تاکہ وہ اس کو کھا لیں۔
حدیث نمبر: 4635
عَنْ شَهْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجَعْتُ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنِي بِمَا عَطِبَ مِنْهَا قَالَ انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ ضَعْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا أَوْ عَلَى جَنْبِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہدی کے اونٹوں کے منتظم انصاری صحابی بیان کرتے ہیں … ، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی روایت بیان کی … ، البتہ اس میں ہے: وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا تو میں لوٹا اور کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! جو اونٹ چلنے سے عاجز آ جائے، اس کے بارے میں آپ مجھے کیا حکم فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی آدمی نے۔
حدیث نمبر: 4636
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ بِالْبُدْنِ فَيَقُولُ إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ فَخَشِيتَ عَلَيْهِ فَانْحَرْهَا وَاغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا وَاضْرِبْ صَفْحَتَهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ وَفِي لَفْظٍ بَعَثَ مَعَهُ بَدَنَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو قبیصہ ذؤیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ساتھ ہدی کے دو اونٹ بھیجے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ان میں سے کوئی جانور تھک کر چلنے سے عاجز آ جائے اور تو اس کے بارے میں ڈرنے لگے تو اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور نہ تو نے خود اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے۔
حدیث نمبر: 4637
عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الثُّمَالِيِّ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهَدْيِ يَعْطَبُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْحَرْ وَاصْبُغْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ وَاضْرِبْ بِهِ عَلَى صَفْحَتِهِ أَوْ قَالَ عَلَى جَنْبِهِ وَلَا تَأْكُلَنَّ مِنْهُ شَيْئًا أَنْتَ وَلَا أَهْلُ رُفْقَتِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن خارجہ ثمالی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چلنے سے عاجز آ جانے والی ہدی کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور ہرگز نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات میں ان جوتوں کا ذکر ہے، جو ہدی کے جانوروں کو بطورِ قلادہ ڈالے گئے تھے، ذبح کے بعد یہ خاص انداز اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آس پاس کے لوگوں کو یا اس جماعت کے بعد گزرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ یہ مسلمان کی ہدی کا جانور تھا اور وہ بلا شک و شبہ اس کو کھا لیں، ہدی کے مالک اور اس کے ہم سفر ساتھیوں کو ایسے جانور کا گوشت اس لیے کھانے سے منع کر دیا تاکہ وہ ہدی کے جانوروں کو راستے میں ذبح کرنے کے لیے حیلہ بہانہ کرنا ہی ترک کر دیں۔