حدیث نمبر: 4627
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسُئِلَ يَرْكَبُ الرَّجُلُ هَدْيَهُ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ قَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِالرِّجَالِ يَمْشُونَ فَيَأْمُرُهُمْ يَرْكَبُونَ هَدْيَهُ وَهَدْيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَلَا تَتَّبِعُوا شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبید اللہ اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا آدمی اپنی ہدی پر سوار ہو سکتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدل چلنے والے لوگوں کے پاس سے گزرتے اور ان کو حکم دیتے کہ وہ میری ہدی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدی پر سوار ہو جائیں، پھر انھوں نے کہا: تمہارے نبی کی سنت سے زیادہ فضیلت والی کوئی چیز نہیں ہے کہ جس کی تم پیروی کر سکو۔
حدیث نمبر: 4628
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ ہدی والے اونٹ کو ہانک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، اس پر سوار ہو جا۔ اس نے کہا: یہ تو ہدی کا جانور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: او تو ہلاک ہو جائے، اس پر سوار ہو جا۔
حدیث نمبر: 4629
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَزَادَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يُسَايِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي عُنُقِهَا نَعْلٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے اس بندے کو دیکھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور اس کی سواری کی گردن میں جوتا تھا۔
حدیث نمبر: 4630
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ بِدُونِ الزِّيَادَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں دوسرے طریق والی زیادتی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 4631
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَدْ سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: اگر تو مجبور ہو جائے تو معروف طریقے کے ساتھ اس پر سوار ہو جا، یہاں تک کہ تو کوئی اور سوار پا لے۔
وضاحت:
فوائد: … اصل تو یہی ہے کہ ہدی کا اونٹ آگے آگے خالی جائے، اس پر بوجھ لدا ہوا ہو نہ اس پر سواری کی جا رہی ہو، یہ اس کے احترام کا تقاضا ہے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کی اونٹنی اور تھی اور قربانی کے اونٹ الگ تھے، لیکن جب کوئی شخص تنگ دست ہو، اس کے پاس ایک ہی اونٹ ہو، جس کو وہ بطورِ ہدی پیش کرنا چاہتا ہو، جب کہ فاصلہ بعید ہو تو ایسے جانور پر سواری کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، آخری حدیث سے واضح طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ مجبوری کی صورت میں ایسے جانور پر سواری کرنی چاہیے اور مجبوری سے مراد سواری کا نہ ہونا ہے، نہ کہ چلنے سے بالکل عاجز آ جانا، البتہ سواری کرتے وقت اس جانور کا احترام قائم رکھے، یعنی نہ اسے بھگائے، نہ مارے، نہ سب و شتم کرے، بلکہ اس کو اپنی مرضی کے مطابق چلنے دے اور جب وہ تھک جائے تو آرام کرنے دے۔