کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ہدی بھیجنے والے پر وہ چیزیں حرام نہیںہوں گی ، جو حاجی پر حرام ہوتی ہیں
حدیث نمبر: 4607
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الرَّجُلِ يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ هَلْ يُمْسِكُ عَمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ قَالَتْ فَسَمِعْتُ صَوْتَ تَصْفِيقِ يَدَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ ثُمَّ قَالَتْ قَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يُرْسِلُ بِهِنَّ ثُمَّ لَا يَحْرُمُ مِنْهُ شَيْءٌ فَمَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا يَحْرُمُ عَلَى الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مسروق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جو ہدی بھیجتا ہے، کیا وہ بھی ان امور سے اجتناب کرے گا، جن سے احرام والا آدمی بچتا ہے؟ میں نے جواباً پردے کے پیچھے سے ان کے ہاتھوں کی تالی کی آواز سنی، پھر انھوں نے کہا: میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدیوں کے قلادے بٹتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو بھیج دیتے اور کوئی چیز بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حرام نہیں ہوتی تھی۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی ایسی چیز حرام نہیں ہوتی تھی جو احرام والے آدمی پر اپنی بیوی کے سلسلے میں حرام ہوتی ہے، یہاں تک کہ لوگ لوٹ آتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4607
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5566، ومسلم: 1321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25469»
حدیث نمبر: 4608
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَدَعُ حَاجَةً لَهُ إِلَى امْرَأَةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْحَاجُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدیوں کے قلادے بٹتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیوی سے اپنی حاجت پوری کرنے کو ترک نہیں کرتے تھے، یہاں تک حجاج کرام لوٹ آتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4608
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5566، ومسلم: 1321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25217»
حدیث نمبر: 4609
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ لَا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلَا يَتْرُكُهُ إِنَّا لَا نَعْلَمُ الْحَرَامَ يُحِلُّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدی کے قلادے اپنے ہاتھوں سے بٹتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ کسی چیز سے الگ ہوتے اور نہ اس کو چھوڑتے تھے، ہم تو یہی جانتے تھے کہ محرم کو حلال کرنے والی چیز بیت اللہ کا طواف ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس جگہ حرام سے مراد محرم ہے اور مقصد یہ ہے کہ حج یا عمرہ کے لیے احرام باندھنے والا بیت اللہ کا طواف کرے تو پھر اس کے لیے وہ چیزیں حلال ہوتی ہیں جو احرام کی وجہ سے حرام ہوتی ہیں۔ بیت اللہ کی طرف قربانی بھیجنے والا چونکہ محرم ہی نہیں اس لیے اس پر احرام والی کوئی پابندی بھی نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4609
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5566، ومسلم: 1321 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25064»
حدیث نمبر: 4610
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْبُدْنِ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ وَأَفْتِلُ قَلَائِدَ الْبُدْنِ بِيَدَيَّ ثُمَّ يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ الْبُدْنُ مَكَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف قربانیاں بھیجتے تھے اور میں اپنے ہاتھوں سے ان کے قلادے بٹتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان قربانیوں کے مکہ مکرمہ تک پہنچنے سے پہلے وہ امور کرتے تھے، جو حلال آدمی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4610
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24569»
حدیث نمبر: 4611
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: گویا کہ میں اب بھی اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بکریوں کے قلادے بٹتی ہوئی دیکھ رہی ہوں، (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو مکہ مکرمہ بھیجتے اور) کسی چیز سے نہیں رکتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4611
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1703، ومسلم: 1321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26789»
حدیث نمبر: 4612
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ ثُمَّ لَا يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ الْمُحْرِمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہدیاں بھیج دیتے، لیکن ان امور سے اجتناب نہ کرتے تھے، جن سے محرم رکتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جو آدمی قربانی کے جانور مکہ مکرمہ کی طرف بھیج کر خود اپنی رہائش گاہ پر ہی مقیم رہے گا تو اس پر احرام سے متعلقہ کسی چیز کی کوئی پابندی نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4612
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، انظر الحديث السابق۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25489»