کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قربانی کے اونٹوں کو اشعار کرنا اور ہدی کے تمام جانوروں کو قلادے ڈالنا
حدیث نمبر: 4603
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَتِهِ أَوْ أُتِيَ بِبَدَنَتِهِ فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنَ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا بِنَعْلَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالحلیفہ مقام پر نمازِ ظہر ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹ لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی کوہان کے دائیں پہلو پر علامت لگائی اور پھر اس سے خون صاف کر دیا اور دو دو جوتوں کے قلادے ڈالے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیت بیداء مقام پر کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: اشعار یہ ہے کہ اونٹنی کی کوہان کی دائیں جانب پر کسی برچھی یا چھری وغیرہ سے زخم لگایا جائے اور پھر خون کو صاف کر لیا جائے، یہ جانور کے ہدی ہونے کی علامت ہو گی، اگر ایسا جانور گم ہو جائے تو دوسرے لوگ خود ہی اس کو حاجیوں تک پہنچا دیتے ہیں، چور وغیرہ بھی اس کو چرانے سے باز رہتے ہیں اور اگر وہ دوسرے اونٹوں میں مل جائے تو اس کو پہنچان لیا جاتا ہے، یہ کام قلادے سے بھی لیا جا سکتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیتے بھی تھے، بہرحال اشعار ایسی علامت ہے جو زائل نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4603
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1243، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2296»
حدیث نمبر: 4604
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى فِي بُدْنِهِ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ بُرَتُهُ فِضَّةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قربانی کے اونٹوں میں ابو جہل کا اونٹ بھی تھا، اس کی نکیل کا کڑا چاندی کا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ عمرۂ حدیبیہ کا واقعہ ہے، یہ اونٹ غزوۂ بدر میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت میں سے تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4604
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن ، أخرجه ابن ماجه: 3076، 3100 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2079»
حدیث نمبر: 4605
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً غَنَمًا إِلَى الْبَيْتِ فَقَلَّدَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ بکریوں کو بطورِ ہدی بیت اللہ کی طرف بھیجا تھا اور ان کو قلادے بھی ڈالے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع سے پہلے بھی ہدی کے جانور بھیجتے رہتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود مدینہ منورہ میں ہی رہتے، ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکریاں بھیجیں تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4605
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1701، 1702، ومسلم: 1321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24656»
حدیث نمبر: 4606
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف ہدی کے طور پر بکریاں بھیجی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بھی قربانی کی ایک صورت ہے کہ خود انسان اپنے گھر میں ٹھہرے اور قربانی کے جانور کسی شخص یا ادارے کے ہاتھ مکہ مکرمہ بھیج دے کہ وہاں حرم میں ذبح ہوں، اور یہ افضل قربانی ہے۔ ایسے آدمی پر احرام کی کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی، جیسا کہ اگلے باب کی روایات سے معلوم ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4606
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14952»