حدیث نمبر: 4585
عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي (الْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرٍو النَّصَرِيُّ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرَجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى)) قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَا: صَدَقَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَحَدَّثْتُ بِذَكَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَا: صَدَقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو جائے گا، لیکن اگلے سال اس پر دوسرا حج ہو گا۔ عکرمہ کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انھوں نے کہا: جی اس نے سچ کہا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … احصار سے مراد یہ ہے کہ کہ محرم بیت اللہ تک نہ پہنچ سکے، خواہ دشمن رکاوٹ ڈال دے، جیسے عمرۂ حدیبیہ میں ہوا یا کوئی مرض وغیرہ انسان کو اس قدر لاچار کر دے کہ وہ سفر جاری نہ رکھ سکے۔ ہر دو صورتوں میں اگر ساتھ قربانی کا جانور ہو تو اسے ذبح کردیا جائے گا اور اگر اسے حرم بھیجا جا سکا تو بھیج دیا جائے گا، جانور کو ذبح کرنے کے بعد وہ حجامت وغیرہ کروائے اور حلال ہو جائے، اگر وہ فرض حج ہو تو آئندہ پھر کرے، بشرطیکہ استطاعت رکھتا ہو، ورنہ معاف ہے، یہی حکم عمرے کا ہے۔