کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان¤طوافِ وِداع: … وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 4580
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَنْفِرْ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مناسکِ حج کے بعد لوگ منیٰ سے ہی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہورہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک اپنے گھرکو نہ جائے جب تک وہ بیت اللہ کا طواف نہ کر لے۔
حدیث نمبر: 4581
عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ تَحِيضُ؟ قَالَ: لِيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهَا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ قُلْتُ: كَذَلِكَ أَفْتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَرَبْتَ عَنْ يَدَيَّ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِكَيْ مَا أُخَالِفَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حارث بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر ایک عورت طواف افاضہ کر چکنے کے بعد حائضہ ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ انہوں نے کہا: اس کا آخری عمل تو بیت اللہ کا طواف (یعنی طواف وداع) ہی ہونا چاہیے۔ میں (حارث رضی اللہ عنہ )نے کہا: مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فتوی دیا تھا۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں ، جو بات تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کر چکا ہے، مجھ سے بھی پوچھتا ہے تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کروں۔
حدیث نمبر: 4582
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ)) فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: خَرَرْتَ مِنْ يَدَيَّ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَمْ تُحَدِّثْنِي (وَفِي لَفْظٍ) فَلَمْ تُخْبِرْنَا بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) (سیدنا حارث رضی اللہ عنہ نے کہا:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ : جو آدمی حج یا عمرہ کرے تو (روانگی سے قبل) اس کا آخری عمل بیت اللہ کا وداع ہونا چاہیے۔ یہ سن کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا ناس ہو جائے، تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہوئی ہے اور پھر ہمیں اس کے بارے میں بتلاتا نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی عورت طوافِ افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہو جائے اور پھر اسے اسی حالت میں گھر لوٹنا پڑے، تو وہ طوافِ وداع کے بغیر بھی جا سکے گی، اگلی حدیث سے بھییہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے اور یہی راجح ہے۔ ممکن ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس رخصت والی حدیث کا علم نہ ہو، وگرنہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرنے کے زیادہ حقدار تھے۔
حدیث نمبر: 4583
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَصْدُرَ قَبْلَ أَنْ تَطُوفَ إِنْ كَانَتْ قَدْ طَافَتْ فِي الْإِفَاضَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حائضہ کو طوافِ وداع کے بغیر ہی (اپنے وطن کو) واپس چلے جانے کی رخصت دی ہے، بشرطیکہ وہ پہلے طوافِ افاضہ کر چکی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا طوافِ افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہو گئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی گئی کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ ہمیں روکنے والی ہو گی؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! انھوں نے حیض سے پہلے طوافِ افاضہ تو کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر چل پڑے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم، دیکھیں حدیث نمبر ۴۵۹۰)
یہ احادیث طوافِ وداع کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں، اس سے صرف وہ عورت مستثنی ہے، جو روانگی کے وقت حائضہ ہو، لیکن اس سے پہلے طوافِ افاضہ کر چکی ہو۔ امام شوکانی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طواف کا حکم بھی دیا ہے اور اس کے چھوڑ کر چلے جانے سے منع بھی کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھییہ طواف کیا ہے، کوئی شک نہیں کہ یہ امور وجوب کا فائدہ دیتے ہیں۔ (نیل الاوطار: ۵/ ۱۵۱)
یہ احادیث طوافِ وداع کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں، اس سے صرف وہ عورت مستثنی ہے، جو روانگی کے وقت حائضہ ہو، لیکن اس سے پہلے طوافِ افاضہ کر چکی ہو۔ امام شوکانی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طواف کا حکم بھی دیا ہے اور اس کے چھوڑ کر چلے جانے سے منع بھی کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھییہ طواف کیا ہے، کوئی شک نہیں کہ یہ امور وجوب کا فائدہ دیتے ہیں۔ (نیل الاوطار: ۵/ ۱۵۱)
حدیث نمبر: 4584
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُلْتَزِمًا الْبَيْتَ مَا بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْبَابِ وَرَأَيْتُ النَّاسَ مُلْتَزِمِينَ الْبَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجراسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان والی جگہ پر بیت اللہ کے ساتھ چمٹے ہوئے دیکھا اور میں نے دوسرے لوگوں کو بھی دیکھا کہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ((کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَضَعُ صَدْرَہٗوَوَجْھَہٗوِذِرَاعَیْہِ وَکَفَّیْہِ بَیْنَ الرَّکُنِ وَالْبَابِ،یَعْنِیْ: فِیْ الطَّوَافِ)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دورانِ طواف اپنا سینہ، چہرہ اور دونوں بازو اور دونوں ہتھیلیاں رکن اور دروازے کے درمیان رکھتے تھے۔ (ابوداود: ۱۸۹۹، ابن ماجہ: ۲۹۶۲، صححہ الالبانی فی الصحیحۃ: ۲۱۳۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((اَلْمُلْتَزَمُ مَا بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ)) … حجر اسود اور دروازے کے درمیان ملتزم ہے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۹۰۴۷)
ازرقی نے کہا: یہ کل چار ہاتھ جگہ بنتی ہے۔ معلوم ہوا کہ سینہ، چہرہ، دونوں بازو اور دونوں ہتھیلیاں ملتزم پر رکھنا مستحب عمل ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((اَلْمُلْتَزَمُ مَا بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ)) … حجر اسود اور دروازے کے درمیان ملتزم ہے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۹۰۴۷)
ازرقی نے کہا: یہ کل چار ہاتھ جگہ بنتی ہے۔ معلوم ہوا کہ سینہ، چہرہ، دونوں بازو اور دونوں ہتھیلیاں ملتزم پر رکھنا مستحب عمل ہے۔