حدیث نمبر: 4571
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَدِ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ بِمِنَى: ((نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ)) يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُحَصَّبَ وَذَلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَكِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو دن کے شروع میں فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ میں تھے : ہم کل خیف ِ بنی کنانہ میں ٹھہریں گے، جہاں کفار نے مسلمانوں کے خلاف آپس میں قسمیں اٹھائی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد وادیٔ محصّب تھی،اس کی تفصیل یہ ہے کہ قریش اور بنو کنانہ نے اس مقام پر بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف معاہدہ کیا تھا کہ وہ ان کے ساتھ اس وقت تک نہ نکاح کریں گے اور نہ خریدو فروخت، جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے حوالے نہیں کر دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ہم کل خیف ِ بنی کنانہ میں ٹھہریں گے۔ اس حدیث کے مطابق تو یہ ذوالحجہ کی گیارہ تاریخ بنتی ہے، جب کہ تیرہ ذوالحجہ تک تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مِنٰی میں قیام کرنا تھا، اصل بات یہ ہے کہ اگرچہ غَدًا کا اطلاق موجودہ دن کے متصل بعد والے دن پر ہوتا ہے، لیکن عربوں نے وسعت اختیار کی اور اس لفظ کا اطلاق آنے والے کسی بھی وقت پر بھی کر دیا اور یہاںیہی معنی مقصود ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایام تشریق کے بعد مِنٰی سے روانہ ہوناتھا۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے پتہ چلا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑے اہتمام اور عزم کے ساتھ وادیٔ محصب میں قیام کیا تھا، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود اسلام کا اظہار اور غلبہ تھا، یہ قیاماتفاقی طور پر نہ تھا۔ آنے والی احادیث میں اس وادی میں قیام کے متعلق سیدہ عائشہ اور سیدنا ابن عباس کی جو آراء بیان کی گئی ہیں، وہ ان ہستیوں کا ذاتی فہم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اِن کو مذکورہ بالا حدیث کا علم نہ ہو سکا تھا، باب کے آخر میں مزید بحث کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 4572
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ عُمْرَتِهَا بَعْدَ الْحَجِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: ((اخْرُجْ بِأُخْتِكَ فَلْتَعْتَمِرْ فَطُفْ بِهَا الْبَيْتَ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةَ ثُمَّ لِتَقْضِ ثُمَّ ائْتِنِي بِهَا قَبْلَ أَنْ أَبْرَحَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ)) قَالَتْ: فَإِنَّمَا أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَصْبَةِ مِنْ أَجْلِي (وَفِي لَفْظٍ) قَالَتْ: ثُمَّ ارْتَحَلَ حَتَّى نَزَلَ الْحَصْبَةَ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا نَزَلَهَا إِلَّا مِنْ أَجْلِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے والے بعد اپنے عمرے کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنی بہن (عائشہ) کے ہمراہ جاؤ اور ان کو بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کراؤ، تاکہ یہ اپنا عمرہ ادا کر لے،پھر اس کو میرے پاس واپس لے آنا، لیکن اس سے پہلے کہ میں حصبہ والی رات گزار لوں، (یعنی راتوں رات واپس آ جانا)۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں صرف میری وجہ سے قیام کیا تھا۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں: سیدہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ سے روانہ ہوکر وادی محصّب میں جاکر ٹھہرے، اللہ کی قسم ! آپ نے صرف میری وجہ سے وہاں قیام کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4573
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: إِنَّ نُزُولَ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وادیٔ ابطح میں ٹھہرنا سنت نہیں ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صرف اس لئے وہاں ٹھہرے تھے کہ اس میں (مدینہ کی طرف روانگی کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سہولت تھی۔
حدیث نمبر: 4574
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَيْسَ الْمُحَصَّبُ بِشَيْءٍ إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وادیٔ محصّب میں قیام کرنے کی شرعی حیثیت کوئی نہیں ہے،یہ تو محض ایک مقام ہے، جہاں اللہ کے رسول نے قیام کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4575
عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى أَنْ يَنْزِلَ الْأَبْطَحَ وَيَقُولُ: إِنَّمَا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وادیٔ ابطح (یعنی وادیٔ محصّب) میں قیام کو کوئی شرعی حیثیت نہیں دیتے تھے، بلکہ وہ تواس کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے وہاں (اتفاقی طور پر) قیام کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4576
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ أَيْ بِالْمُحَصَّبِ ثُمَّ هَجَعَ هَجْعَةً ثُمَّ دَخَلَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں وادیٔ محصّب میں ادا کیں اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کا طوافِ وداع کیا۔
حدیث نمبر: 4577
عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَهْجَعُ هَجْعَةً بِالْبَطْحَاءِ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بکر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وادیٔ بطحاء میں کچھ دیر سوتے تھے اور بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … وادیٔ بطحاء سے مراد وادیٔ محصب ہی ہے۔
حدیث نمبر: 4578
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ نَزَلُوا الْمُحَصَّبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ یہ سب حضرات وادی محصّب میں ٹھہرا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((مِنَ السُّنَّۃِ النُّزُوْلُ بِــ(الْأَبْطَحِ) عَشِیَّۃَ النَّفَرِ)) (ادائے حج کے بعد) روانگی کی شام کو ابطح وادی میں قیام کرنا سنت ہے۔ (معجم اوسط: ۱/۱۹۸/۲ـ ۱۹۹/۱، صحیحہ: ۲۶۷۵) امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: جونہی (المعجم الأوسط) کا مصوّر نسخہ مجھے ملا تو میں نے اس حدیث کی تخریج پیش کرنے میں جلدی کی، کیونکہیہ حدیث بڑی عظیم الشان تھی اور بہت کم مخرجین نے اس کو بیان کیا اور تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کی درج ذیل روایت کا قویشاہد ہے: نافع رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ وادیٔ محصب میں ٹھہرنا سنت ہے۔ میں (البانی) کہتا ہوں: معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سے یہ مسلک وصول کیا ہو گا، اس طرح ان کی رائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی شاہد کی وجہ سے قوی ہو جائے گی۔ اور یہ حقیقت اہل علم پر مخفی نہیں ہے کہ ابن عمر کیرائے کی بہ نسبت، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کییہ رائے وادی ٔ محصّب میں قیام کرنے پر قوی دلالت کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہیہ بات معروف ہے کہ سیدنا ابن عمر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرنے کے بہت زیادہ پابند تھے، حتی کی ان امور میں بھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اتفاقاً صادر ہوتے تھے، نہ کہ قصداً۔ اس دعوے کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، امام منذری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی ترغیب کے شروع میں بعض کا ذکر کیا ہے۔ رہا مسئلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا، تو وہ تو آثار کی پیروی کرنے سے منع کرتے تھے، لیکن جب وہ بالجزم اس رائے کا اظہار کریں گے کہ وادیٔ محصب میں ٹھہرنا سنت ہے تو دل مطمئن ہو کر اس امر کی طرف مائل ہو گا کہ ان کی مراد یہ ہے کہ یہ ایسی سنت ہے، جس کا التزام کرنا مقصود ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم منی میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ((نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَیْف بِنَی کَنَانَۃُ حَیْثُ تَقَاسَمُوا عَلٰی الْکُفْرِ۔)) … ہم کل خیف بنی کنانہ میں اتریں گے، جہاں انھوں نے کفر پر ایک دوسرے سے معاہدہ کیا تھا۔ (بخاری، مسلم)
چونکہ قریش اور بنو کنانہ نے اس مقام پر بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف یہ معاہدہ پاس کیا تھا کہ وہ اُن سے نکاح کریں گے نہ خرید و فروخت، جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے سپرد نہ کردیں۔ خیف بنی کنانہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد وادیٔ محصّب تھی۔ امام ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ نے (زاد المعاد) میں کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس مقام پر اسلام کے شعائر کا اظہار کیا جائے، جہاں کافروں نے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے کفر کے شعائر کا اظہار کیا تھا۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِ مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کفر و شرک کے مقامات پر توحید کے شعائر کا قیام عمل میں لاتے تھے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مسجد ِ طائف، لات و عزی کے مقام پر تعمیر کی جائے۔رہا مسئلہ صحیح مسلم کی اس روایت کا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وادی ٔ ابطح (وادیٔ محصّب) میں اترنا سنت نہیں ہے اورسیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس پڑاؤ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔محققین نے اِ ن روایات کے دو جوابات دیے ہیں: (۱)مثبت کو منفی کرنے والے پر مقدّم کیا جاتا ہے، (۲) سرے سے ان دو میں کوئی تضاد اور تناقض نہیں ہے، کیونکہ نفی کرنے والوں کا مقصد یہ ہے کہ اس مقام پر اترنا حج کے مناسک میں سے نہیں ہے کہ اس کو ترک کرنے کی وجہ سے کوئی کفارہ لازم آئے اور ثابت کرنے والوں نے چاہا ہے کہ تمام افعال میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی جائے، وہ بھی اس چیز کو لازم نہیں قرار دیتے۔ مکہ کی وادی کے بہاؤ کی جگہ کو ابطح کہتے ہیں، اس کی جمع بطاح اور اباطح آتی ہے۔ اسی سے قریش البطاح کہا جاتا ہے، یعنی وہ لوگ جو مکہ کی ابطح وادیوں میں اترتے تھے۔ وادیٔ محصّب میں اترنے کو تَحْصِیب کہتے ہیں،یہ وہ گھاٹی ہے جو مکہ اور منی کے درمیان ابطح کی طرف نکلتی ہے، یہی خیف بنی کنانہ بھی ہے۔
(صحیحہ: ۲۶۷۵)
چونکہ قریش اور بنو کنانہ نے اس مقام پر بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف یہ معاہدہ پاس کیا تھا کہ وہ اُن سے نکاح کریں گے نہ خرید و فروخت، جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے سپرد نہ کردیں۔ خیف بنی کنانہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد وادیٔ محصّب تھی۔ امام ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ نے (زاد المعاد) میں کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس مقام پر اسلام کے شعائر کا اظہار کیا جائے، جہاں کافروں نے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے کفر کے شعائر کا اظہار کیا تھا۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِ مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کفر و شرک کے مقامات پر توحید کے شعائر کا قیام عمل میں لاتے تھے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مسجد ِ طائف، لات و عزی کے مقام پر تعمیر کی جائے۔رہا مسئلہ صحیح مسلم کی اس روایت کا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وادی ٔ ابطح (وادیٔ محصّب) میں اترنا سنت نہیں ہے اورسیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس پڑاؤ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔محققین نے اِ ن روایات کے دو جوابات دیے ہیں: (۱)مثبت کو منفی کرنے والے پر مقدّم کیا جاتا ہے، (۲) سرے سے ان دو میں کوئی تضاد اور تناقض نہیں ہے، کیونکہ نفی کرنے والوں کا مقصد یہ ہے کہ اس مقام پر اترنا حج کے مناسک میں سے نہیں ہے کہ اس کو ترک کرنے کی وجہ سے کوئی کفارہ لازم آئے اور ثابت کرنے والوں نے چاہا ہے کہ تمام افعال میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی جائے، وہ بھی اس چیز کو لازم نہیں قرار دیتے۔ مکہ کی وادی کے بہاؤ کی جگہ کو ابطح کہتے ہیں، اس کی جمع بطاح اور اباطح آتی ہے۔ اسی سے قریش البطاح کہا جاتا ہے، یعنی وہ لوگ جو مکہ کی ابطح وادیوں میں اترتے تھے۔ وادیٔ محصّب میں اترنے کو تَحْصِیب کہتے ہیں،یہ وہ گھاٹی ہے جو مکہ اور منی کے درمیان ابطح کی طرف نکلتی ہے، یہی خیف بنی کنانہ بھی ہے۔
(صحیحہ: ۲۶۷۵)