کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 4568
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَقَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ وَلَا لِأَعْجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى أَبَلَّغْتُ؟)) قَالُوا: بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: ((أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟)) قَالُوا: حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ: ((أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟)) قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ: ((أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟)) قَالُوا: بَلَدٌ حَرَامٌ قَالَ: ((فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ بَيْنَكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ قَالَ: وَلَا أَدْرِي قَالَ: وَأَعْرَاضَكُمْ أَمْ لَا كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَلَّغْتُ؟)) قَالُوا: بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بو نضرہ کہتے ہیں: مجھے اس آدمی نے بیان کیا جس نے ایام تشریق کے وسط میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:لوگو! تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، خبردار! کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، مگر تقویٰ کے ساتھ۔ کیا میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول نے اللہ کا پیغام پہنچادیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: آج کون سا دن ہے؟ صحابہ نے کہا: آج حرمت والا دن ہے۔ آپ نے پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا شہر ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے خون، مال اور عزت کو ایک دوسرے پر اسی طرح حرام کردیا ہے، جیسے اس ماہ میں اور اس شہر میں اس دن کی حرمت ہے۔ کیا میں نے اللہ کا پیغام تم لوگوں تک پہنچا دیا؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول نے پیغام پہنچادیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ یہاں موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان لوگو ں تک پہنچادیں، جو یہا ں موجود نہیں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کا ابتدائی حصہ انتہائی قابل غور ہے۔ لوگوں نے حسب و نسب، حسن و جمال، عہدہ و منصب، سیاست و سیادت، مال و دولت، بھاری تنخواہوں والی نوکریوں، دنیوی تعلیم کی ڈگریوں اور اس قسم کے دوسرے اسبابِ دنیا کو اعزاز کی علامت سمجھ رکھا ہے، بلکہ بعض شیطان تو بدمعاشی، بغاوت، ظلم، ڈاکہ زنی اور قتل تک کے جرائم کو اپنے لیے عزت کا سبب سمجھتے ہیں۔ اس بگاڑ کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے اپنے آپ کو ظاہری طور پر معزز اور بڑا ثابت کرنے کی کوشش کی اور باطن کی اصلاح کو بھول گئے، جبکہ شریعت کا قانون یہ تھا کہ اگر باطن کی اصلاح کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ شریعت کی روشنی میں ظاہر کو درست رکھا جائے تو ایسی عزتیں ملتی ہیں کہ انسان اپنی سوچوںکے مطابق ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا، لیکن کاش کہ ہماری مزاج شریعت کو اپنی مجبوری سمجھتے۔ جبکہ شریعت ِ مطہرہ کی روشنی میں اِن سب امور و اسباب میں آزمائش کا عنصر پایا جاتا ہے، رہا مسئلہ مقام ومرتبہ اور فضیلت و عظمت کا تو وہ صرف اور صرف قرآن و حدیث کا عملی طور پر لحاظ رکھنے میں پایا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4568
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23489 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23885»
حدیث نمبر: 4569
عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ (وَفِي لَفْظٍ: فِي أَيَّامِ الْحَجِّ) فَقَالَ: ((لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایام حج کے دوران ایام تشریق میں خطبہ دیا اورفرمایا: جنت میں صرف وہ آدمی داخل ہو گا جو مسلمان ہوگا اور یہ (ایام تشریق کے) ایام کھانے پینے کے دن ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4569
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 1720، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15428 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15506»
حدیث نمبر: 4570
عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي بَكْرٍ قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنَى عَلَى رَاحِلَتِهِ وَنَحْنُ عِنْدَ يَدَيْهَا قَالَ: إِبْرَاهِيمُ وَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَالَ: عِنْدَ الْجَمْرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو بکر کا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منیٰ میں لوگوں سے خطاب کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر تھے اور ہم سواری کے سامنے جمرہ کے قریب کھڑے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان خطابات کا مناسک ِ حج سے کوئی تعلق نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد تبلیغ کرنا ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۴۵۵۱)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4570
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 1952، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23144 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23532»