کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اورضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
حدیث نمبر: 4562
عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ أَبِيهِ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: أَرْخَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ النَّحْرِ فَيَرْمُوا فِي أَحَدِهِمَا (قَالَ مَالِكٌ: ظَنَنْتُ أَنَّهُ فِي الْآخِرِ مِنْهُمَا) ثُمَّ يَرْمُوا يَوْمَ النَّفْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کے چرواہوں کو یہ رخصت دے دی کہ وہ (منی سے باہر) راتیں گزار سکتے ہیں اور وہ دس ذوالحجہ کو رمی کر کے چلے جائیں، اس کے بعد آکر دو دن کی رمی ایک دن میں کرلیں اور پھر روانگی والے دن رمی کریں۔ مالک راوی نے کہا: میرا خیال ہے کہ وہ (دس ذوالحجہ کے بعد) دوسرے دن (یعنی بارہ ذوالحجہ کو رمی کریں گے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4562
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 955، وابن ماجه: 3037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24183»
حدیث نمبر: 4563
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَتَعَاقَبُوا فَيَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَدَعُوا يَوْمًا وَلَيْلَةً ثُمَّ يَرْمُوا الْغَدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چرواہوں کو یہ رخصت دی تھی کہ وہ باریاں مقرر کرلیں، دس ذوالحجہ کو رمی کر لیں، اس کے بعد ایک دن رات کا وقفہ کر کے اگلے دن آ کر رمی کرلیں۔
وضاحت:
فوائد: … اگر چرواہے کو کوئی متبادل چیز مل سکتی ہو، مثلا رات کو واپس آ جانا آسان ہو یا کسی غیر حاجی شخص سے اجرت پر یا بغیر اجرت کے تعاون لینا ممکن ہو یا مِنٰی سے ہی جانوروں کا چارہ خریدا جا سکتا ہو، جبکہ مالک کو ایسے معاوِن کے سلسلے میں امن ہو یا کسی اور جگہ سے چارہ خریدنے کی استطاعت ہو تو چرواہے کا عذر ختم ہو جائے گا اور وہ مِنٰی میں ہی رات گزارے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4563
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24184»
حدیث نمبر: 4564
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ (يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) أَنَّ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ أَيَّامَ مِنَى مِنْ أَجْلِ السِّقَايَةِ فَرَخَّصَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حجاج کرام کو زمزم کا پانی پلانے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ اجازت طلب کی وہ ایام منیٰ والی راتیں مکہ میں گزار لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔
وضاحت:
فوائد: … عبد ِ مناف، حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری ادا کرتے تھے، ان کے بعد بالترتیب بنو ہاشم، عبد المطلب اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے یہ ذمہ داری ادا کی، جب مکہ مکرمہ پر اسلام غالب آیا تو اس وقت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ہی پانی پلانے کے والی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عہدہ ان کے پاس ہیرہنے دیا۔ ذہن نشین کر لیں کہ یہ صرف شرف ہی نہیں تھا، بلکہ کچھ عرصہ پہلے تک، جب اس سرزمین میں جدید مشینیں نہیں تھیں،یہ زیادہ ضروری بھی تھا کہ کسی ایک بندے کو حجاج کرام کو پانی پلانے کا منتظم بنا دیا جائے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عذر کی بنا پر مِنٰی والی راتیں مکہ مکرمہ میں گزارنے کی اجازت دی۔ پانی پلانے کی جو صورتحال آج موجود ہے، بکثرت ٹونٹیاں لگا دی گئی ہیں، خود کار مشینیں کام کر رہی ہیں، جن کا خراب ہونا انتہائی نادر ہے، ایسی صورت میں صرف ضروری مسئول اور ملازم کو مستثنی کیا جائے گا۔ حرم مکی کے یا دوسرے ملازموں کی بھییہی صورتحال ہو گی کہ اگر مِنٰی میں راتیں گزارنے کی وجہ سے ان کی ڈیوٹی متأثر ہوتی ہو یا ان کو چھٹی نہ ملتی ہو توو ہ اپنے کام جاری رکھیں اور چرواہوں کی طرح رمی کر لیں۔ اسی طرح دوسرے معذور حضرات کا بھییہی حکم ہو گا، مثلا ایسا مریض کہ جس کا ہسپتال میںرہنا ضروری ہو، لیکنیہ ساری رخصتیں ان لوگوںکے لیے ہیں جو مِنٰی والے ایام سے پہلے والے ارکان ادا کر چکے ہوں۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاذْکُرُوْا اللّٰہَ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْیَوْمَیْنِ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنِ اتَّقٰی} … اور اللہ تعالیٰ کییاد ان گنتی کے چند دنوں میں کرو، دو دن کی جلدی کرنے والے پر بھی کوئی گناہ نہیں اور جو پیچھے رہ جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں،یہ پرہیز گار کے لیے ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۰۳) جمرات کو کنکریاں مارنا تین دن افضل ہیں،یعنی (۱۱، ۱۲، ۱۳) ذوالحجہ کے دن، لیکن اگر کوئی آدمی دو دن (اا، ۱۲ ذوالحجہ) کو کنکریاں مار کر مِنٰی سے واپس آ جائے تو اس کی بھی اجازت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4564
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1634، 1643، ومسلم: 1315، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4691»