کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
حدیث نمبر: 4545
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ: فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ وَقَالَ: ((لَا حَرَجَ)) وَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ لَا حَرَجَ قَالَ: فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ مِنَ التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ إِلَّا أَوْمَأَ بِيَدِهِ وَقَالَ: ((لَا حَرَجَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حجۃالوداع کے موقع پر ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے قربانی سے قبل سر منڈوالیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ ایک اور آدمی نے کہا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اس میں کوئی حرج نہ ہونے کا اشارہ کیا۔ اس دن ان امور کی تقدیم وتاخیر کے متعلق جس نے جو بھی بات دریافت کی، اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 4546
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الذَّبْحِ وَالرَّمْيِ وَالْحَلْقِ وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فَقَالَ: ((لَا حَرَجَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قربانی، رمی اور سر منڈوانے کی تقدیم وتاخیر کے بارے میں جو سوال بھی کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 4547
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ قَدَّمَ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا قَبْلَ شَيْءٍ فَجَعَلَ يَقُولُ: ((لَا حَرَجَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مناسکِ حج کی تقدیم وتاخیرکے متعلق جو سوال بھی کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 4548
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَمَيْتُ الْجَمْرَةَ وَأَفَضْتُ وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَحْلِقْ؟ قَالَ: ((فَلَا حَرَجَ فَاحْلِقْ)) ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: إِنِّي رَمَيْتُ وَحَلَقْتُ وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَنْحَرْ فَقَالَ: ((لَا حَرَجَ فَانْحَرْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: میں جمرہ کی رمی اور طواف افاضہ تو کر چکا ہوں، لیکن ابھی تک میں نے سر نہیں منڈوایا اور دوسرے کپڑے پہن لیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے،اب سر منڈوالو۔ ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: میں رمی اور سر منڈوانے سے فارغ ہو گیا ہوں اور دوسرا لباس پہن لیا ہے، لیکن ابھی تک قربانی نہیں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے، اب قربانی کر لو۔
حدیث نمبر: 4549
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ بِمِنَى قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الذَّبْحِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ فَقَالَ: ((اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ)) قَالَ: ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّ الذَّبْحَ قَبْلَ الرَّمْيِ فَذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: ((فَارْمِ وَلَا حَرَجَ)) قَالَ: فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ قَبْلَ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ: ((اِفْعَلْ وَلَا حَرَجَ)) قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْيِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: ((ارْمِ وَلَا حَرَجَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ میں اپنی سواری پر سوار تھے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو سمجھتا تھا کہ قربانی سے پہلے سر منڈاناہے، اس لیے میں نے قربانی سے پہلے منڈوا لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب ذبح کرلو، اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اتنے میں ایک اور آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خیال تھا کہ ذبح کرنا رمی سے پہلے ہے، اس لیے میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اب رمی کرلو۔ اس روز جس شخص نے ان امور کی تقدیم وتاخیر کے بارے میں جو سوال بھی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔ عبدالرزاق راوی نے کہا: ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سمجھتا تھا کہ رمی سے پہلے سر منڈوانا ہے، اس لیے میں نے رمی سے پہلے سر منڈٖوالیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب رمی کرلو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 4550
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَلَقَ وَجَلَسَ لِلنَّاسِ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ: ((لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ)) حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ قَالَ: ((لَا حَرَجَ)) ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: ((لَا حَرَجَ)) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَرَفَةُ مَوْقِفٌ وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَمِنَى كُلُّهَا مَنْحَرٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانیوں سے فارغ ہو کر لوگوں کے لیے بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی بھی امر کی تقدیم وتاخیرکے بارے میں جو سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے، کوئی حرج نہیں ہے۔‘ یہاں تک کہ ایک آدمی نے آکر کہا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوالیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ بعد ازاں ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: میں نے رمی سے پہلے سر منڈوالیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارا عرفہ وقوف کی جگہ ہے، سارا مزدلفہ جائے وقوف ہے اور سارا منیٰ قربان گاہ ہے اور مکہ کی تمام گلیاں راستے اور قربان گاہیں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … دس ذوالحجہ کو مزدلفہ سے واپس آ کر کل چار امور سرانجام دیئے جاتے ہیں، ان کی مسنون ترتیبیہ ہے: ۱۔ جمرۂـ عقبہ کی رمی ۲۔ہدی ذبح یا نحر کرنا ۳۔ حجامت بنوانا، تحلیق کی جائے یا تقصیر ۴۔ طوافِ افاضہ
جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اگر یہ افعال اس ترتیب کے ساتھ سرانجام نہ دیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے، اگرچہ کوئی جان بوجھ کر ایسا کر رہا ہو یا بھول کر یا جہالت کی وجہ سے۔ درج بالا احادیث سے اسی رائے کی تائید ہوتی ہے۔
مسنون ترتیب کی بہرحال اہمیت ہے، اس لیے قصداً تو اس کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے، ہاں بھولنے یا بے علمی کی وجہ سے ترتیب بدل جائے تو الگ بات ہے۔ (عبداللہ رفیق)
جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اگر یہ افعال اس ترتیب کے ساتھ سرانجام نہ دیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے، اگرچہ کوئی جان بوجھ کر ایسا کر رہا ہو یا بھول کر یا جہالت کی وجہ سے۔ درج بالا احادیث سے اسی رائے کی تائید ہوتی ہے۔
مسنون ترتیب کی بہرحال اہمیت ہے، اس لیے قصداً تو اس کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے، ہاں بھولنے یا بے علمی کی وجہ سے ترتیب بدل جائے تو الگ بات ہے۔ (عبداللہ رفیق)