کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4529
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: حَلَقَ رِجَالٌ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَقَصَّرَ آخَرُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: ((يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: ((يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: ((وَالْمُقَصِّرِينَ)) قَالُوا: فَمَا بَالُ الْمُحَلِّقِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ظَاهَرْتَ لَهُمُ الرَّحْمَةَ؟ قَالَ: ((لَمْ يَشُكُّوا)) قَالَ: فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حدیبیہ والے دن کچھ لوگوں نے سر منڈوا دیا اور کچھ نے تقصیر کروائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی مونڈنے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کروانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی مونڈنے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کروانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اللہ تعالی مونڈنے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کروانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بار فرمایا: اور تقصیر کروانے والوں پر بھی اللہ رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈوانے والوں کے لیے رحمت کا بڑا اظہار کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انھوں نے تو کوئی شک نہیں کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ ’’سرمونڈنے والوں نے تو کوئی شک نہیں کیا۔‘‘اس کا مفہوم یہ ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی ہی کو اچھا سمجھا اور اس معاملے میں کوئی شک نہیں کیا، لیکن جن لوگوں نے تقصیر کروائی، ظاہری طور پر ایسے لگتا ہے کہ گویا ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل کے بارے میں کوئی شک ہوا ہے کہ انھوں نے تقصیر کروائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل کو ترک کر دیا۔ واضح رہے کہ اس مقام پر صرف سر منڈوانے والوں کی فضیلت بیان کی جا رہی ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل کی اقتدا کی، جبکہ تقصیر کروانے والوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دی گئی رخصت سے ہی فائدہ اٹھایا، جبکہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ سرمنڈوانا افضل ہے، لیکن ظاہری طور پر انھوں نے اس افضیلت کے تقاضے پورے نہیں کیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4529
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔أخرجه ابن ماجه: 3045 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3311»
حدیث نمبر: 4530
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ)) فَقَالَ رَجُلٌ: وَلِلْمُقَصِّرِينَ؟ فَقَالَ: ((اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ)) فَقَالَ الرَّجُلُ: وَلِلْمُقَصِّرِينَ؟ فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ: ((وَلِلْمُقَصِّرِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ ایک آدمی نے کہا: اور تقصیر کرانے والوں کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ اس بندے نے کہا: اور تقصیر کرنے والوں کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری اور چوتھی بار کہا: اور تقصیر کرانے والوں کو بھی بخش دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4530
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1859»
حدیث نمبر: 4531
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ حَلَّقُوا رُؤُوسَهُمْ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ غَيْرَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَأَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ والے سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے اپنے سروں کو منڈوایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈوانے والوں کے لیے تین دفعہ اور تقصیر کروانے والوں کے لیے ایک دفعہ بخشش کی دعا کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4531
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف أخرجه ابويعلي: 1263، والطيالسي: 2224، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 1369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11847 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11869»
حدیث نمبر: 4532
عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ: سَمِعْتُ جَدَّتِي تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنَى دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقِيلَ لَهُ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ: ((وَالْمُقَصِّرِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ یحییٰ بن حصین کہتے ہیں: میں نے اپنی دادی(سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا ) سے سنا کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منی میں سر منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا کرتے ہوئے سنا۔ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری بار فرمایا: اور تقصیر کرانے والوں کو بھی اللہ بخش دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4532
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27810»
حدیث نمبر: 4533
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ جَدَّتِي تَقُولُ سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ يَخْطُبُ يَقُولُ: ((غَفَرَ اللَّهُ لِلْمُحَلِّقِينَ)) ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ فَقَالَ: ((وَالْمُقَصِّرِينَ)) فِي الرَّابِعَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ان کی دادی کہتی ہیں: میں نے عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبے میں تین مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اللہ تعالی سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ لوگوں نے کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوتھی بار فرمایا: اور تقصیر کرانے والوں کو بھی بخش دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4533
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27806»
حدیث نمبر: 4534
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ جَدَّتِهِ قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: ((يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا فِي الثَّالِثَةِ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: ((وَالْمُقَصِّرِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ان کی دادی کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالی سر منڈوانے والوں پر رحم کرے، اللہ تعالی سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے تیسری مرتبہ کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور تقصیر کرانے والوں پر بھی رحم کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4534
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27803»
حدیث نمبر: 4535
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: ((رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ)) قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: ((وَالْمُقَصِّرِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کرانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوتھی بار فرمایا: اور تقصیر کرانے والوں پر بھی اللہ تعالی رحم فرمائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4535
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1727، ومسلم: 1301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4657 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4657»
حدیث نمبر: 4536
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: ((اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: ((وَالْمُقَصِّرِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کرانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کرانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ لوگوں نے کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور تقصیر کرانے والوں کو بھی بخش دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4536
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1728، ومسلم: 1302، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7158»
حدیث نمبر: 4537
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: ((اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ)) قَالَ: يَقُولُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ: ((وَالْمُقَصِّرِينَ)) ثُمَّ قَالَ: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَمَا يَسُرُّنِي بِحَلْقِ رَأْسِي حُمْرُ النَّعَمِ أَوْ خَطَرًا عَظِيمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے، اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ قوم میں سے ایک بندے نے کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا: اور تقصیر کرانے والوں کو بھی بخش دے۔ میں (مالک) نے اس دن اپنا سر مونڈا ہوا تھا اور مجھے اس وجہ سے اتنی خوشی ہوئی کہ سرخ اونٹوں کے ملنے یا کوئی بڑا حصہ ملنے کی وجہ سے اتنی خوشی نہیں ہو سکتی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4537
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 604، وفي ’’الاوسط‘‘: 2935، وابن ابي شيبة: ص 217 في الجزء الذي نشره العمروي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17741»
حدیث نمبر: 4538
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا: ثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ يَحْيَى: وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: ((اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: ((وَالْمُقَصِّرِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ ، جو کہ حجۃ الوداع کے موقع پر موجود تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کرانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کرانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیسری مرتبہ فرمایا: اور تقصیر کرانے والوں کو بھی بخش دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4538
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3509، والطبراني: 3510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17507 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17648»
حدیث نمبر: 4539
عَنِ ابْنِ قَارِبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ)) قَالَ رَجُلٌ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: ((وَالْمُقَصِّرِينَ)) يُقَلِّلُهُ سُفْيَانُ بِيَدِهِ قَالَ سُفْيَانُ: وَقَالَ فِي تِيكَ كَأَنَّهُ يُوَسِّعُ يَدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قارب بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ ایک آدمی نے کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوتھی مرتبہ فرمایا: اور تقصیر کرانے والے کو بھی بخش دے۔ سفیان اپنے ہاتھ کے ساتھ کمی اور قلت کی طرف اشارہ کر رہے تھے، لیکن جب (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر منڈوانے والوں کی بات کر رہے تھے) تو وہ اپنے ہاتھ سے وسعت کا اشارہ کر رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کے الفاظ اور ان کی مقدار تو ہمارے سامنے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈوانے والوں کے لیے دو تین مرتبہ اور تقصیر کرانے والوں کے لیے ایک مرتبہ دعا کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انداز سے معلوم ہو رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اول الذکر لوگوں کے لیے بڑی رغبت کے ساتھ اور وسعت ِ قلبی سے دعا کر رہے تھے، لیکن مؤخر الذکر افراد کے لیے سادہ سے الفاظ میں دعائیہ کلمات کہہ دیئے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلَی النِّسَائِ الْحَلْقُ، اِنَّمَا عَلَی النِّسَائِ التَّقْصِیْرُ۔)) … ’’عورتوں پر سر کا مونڈنا نہیں ہے، بلکہ عورتوں پر صرف تقصیر ہے۔‘‘ (ابوداود: ۱۹۸۵) عام اہل علم کا خیال ہے کہ عورتوں کو انگلیوں کے اوپر والے پوروں کے برابر بال ترشوا لینے چاہئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4539
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه البزار: 1135، والحميدي في ’’مسنده‘‘: 931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27202 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27744»