کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4512
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ عَلَى دَابَّتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ وَكَانَ لَا يَأْتِي سَائِرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا مَاشِيًا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَأْتِيهَا إِلَّا مَاشِيًا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر آتے تھے اور باقی دنوں میں پیدل آتے جاتے تھے، ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پیدل آتے جاتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ افضل یہ ہے کہ نحر والے دن رمی کرنے کے لیے سوار ہو کر جایا جائے اور باقی دنوں میں پیدل۔
حدیث نمبر: 4513
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو سوار ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کی تھی۔
حدیث نمبر: 4514
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ يَقُولُ: ((لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي أَنْ لَا أَحُجَّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس ذوالحجہ کو سواری پر رمی کرتے اور فرماتے تھے: اپنے مناسک سیکھ لو، کیونکہ میں نہیں جانتا، شاید میں اپنے اس حج کے بعد حج نہ کر سکوں۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ وضاحت کرنا چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آ چکا ہے، اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت سے فائدہ اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر توجہ دیں اور اس ضمن میں کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیں اور ایسے ہی ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحجہ کے بقیہ دن اور محرم اور صفر کے بعد ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔
حدیث نمبر: 4515
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لِتَأْخُذْ أُمَّتِي مَنَاسِكَهَا وَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے امتی مناسک کی تعلیم حاصل کر لے اور (چنے یا لوبیا وغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کرو۔
حدیث نمبر: 4516
عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكِلَابِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ لَا ضَرْبَ وَلَا طَرْدَ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قدامہ بن عبد اللہ کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو اپنی صہباء نامی اونٹنی پر سوار ہو کر وادی کے درمیان سے جمرۂ عقبہ کی رمی کی، اس وقت نہ تو مارنا تھا، نہ دھتکارنا تھا اور نہ یہ کہنا تھا کہ پرے ہٹ جاؤ، پرے ہٹ جاؤ۔
حدیث نمبر: 4517
عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ (الْأَحْمَسِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) قَالَتْ: حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَبِلَالًا وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام حصین احمسیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا، میں نے سیدنا اسامہ بن زید اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان میں سے ایک نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی لگام تھام رکھی تھی اور دوسرا کپڑا اٹھائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گرمی سے بچا رہا تھا، اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث ِ مبارکہ اپنے مفہوم میں واضح ہیں، آج کل سواری پر رمی کرنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔