حدیث نمبر: 4500
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا سُفْيَانُ وَمِسْعَرٌ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ لَنَا مِنْ جَمْعٍ قَالَ سُفْيَانُ: بِلَيْلٍ فَجَعَلَ يَلْطَخُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ: ((أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ)) وَزَادَ سُفْيَانُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا إِخَالُ أَحَدًا يَعْقِلُ يَرْمِي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کے لڑکوں کومزدلفہ سے رات ہی کو گدھوں پر سوار کر کے روانہ کردیا تھا، سفیان کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری رانوں پر تھپکی دیتے اور فرماتے: میرے پیارے بیٹو ! سورج طلوع ہونے تک جمرہ کو کنکریاں نہ مارنا۔ سفیان نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی عقلمند آدمی طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرتا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۴۴۸۸) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ خواتین نے نماز فجر سے پہلے کنکریاں مار لی تھیں، جبکہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم دے رہے ہیں کہ طلوع آفتاب سے پہلے رمی نہیں کی جا سکتی، ان روایات میں جمع تطبیق کی دو صورتیں ہی ہو سکتی ہیں: (۱) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم یہی ہے کہ مزدلفہ سے وقت سے پہلے چلے جانے والے معذور لوگ طلوع آفتاب کے بعد ہی رمی کریں، لیکن جن خواتین سے فجر سے پہلے رمی کی تھی،یہ ان کا ذاتی اجتہاد تھا اور یہ کوئی بعید بات نہیں، کیونکہ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ان کو مزدلفہ سے رات کو نکل جانے کی اجازت دی ہو، لیکن انھوں نے اس سے یہ استدلال کر لیا ہو کہ وہ مِنٰی پہنچ کر رمی بھی کر سکتے ہیں، اگرچہ وہ طلوع آفتاب، بلکہ طلوع فجر سے پہلے کا وقت ہو۔ (۲) جو خواتین و حضرات زیادہ بوڑھے اور زیادہ معذور ہوں اور وہ ہجوم کو برداشت نہ کر سکتے ہوں تو وہ طلوع آفتاب سے پہلے بھی رمی کر سکتے ہیں، باقی عام معذور لوگوں کو چاہیے کہ وہ سورج کے نکلنے کے بعد ہی کنکریاں ماریں۔
’’یہ ان کا ذاتی اجتہاد تھا‘‘ اصل بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ فجر سے پہلے رمی کرنے والوں نے اجتہاد سے کام لیا ہے پھر موقوف روایت اور مرفوع کے درمیان بنیادی طور پر تعارض نہیں ہوتا۔ تعارض مرفوع صحیح روایات کے درمیان سمجھا جاتا ہے جس کو حل کرنے کے لیے توجیہیا ترجیح وغیرہ کی صورت اختیار کی جاتی ہے۔ اس جگہ مرفوع بات یہ ہے کہ آپ
’’یہ ان کا ذاتی اجتہاد تھا‘‘ اصل بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ فجر سے پہلے رمی کرنے والوں نے اجتہاد سے کام لیا ہے پھر موقوف روایت اور مرفوع کے درمیان بنیادی طور پر تعارض نہیں ہوتا۔ تعارض مرفوع صحیح روایات کے درمیان سمجھا جاتا ہے جس کو حل کرنے کے لیے توجیہیا ترجیح وغیرہ کی صورت اختیار کی جاتی ہے۔ اس جگہ مرفوع بات یہ ہے کہ آپ
حدیث نمبر: 4501
عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهِ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنَى يَوْمَ النَّحْرِ فَرَمَوْا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دس ذوالحجہ کو اپنے اہل کے ساتھ منیٰ کی طرف روانہ کیا تھا، ان حضرات نے فجر ہوتے ہی رمی کرلی تھی۔
حدیث نمبر: 4502
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعُقْبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَرَمَى فِي سَائِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ مَا زَالَتِ الشَّمْسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کی رمی چاشت کے وقت کی تھی اور باقی ایام تشریق میں زوالِ آفتاب کے بعد کی تھی۔
حدیث نمبر: 4503
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ الْأُولَى يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَرَمَاهَا بَعْدَ ذَلِكَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو چاشت کے وقت جمرۂ اولی کی رمی کی تھی اور اس کے بعد (باقی دنوں میں) زوالِ آفتاب کے بعد کی تھی۔
حدیث نمبر: 4504
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: وَلَا أَدْرِي بِكَمْ رَمَى الْجَمْرَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ آپ نے جمرہ کو کتنی کنکریاں ماریں تھیں۔
حدیث نمبر: 4505
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تُوَافِيَ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمَكَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھاکہ وہ دس ذوالحجہ کو صبح کی نماز کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مکہ میں آ ملیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں واقعی کسی راوی سے کوئی خطا ہو گئی ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو نمازِ فجر مزدلفہ میں ادا کی تھی۔ امام احمد نے کہا: یہ بات تو تعجب میں ڈال دینے والی ہے، بھلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو مکہ میں کیا کرنا تھا۔ یہ بھی احتما ہے ل کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہو گئی ہو اور اصل عبارت یوں ہوں: أَمَرَھَا یَوْمَ النَّحْرِ أَنْ تُوَافِیَ مَعَہُ صَلَاۃَ الصُّبْحِ بِمَکَّۃَ،یعنییوم النحر کے بعد والے دن ملاقات کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا۔
حدیث نمبر: 4506
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيُّ قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءً وَابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ وَعِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ رَحِمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا أَبَا سُلَيْمَانَ فِي أَيِّ سَنَةٍ سَمِعْتَ مِنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ؟ قَالَ: سَنَةَ تِسْعٍ وَسِتِّينَ سَنَةَ وَقْعَةِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ نافع بن عمر جمحی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عطا ء، ابن ابی ملیکہ اور عکرمہ بن خالد کو دیکھا،یہ سب لوگ دس ذوالحجہ کو فجر سے پہلے رمی کرلیتے تھے۔امام احمدنے ان سے کہا: ابو سلیمان! آپ نے یہ بات نافع بن عمر سے کس سال سنی تھی؟ انہو ں نے کہا: ۶۹ھ میں، جس سال سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … حجاج کرام سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہو جائیں اور تقریباً چاشت کے وقت مِنٰی میں پہنچ جائیں گے اور اسی وقت جمرۂ عقبہ کی رمی کریں گے، جو معذور لوگ پہلے سے مِنٰی پہنچ چکے ہوں گے، وہ حجاج کرام کے بڑے ہجوم کے پہنچنے سے پہلے لیکن طلوع آفتاب کے بعد رمی کریں گے۔