کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
حدیث نمبر: 4488
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا نَزَلَتْ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ لَيْلَةَ جَمْعٍ وَهِيَ تُصَلِّي قُلْتُ: لَا فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قَالَ: وَقَدْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَتْ: فَارْتَحِلُوا فَارْتَحَلْنَا ثُمَّ مَضَيْنَا بِهَا حَتَّى رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا: أَيْ هَنْتَاهُ لَقَدْ غَلَّسْنَا قَالَتْ: كَلَّا يَا بُنَيَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے اسماء عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا لوگوں کے ٹھہرنے والی جگہ کے پاس ٹھہری ہوئی تھیں، وہ یہ پوچھتی تھیں: چھوٹے بیٹے! کیا چاند غروب ہوگیا ہے؟ یہ مزدلفہ کی رات کا واقعہ تھا اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے کہا: جی نہیں، پھر انہوں نے کچھ دیر نماز پڑھی اور پوچھا: بیٹا ! کیا چاند غروب ہو گیا ہے؟ اس وقت چاند غروب ہوچکا تھا،میں نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر انھوں نے کہا: چلو چلیں، چنانچہ ہم چل پڑے اور جا کر جمرۂ عقبہ کی رمی کی، اس کے بعد انہوں نے واپس آکر اپنی منزل پر نمازِ فجر ادا کی، میں نے عرض کیا ! محترمہ ہم نے تو بہت زیادہ جلدی کی ہے، وہ بولیں: بیٹے! بالکل نہیں، اللہ کے نبی نے کمزور خواتین کو اس کی اجازت دی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … (۱۰) تاریخ کو چاند تقریباً دو تہائی رات کے تھوڑی دیر بعد غروب ہو جاتا ہے لیکن حدیث نمبر (۴۵۰۰) میں آ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن لوگوں کو رات کو مزدلفہ سے جانے کی رخصت دے دی تھی، ان کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ انھوں نے طلوع آفتاب کے بعد رمی کرنی ہے۔ اس کا جواب محولہ حدیث کے فوائد میں دیکھیں۔
حدیث نمبر: 4489
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَعَفَةَ بَنِي هَاشِمٍ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَجَّلُوا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی ہاشم کے کمزور لوگوں کو حکم دیاکہ وہ رات ہی کو مزدلفہ سے جلدی روانہ ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 4490
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خاندان کے جن کمزور لوگوں کو مزدلفہ کی رات کو ہی وہاں سے پہلے بھیج دیا تھا، میں بھی ان میں تھا، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خاندان کے ضعیف لوگوں کو پہلے بھیج دیا تھا۔
حدیث نمبر: 4491
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ کی رات کو مجھے بھی کمزور اور بھاری بھر کم لوگوں کے ساتھ (منی کے لیے) بھیج دیا تھا۔
حدیث نمبر: 4492
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَاسِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ سَوْدَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا امْرَأَةً ثَبِطَةً ثَقِيلَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَفِيضَ فَأَذِنَ لَهَا قَالَتْ عَائِشَةُ: وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي وَكَانَ الْقَاسِمُ يَكْرَهُ أَنْ يُفِيضَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بھاری جسم والی خاتون تھیں، اس لیے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ مزدلفہ میں فجر کے بعد والے وقوف سے قبل ہی منیٰ کو روانہ ہوجائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جانے کی اجازت دے دی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں یہ پسند کر رہی ہوں کہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کر لیتی تو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بھی اجازت دے دیتے۔ قاسم مزدلفہ کے وقوف سے قبل منیٰ کی طرف جانے کواچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 4493
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّمَا أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فِي الْإِفَاضَةِ قَبْلَ الصُّبْحِ مِنْ جَمْعٍ لِأَنَّهَا كَانَتْ امْرَأَةً ثَبِطَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند )سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو مزدلفہ سے نمازِ فجر سے پہلے روانہ ہو جانے کی اجازت دی تھی، کیونکہ وہ بھاری جسم والی تھیں۔
حدیث نمبر: 4494
عَنِ ابْنِ شَوَّالٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَهَا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابن شوال کہتے ہیں کہ وہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو رات کو ہی مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کردیا تھا۔
حدیث نمبر: 4495
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِضَعَفَةِ النَّاسِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمزور لوگوں کو اجازت دی تھی کہ وہ رات کو ہی مزدلفہ سے چلے جائیں۔
وضاحت:
فوائد: … حجاج کرام طلوع آفتاب سے کچھ دیر پہلے مزدلفہ سے روانہ ہوتے ہیں، لیکن معذور لوگوں کو رات کو جانے کی اجازت ہے، تاکہ وہ ہجوم کی تکلیف سے بچ جائیں۔ لیکن اس بات پر اہل علم کا اجماع ہے کہ یہ معذور افراد رات کے ابتدائی حصے میں نہیں جا سکتے۔ اس باب کی پہلی حدیث میں جو قانون بیان کیا گیا ہے، اس پر عمل کرنا چاہے، یعنی جب ایک تہائی رات باقی رہ جائے تو اس وقت معذور لوگوں کو مزدلفہ سے جانا چاہیے۔