کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4484
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ وَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَقَالَ: ((هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ)) ثُمَّ دَفَعَ وَجَعَلَ يَسِيرُ الْعَنَقَ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ: ((السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ)) حَتَّى جَاءَ مُحَسِّرًا فَقَرَعَ رَاحِلَتَهُ فَخَبَّتْ حَتَّى خَرَجَ ثُمَّ عَادَ لِسَيْرِهِ الْأَوَّلِ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ … الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں تشریف لائے اور مغرب اور عشاء کی دو نمازیں جمع کر کے ادا کیں اور وہیں وقوف کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قزح پر وقوف کیا اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور فرمایا: یہ میری ٹھہرنے کی جگہ ہے، لیکن مزدلفہ سارے کا سارا ہی جائے وقوف ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے چل دیئے اور کچھ تیزی سے چلنا شروع کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ لوگ دائیں بائیں نکلے جارہے تھے، تو ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: آرام سے، لوگو! آرام سے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ محسر تک آپہنچے پھر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری کو ہانکا، پس وہ دوڑ پڑی،یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی سے باہر آگئے اور اپنی پہلی رفتار کے ساتھ چلنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی کی۔
حدیث نمبر: 4485
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعْنَا (وَفِي لَفْظٍ حِينَ دَفَعُوا): ((عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ)) وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنَى حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا (وَفِي لَفْظٍ: حَتَّى إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنَى) قَالَ: ((عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ)) وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح کو جب ہم روانہ ہوئے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سکون سے چلو۔ اور آپ اپنی اونٹنی کو بھی تیزچلنے سے روک رہے تھے، یہاں تک کہ جب آپ وادیٔ محسر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (چنے یا لوبیاوغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کرو، جن سے جمرے کو مارا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کر رہے تھے، جیسے انسان اس حجم کی کنکری پھینکتا ہے۔
حدیث نمبر: 4486
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سکینت سے جارہے تھے اور لوگوں کو بھی یہی حکم دے رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ جمرے کو مارنے کے لیے(چنے یا لوبیا وغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وادیٔ محسر کو عبور کرتے وقت سواری کو تیز دوڑایا تھا۔
حدیث نمبر: 4487
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((ارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ وَعَلَيْكُمْ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وادیٔ محسر سے دور رہو (اور وہاں سے کنکریاں مت اٹھاؤ) اور تم (چنے یا لوبیا وغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کرو۔
وضاحت:
فوائد: … تمام احکام پہلے گزر چکے ہیں اور واضح بھی ہیں۔