کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 4476
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى جَمْعًا فَصَلَّى بِهِمِ الصَّلَاتَيْنِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ أَتَى قُزَحَ فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ فَقَالَ: ((هَذَا الْمَوْقِفُ وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ)) ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَرَعَ نَاقَتَهُ فَخَبَّتْ حَتَّى جَاوَزَ الْوَادِي ثُمَّ حَبَسَهَا ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ وَسَارَ حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ فَقَالَ: ((هَذَا الْمَنْحَرُ وَمِنَى كُلُّهَا مَنْحَرٌ … )) الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں تشریف لائے، آپ نے وہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں،پھر وہیں رات گزاری،یہاں تک کہ صبح ہو گئی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قزح پر گئے اور وہاں وقوف کیا اور فرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہے، تا ہم سارا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے۔۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ محسر تک آئے، وہاں آکر رک گئے اور پھر اپنی اونٹنی کو ہانکا، وہ دوڑ پڑی اور دوڑتی گئی،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وادی کو عبور کرگئے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹنی کو روک کر سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کرلیا اور چلتے چلتے جمرہ عقبہ پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی رمی کی اور اس کے بعد قربان گاہ میں تشریف لے گئے اور فرمایا: یہ قربان گاہ ہے (جہاں میں نے قربانیاں کی ہیں) اور منی سارے کا سارا ہی قربانی کی جگہ ہے، … ۔
وضاحت:
فوائد: … قُزَح ایک پہاڑ کا نام ہے، اسی کو مشعرِ حرام کہتے ہیں۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب فجر طلوع ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ نمازِ فجر ادا کی، پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئی اور مشعرِ حرام کے پاس آ گئے، وہاں آ کر قبلہ رخ ہوئے اور دعا، تکبیراور تہلیل اور ایسے اذکار میں مصروف ہو گئے، جن میں اللہ تعالی کے ایک ہونے کا اقرار کیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں کھڑے رہے، یہاں تک کہ بہت زیادہ روشنی ہو گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے چل پڑے اور سیدنا فضل کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔
(صحیح مسلم)
ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِذَا اَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْکُرُوْا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰکُمْ} … ’’جب تم عرفات سے لوٹ تو مشعر حرام کے پاس ذکر الٰہی کرو اور اس کا ذکر کرو جیسے کہ اس نے تمہیں ہدایت دی۔ ‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۹۸)اگرچہ مزدلفہ میں مشعرِ حرام ایک پہاڑ کا نام ہے، لیکن اس آیت میں پورے مزدلفہ کو ہی مشعرحرام کہا جا رہا ہے اور حکم دیا جا رہا ہے کہ اس کے وقوف کے دوران ذکر ِ کثیر کا اہتمام کیا جائے۔وادیٔ محسر وہ جگہ ہے، جہاں ہاتھی والوں کو ہلاک کیا گیا تھا، سورۂ فیل میں اسی لشکر کا ذکر ہے، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وادی سے تیزی کے ساتھ گزر گئے تھے اور ایسا کرنا ہی مسنون ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4476
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 1922، 1935، والترمذي: 885 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 562 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 562»
حدیث نمبر: 4477
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ قَالَ: فَرَأَى النَّاسَ يُوْضِعُونَ فَأَمَرَ مُنَادِيَهُ فَنَادَى: لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا، جبکہ وہ عرفہ سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ لوگ اپنی سواریوں کو تیز دوڑا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان کرنے والے کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا: گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز دوڑانا نیکی نہیں ہے، تم آرام آرام سے چلو۔
وضاحت:
فوائد: … اس روایت کے ’’مِنْ عَرَفَۃَ‘‘ کے الفاظ کسی راوی کی غلطی کا نتیجہ ہیں، اصل میں یہ الفاظ یوں تھے: ’’مِنْ جَمْعٍ‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد وغیرہ کی محفوظ روایات کے مطابق عرفہ سے مزدلفہ تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھنے والے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ تھے اور مزدلفہ سے آگے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ تھے، جبکہ مسند احمد کی دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں مزدلفہ سے آگے کا سفر بیان کیا جا رہا ہے، اس لیے ہم نے ’’مِنْ جَمْعٍ‘‘ کے الفاظ کو درست قرار دیا، مزدلفہ کو ’’جَمْعٍ‘‘ کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4477
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1803 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1803»
حدیث نمبر: 4478
عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانُوا يَقِفُونَ حَافَتَي النَّاسِ حَتَّى يُعَلِّقُونَ الْعِصِيَّ وَالْجِعَابَ وَالْقِعَابَ فَإِذَا نَفَرُوا تَقَعْقَعَتْ تِلْكَ فَنَفَرُوا بِالنَّاسِ قَالَ: وَلَقَدْ رُؤِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ ذِفْرَي نَاقَتِهِ لَيَمَسُّ حَارِكَهَا وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سواریوں کو تیز دوڑانے کی ابتدا دیہاتی لوگوں نے کی تھی، وہ دوسرے لوگوں کی گزرگاہ کے دونوں طرف کھڑے ہو جاتے اور انھوں نے اپنی سواریوں کے ساتھ لاٹھیاں، ترکش اور بڑے پیالے لٹکائے ہوتے، پھر جب وہ چلتے تو ان اشیاء سے آوازیں پیداہوتیں اور جانور ان آوازوں کو سن کر تیز دوڑنا شروع کر دیتے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس موقع پر یوں دیکھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی کو روکنے کے لئے اس کی مہار کو اپنی طرف کھینچے ہوئے تھے اور اونٹنی کے کان اس کے کندھے کی ہڈی کو لگ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے جاتے تھے: لوگو! آرام سے چلو، لوگو! سکینت کو لازم پکڑو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4478
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابن خزيمة: 2863، والبيھقي: 5/ 126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2193 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2193»
حدیث نمبر: 4479
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِجَمْعٍ فَلَمَّا أَضَاءَ كُلُّ شَيْءٍ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَفَاضَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا، جب سورج طلوع ہونے سے قبل ہر چیزروشن ہوگئی،تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے چل پڑے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4479
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، وھذا اسناد ضعيف ۔ أخرجه الترمذي: 895 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3020 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3020»
حدیث نمبر: 4480
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا عُمَرُ بِجَمْعٍ الصُّبْحَ ثُمَّ وَقَفَ وَقَالَ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عمروبن میمون کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں مزدلفہ میں نمازِ فجر پڑھائی اور اس کے بعدانہوں نے وقوف کیااور کہا: مشرکین طلوع آفتاب سے قبل یہاں سے روانہ نہیں ہوتے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مخالفت کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ طلوع سے قبل ہی وہاں سے چل پڑے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4480
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1684، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 84 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 84»
حدیث نمبر: 4481
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيرٍ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: أَشْرِقْ ثَبِيرُ كَيْمَا نُغِيرْ، يَعْنِي فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مشرکین اس وقت تک مزدلفہ سے روانہ نہیں ہوتے تھے، جب تک سورج ثبیر پہاڑ سے طلوع نہ ہوجاتا تھا۔ عبدالرزاق نے کہا کہ وہ کہا کرتے تھے: اے ثبیر! سورج کو طلوع کر کے زمین کو روشنی کر تاکہ ہم منیٰ میں جاکر قربانیاں کریں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہو گئے۔
وضاحت:
فوائد: … ثبیر معروف پہاڑ ہے، بلکہ مکہ مکرمہ کا سب سے بڑا پہاڑ ہے، ہذیل قبیلے کے ثبیر نامی آدمی کو اس پہاڑ میں دفن کیا گیا تھا، اس وجہ سے اس کا نام ثبیر پڑ گیا۔مِنی کی طرف جاتے ہوئے بائیں طرف یہ پہاڑ پڑتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4481
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 275»
حدیث نمبر: 4482
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ فَقِيلَ: أَعْرَابِيٌّ هَذَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا؟ سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ: ((لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو تلبیہ پکارا، لیکن ان کے بارے میں یہ کہا گیا: کیایہ بدّو ہے (کہ اب تلبیہ کہہ رہا ہے)؟ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ لوگ بھول گئے ہیں یا گمراہ ہوگئے ہیں ؟ جس ہستی پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی ‘میں نے اس کو اس مقام پر لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ کہتے ہوئے سنا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورۂ بقرہ کا خاص طور پر ذکر کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سورت مناسک ِ حج کے بڑے بڑے مناسک پر مشتمل ہے، نیز سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات پر ہونے والے اعتراض کا کتنی خوبصورتی کے ساتھ جواب دیا، عالم اور مفتی لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4482
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1283، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3549»
حدیث نمبر: 4483
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنَى فَبَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ إِذْ عَرَضَ لَهُ أَعْرَابِيٌّ مُرْدِفًا ابْنَةً لَهُ جَمِيلَةً وَكَانَ يُسَايِرُهُ قَالَ: فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا فَنَظَرَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَلَبَ وَجْهِي عَنْ وَجْهِهَا ثُمَّ أَعَدْتُ النَّظَرَ فَقَلَبَ وَجْهِي عَنْ وَجْهِهَا حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا وَأَنَا لَا أَنْتَهِي فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مزدلفہ سے منٰی کی طرف واپسی کے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوارتھا ‘ اسی دوران ایک اعرابی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا، اس نے سواری پراپنے ساتھ اپنی ایک خوبصورت بیٹی کو سوارکیا ہوا تھا اور وہ دوران سفر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا، میں بار بار اس لڑکی کی طرف دیکھنے لگا، لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا، میں نے پھر اس کی طرف دیکھا تو آپ نے پھر میرا چہرہ دوسری طرف کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ اسی طرح کیا، جبکہ میں باز نہ آ رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔
وضاحت:
فوائد: … مزدلفہ کو ’’جَمْع‘‘ اور مشعرِ حرام بھی کہتے ہیں۔ اِن دو ابواب کی احادیث میں بیان کیے گئے احکام بالکل واضح ہیں، فوائد میں حسب ِ ضرورت وضاحت ہو چکی ہے، ان کا خلاصہ یہ ہے: حجاج کرام عشاء کے وقت مزدلفہ میں پہنچ کر مغرب و عشاء کی قصر نمازیں جمع کر کے ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ادا کریں گے، بعد ازاں آرام کریں گے اور نماز فجر کو اس کے اول وقت میں ادا کر کے طلوع آفتاب کے قریب تک ذکر میں مصروف ہو جائیں گے، وقوف مزدلفہ کا کوئی مخصوص ذکر نہیں ہے، بہرحال تلبیہ، تکبیر اور تہلیل جیسے اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے، امام کو چاہیے کہ وہ مزدلفہ میں نماز فجر ادا کے قزح پہاڑ کے پاس آ جائے، پھر طلوع آفتاب سے پہلے پہلے مزدلفہ سے مِنٰی کی طرف روانہ ہو جائیں۔ یہ سفر بھی سکون اور وقار کے ساتھ ہونا چاہیے، البتہ وادیٔ محسر کو تیزی کے ساتھ عبور کرنا چاہیے۔ مزدلفہ سے روانہ ہونے کے مزید احکام اگلے ابواب میں آ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4483
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1805 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1805»