کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4467
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4468
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب اور عشاء کی نماز ایک اقامت کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 4469
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ، صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو، جمع کرکے مغرب کی تین اورعشاء کی دو رکعتیں، ایک ہی اقامت کے ساتھ ادا کیاتھا۔
حدیث نمبر: 4470
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِجَمْعٍ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ قَالَ: فَسَأَلَهُ خَالِدُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ هَذَا فِي هَذَا الْمَكَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن مالک کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مزدلفہ میں نماز ادا کی، انہوں نے مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں ایک اقامت کے ساتھ ادا کیں، جب خالد بن مالک نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقام پر ایسے ہی کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4471
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى جَمْعٍ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَمَضَى ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ كَمَا فَعَلْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، جب وہ عرفات سے مزدلفہ پہنچے تو انہوں نے مغرب کی نماز پڑھائی اور کوئی وقفہ کیے بغیر پھر کہہ دیا کہ (عشاء کی) نماز پڑھتے ہیں، پھرانھوں نے دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر کہا: جس طرح میں نے کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقام پر اسی طرح کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … درج بالا بعض احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک اقامت کے ساتھ ادا کی گئیں، لیکن درج ذیل احادیث میں دو اقامتوں کا ذکر ہے:سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ((اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ فَصَلّٰی بِھَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِاَذَانٍ وَاحِدٍ وَاِقَامَتَیْنِ وَلَمْ یُسَبِّحْ بَیْنَھُمَا شَیْئًا، ثُمْ اضْطَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَتّٰی طَلَعَ الْفَجْرُ، وَصَلّٰی الْفَجْرَ حِیْنَ تَبَیَّنَ لَہُ الصُّبْحُ بِاَذَانٍ وَاِقَامَۃٍ)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے اور وہاں ایک اذان اور دو اقامتوںکے ساتھ نماز فجر ادا کی اور ان کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی اور طلوع فجر کے بعد ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ نمازِ فجر ادا کی۔ (صحیح مسلم)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں دو نمازوں کو جمع کر کے ادا کیا او رہر ایک نماز اقامت کے ساتھ پڑھی اور نہ ان دو نمازوں سے پہلے کوئی نفلی نماز پڑھی اور نہ بعد میں۔ (سنن بیہقی: ۵/ ۱۲۰)
ذہن نشین کر لیں کہ جس صحابی نے دو اقامتوں کا ذکر کیا، اس کے پاس زائد علم ہے، نیز اس کی روایت سے ایک اقامت والی روایات کی نفی بھی نہیں ہو رہی، کیونکہ ان احادیث سے جو اقامت ثابت ہو رہی ہے، اس کا ذکر تو دو اقامتوں والی حدیث میں بھی ہے۔ لہٰذا زائد علم کو کم علم پر اور مثبت کو منفی پر ترجیح دیتے ہوئے دو اقامتوں والی احادیث پر عمل کریں گے، ان روایات میں جمع و تطبیق کییہی صورت ممکن ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بڑی تفصیل کے ساتھ حج نبوی کو بیان کیا ہے، وہ اس سلسلے میں دو اقامتوں کا ہی ذکر کرتے ہیں۔ جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس آدمی کی تصدیق نہ کی جائے، جو یہ کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدہ کو دوسری حدیث کا علم نہیں تھا، بالکل اسی طرح ممکن ہے کہ جو صحابہ کرام اس مقام پر ایک اقامت کا ذکر کرتے ہیں، انھوں نے دوسری اقامت نہ سنی ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں دو نمازوں کو جمع کر کے ادا کیا او رہر ایک نماز اقامت کے ساتھ پڑھی اور نہ ان دو نمازوں سے پہلے کوئی نفلی نماز پڑھی اور نہ بعد میں۔ (سنن بیہقی: ۵/ ۱۲۰)
ذہن نشین کر لیں کہ جس صحابی نے دو اقامتوں کا ذکر کیا، اس کے پاس زائد علم ہے، نیز اس کی روایت سے ایک اقامت والی روایات کی نفی بھی نہیں ہو رہی، کیونکہ ان احادیث سے جو اقامت ثابت ہو رہی ہے، اس کا ذکر تو دو اقامتوں والی حدیث میں بھی ہے۔ لہٰذا زائد علم کو کم علم پر اور مثبت کو منفی پر ترجیح دیتے ہوئے دو اقامتوں والی احادیث پر عمل کریں گے، ان روایات میں جمع و تطبیق کییہی صورت ممکن ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بڑی تفصیل کے ساتھ حج نبوی کو بیان کیا ہے، وہ اس سلسلے میں دو اقامتوں کا ہی ذکر کرتے ہیں۔ جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس آدمی کی تصدیق نہ کی جائے، جو یہ کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدہ کو دوسری حدیث کا علم نہیں تھا، بالکل اسی طرح ممکن ہے کہ جو صحابہ کرام اس مقام پر ایک اقامت کا ذکر کرتے ہیں، انھوں نے دوسری اقامت نہ سنی ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حدیث نمبر: 4472
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِجَمْعٍ فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ كُلَّ صَلَاةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَالْعَشَاءُ بَيْنَهُمَا وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ أَوْ قَالَ: حِينَ قَالَ قَائِلٌ طَلَعَ الْفَجْرُ وَقَالَ قَائِلٌ لَمْ يَطْلُعْ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ لَا يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّى يُعْتِمُوا وَصَلَاةُ الْفَجْرِ هَذِهِ السَّاعَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مزدلفہ میں تھا کہ انہوں نے دونوں نمازیں الگ الگ اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھائیں اور ان دو کے درمیان کھانا کھایا، پھر جب فجرطلوع ہوئی تو انھوں نے نمازِ فجر ادا کی اور اس کے بعد کہا: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مغرب اور فجر کی) یہ دونمازیں اس مقام پر عام معمول کے وقت سے ہٹ کر ادا کی جاتی ہیں، لوگ جب مزدلفہ میں پہنچتے ہیں تو کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے (اس لیے مغرب تاخیر سے ادا کی جاتی ہے) اور نماز فجر اس وقت ادا کی جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مغرب و عشاء کے لیے دو اذانوں کا اہتمام کرنا، یہ عمل سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے، اس لیے ایک اذان والی مرفوع روایات کو ہر صورت میں ترجیح دی جائے گی۔ نماز مغرب کا معتاد وقت غروبِ آفتاب کے بعد ہے، لیکن اس مقام پر اس نماز کو عشاء کے وقت میںادا کیا جاتا ہے، اسی طرح نماز فجر کا معتاد وقت وہ ہے، جب فجر واضح طور پر ظاہر ہو جائے، لیکن مزدلفہ میں اِس کو طلوع فجر کے فوراً بعد ادا کر لیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 4473
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ إِلَّا لِمِيقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى الْفَجْرَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْعِشَاءَيْنِ فَإِنَّهُ صَلَّاهُمَا بِجَمْعٍ جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہمیشہ ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا فرماتے تھے، ما سوائے (مغرب اور فجر کی) ان دو نمازوں کے، کہ آپ (مغرب کی نماز کو لیٹ کر کے) مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ادا کرتے تھے اور دوسرے دن نمازِ فجر عام معمول کے وقت سے جلدی پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 4474
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ فِي قِصَّةِ حَجِّهِ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: فَصَلَّى بِنَا ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْمَغْرِبَ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ ثُمَّ تَعَشَّى ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ رَقَدَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ قَامَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا كُنْتَ تُصَلِّي الصَّلَاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: وَكَانَ يُسْفِرُ بِالصَّلَاةِ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَهَذَا الْمَكَانِ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ادا کیے ہوئے اپنے حج کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب کی نمازمزدلفہ میں پڑھائی، اس کے بعد شام کا کھانا منگوایا اور وہ کھا کر عشاء کی نماز ادا کی اور پھر سو گئے، جب صبح صادق طلوع ہی ہوئی تھی کہ انھوں نے اٹھ کر نماز فجر ادا کی۔ میں نے کہا: آپ تو صبح کی نماز اس قدر سویرے ادا نہیں کرتے تھے؟ وہ روشنی کر کے نماز فجر ادا کرتے تھے، انھوں نے جواباً کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مقام پر اور اس دن کو اسی وقت نماز پڑھتے دیکھاہے۔
حدیث نمبر: 4475
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدْ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا کی تھیں اور ان کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … ابھی تک مزدلفہ میں وقوف کے مسائل جاری ہیں، اگلے باب کامطالعہ کریں۔