کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
حدیث نمبر: 4455
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، قَالَ: فَلَمَّا وَقَعَتِ الشَّمْسُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَ حَطْمَةَ النَّاسِ خَلْفَهُ قَالَ: ((رُوَيْدًا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ)) قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَحَمَ عَلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَقَ وَإِذَا وَجَدَ فُرْجَةً نَصَّ (وَفِي لَفْظٍ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ حَتَّى مَرَّ بِالشِّعْبِ الَّذِي يَزْعُمُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ أَنَّهُ صَلَّى فِيهِ) (وَفِي لَفْظٍ: فَأَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُ الْأُمَرَاءُ وَالْخُلَفَاءُ) فَنَزَلَ بِهِ فَبَالَ مَا يَقُولُ أَهْرَاقَ الْمَاءَ كَمَا يَقُولُونَهُ ثُمَّ جِئْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: فَقَالَ: ((الصَّلَاةُ أَمَامَكَ)) قَالَ: فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا صَلَّى حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَنَزَلَ بِهَا فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں عرفہ کے دن پچھلے پہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سواری پر سوار تھا، جب سورج غروب ہو اتو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کا رش دیکھا اور شور سنا تو فرمایا: لوگو! آرام سے چلو، سکون کو لازم پکڑو، تیز چلنا اور مشقت اٹھانا کوئی نیکی نہیں۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب لوگوں کا ہجوم ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آہستہ چلتے اور جب راستہ خالی ہوتا تو ذرا تیز چلتے، ( عَنَق کی بہ نسبت نَصّ میں زیادہ تیزی ہوتی ہے،) یہاں تک کہ جب آپ اس گھاٹی سے گزرے جس کے متعلق اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں نماز اداکی تھی، دوسری روایت میں ہے: جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جہاں امرا ء اور خلفاء اترتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں اتر کر پیشاب کیا، راوی نے أَھْرَاقَ کے الفاظ نہیں کہے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پانی کا برتن لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر ادا کریں گے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت نماز نہ پڑھی،یہا ں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ جاکر اترے اور آپ نے وہاں مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ادا کیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ گھاٹی مزدلفہ کے قریب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں اونٹ بٹھا کر پیشاب کیا۔ اس حدیث کے بعض طرق میں ہے کہ خلفاء اس گھاٹی میں نماز مغرب پڑھتے تھے۔ اس سے مراد بنو امیہ کے خلفاء اور امراء ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے موافقت نہیں کی تھی اور جنابِ عکرمہ نے ان پر انکار کیا تھا اور حافظ ابن حجر نے ان خلفاء کے اس عمل کو خلافِ سنت قرار دیا، سنت یہ ہے کہ دو نمازوںکو جمع کر کے مزدلفہ میں ادا کیا جائے۔
حدیث نمبر: 4456
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمْ عَشِيَّةَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنْيَخُ فِيهِ النَّاسُ لِلْمَغْرِبِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ بَالَ مَاءً وَمَا قَالَ أَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءً لَيْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ قَالَ: ((الصَّلَاةُ أَمَامَكَ)) قَالَ: فَرَكِبَ حَتَّى قَدِمَ الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ قَالَ: فَقُلْتُ: كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ کریب نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ جس شام یعنی عرفہ کے دن شام کو جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سوار تھے تو تم نے کیا کیا تھا؟ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اس گھاٹی پر پہنچے جہاں لوگ اتر کر مغرب کی نماز کے لئے ٹھہرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہا ں اپنی اونٹنی کو بٹھا کر پیشاب کیا ، راوی نے أَھْرَاقَ کے الفاظ نہیں کہے، ا اس کے بعد وضو کا پانی منگواکر مختصر سا وضو کیا۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر پڑھیں گے۔ اس کے بعد آپ سوار ہوکر روانہ ہوئے اور مزدلفہ جاپہنچے۔ آپ نے وہاں مغرب کی نماز ادا کی، بعد ازاں لوگوں نے اپنی اپنی جگہ اونٹوں کو بٹھایا، لیکن ابھی تک انہوں نے سواریوں سے سامان نہیں کھولے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز کھڑی کر دی،یہ نماز ادا کر کے لوگوں نے سواریوں سے سامان اتارے، کریب نے پوچھا: آپ لوگوں نے صبح کیا کچھ کیا تھا؟ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اس مرحلے میں آپ کے ساتھ سوار ہوئے تھے اور میں پہلے جانے والے قریشیوں کے ساتھ پیدل چلا گیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری میں اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے: ((فَجَائَ الْمُزْدَلِفَۃَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ ثُمَّ اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلّٰی الْمَغْرِبَ ثُمَّ اَنَاخَ کُلُّ اِنْسَانٍ بَعِیْرَہٗ مَنْزِلَہٗثُمَّاُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلّٰی وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَھُمَا)) … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے اور اچھی طرح وضو کیا، پھر نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ مغرب ادا کی، پھر ہر آدمی نے اپنی جگہ پر اپنا اونٹ بٹھایا، اتنے میں پھر اقامت کہہ دی گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشا کی نماز پڑھی اور ان دو نمازوں کے درمیان کوئی (نفلی) نماز نہیں پڑھی۔
حدیث نمبر: 4457
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِعَرَفَاتٍ فَلَمَّا كَانَ حِينَ رَاحَ رُحْتُ مَعَهُ، أَتَى الْإِمَامُ فَصَلَّى مَعَهُ الْأُولَى وَالْعَصْرَ ثُمَّ وَقَفَ مَعَهُ وَأَنَا وَأَصْحَابٌ لِي حَتَّى أَفَاضَ الْإِمَامُ فَأَفَضْنَا مَعَهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَضِيقِ دُونَ الْمَازِمَيْنِ فَأَنَاخَ وَأَنَخْنَا وَنَحْنُ نَحْسَبُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ فَقَالَ غُلَامُهُ الَّذِي يُمْسِكُ رَاحِلَتَهُ: إِنَّهُ لَيْسَ يُرِيدُ الصَّلَاةَ وَلَكِنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا انْتَهَى إِلَى هَذَا الْمَكَانِ قَضَى حَاجَتَهُ فَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ انس بن سیرین کہتے ہیں: میں عرفات میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تھا، جب روانگی کا وقت ہوا تو میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا، جب امام آیا تو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے ساتھ ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کیں، پھر انہوں نے امام کے ساتھ وقوف کیا، میں اور میرے دوسرے احباب بھی ساتھ تھے، جب امام غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہوا تو ہم بھی ان کے ہمراہ چل پڑے، حتیٰ کہ جب ہم مَأْزِم نامی دو پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ راستے میں پہنچ گئے تو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی سواری کو بٹھا دیا،یہ دیکھ کر ہم نے بھی سواریاں بٹھادیں، ہم سمجھ رہے تھے کہ وہ نماز ادا کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کے جس غلام نے ان کی سواری کی رسی پکڑی ہوئی تھی، اس نے بتلایا کہ وہ یہاں نماز ادا نہیں کرنا چاہتے،ان کے اترنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کو یہ بات یاد آئی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقام پر پہنچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قضائے حاجت کی تھی، اب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی یہاں قضائے حاجت کرنا چاہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عرفات اور مزدلفہ کے درمیان دو پہاڑ ہیں، ہر ایک کو ’’مَأْزِم‘‘کہتے ہیں، ان کے درمیان ایک تنگ راستہ ہے، یہ فقہاء اور محدثین کا خیال ہے، اہل لغت کہتے ہیں کہ دو پہاڑو ں کے درمیان تنگ جگہ کو ’’مَأْزِم‘‘کہتے ہیں، جبکہ جوہری نے یہ قول نقل کیا ہے کہ لڑائی کی جگہ کو ’’مَأْزِم‘‘کہتے ہیں، اسی سے اس جگہ کا نام ہی ’’مَأْزِمَیْن‘‘ رکھ دیا گیا جو عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان ہے۔
حدیث نمبر: 4458
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَةَ قَالَ: فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَاضَ الْآنَ كَانَ قَدْ أَصَابَ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَكَلِمَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَتْ أَسْرَعَ أَوْ إِفَاضَةُ عُثْمَانَ، قَالَ: فَأَوْضَعَ النَّاسُ وَلَمْ يَزِدِ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى الْعَنَقِ حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا فَصَلَّى بِنَا ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْمَغْرِبَ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ ثُمَّ تَعَشَّى ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ رَقَدَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ قَامَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا كُنْتَ تُصَلِّي الصَّلَاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: وَكَانَ يُسْفِرُ بِالصَّلَاةِ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَهَذَا الْمَكَانِ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج ادا کیا، جب ہم نے عرفہ میں وقوف کیا اور سورج غروب ہو گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر امیر المومنین ابھی روانہ ہوجائیں تو یہ روانگی سنت کے مطابق ہو گی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات پہلے ہوئی یا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی روانگی پہلے شروع ہوئی، لوگوں نے تو بہت تیز چلنا شروع کر دیا، لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رفتار ہلکی تیز رہی،یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، بعد ازاں انہوں نے کھانا منگوا کر کھایا، اس کے بعد عشاء کی اقامت ہوئی اور انہوں نے یہ نماز پڑھائی، پھر وہ سو گئے، جب صبح صاوق ہوئی تو اٹھ کر نمازِ فجر ادا کی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے عرض کیا : آپ تو صبح کی نماز اس وقت یعنی اس قدر سویرے ادا نہیں کیا کرتے؟ وہ صبح کی نماز روشنی ہونے پر اداکیا کرتے تھے، انھوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دن اس مقام پر اسی وقت میں نماز فجر ادا کرتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 4459
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَدْلَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَطْحَاءِ لَيْلَةَ النَّفْرِ إِدْلَاجًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روانگی والی رات بطحاء سے کافی اندھیرا کیا (پھر سفر شروع کیا)۔
وضاحت:
فوائد: … ’’رات کے شروع‘‘ سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعی رات کے داخل ہوجانے کے بعد عرفہ سے روانہ ہوئے تھے۔ عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ بطحاء میں چلے۔ وادی بطحاء سے (نہ کہ وادی بطحاء میں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندھیرا چھا جانے کے بعد چلے ہیں حدیث میں لیلۃ النفر (کوچ کرنے کی رات) سے تیرہ ذوالحج کی بعد والی رات مراد ہے جب آپ مدینہ واپس آنے کے لیے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 4460
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمْ يَنْزِلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ إِلَّا لِيُهْرِيقَ الْمَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف پیشاب کرنے کے لیے اترے تھے ۔
حدیث نمبر: 4461
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ فَنَزَلَ فَأَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَرَكِبَ وَلَمْ يُصَلِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھاٹی میں داخل ہوئے تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا، اس کے بعد وضو کرکے دوبارہ سوار ہوکر چل پڑے اور وہاں نماز ادا نہیں کی۔
حدیث نمبر: 4462
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَبَلَغْنَا الشِّعْبَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَكِبْنَا حَتَّى جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو میں آپ کے ہمراہ تھا، جب ہم گھاٹی میں پہنچے تو آپ نے وہاں اتر کر پیشاب کیا اور وضو کیا اس کے بعد ہم پھر سوار ہو کر چل پڑے اور مزدلفہ پہنچ گئے۔
وضاحت:
فوائد: … عرفہ سے مزدلفہ تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ردیف سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ اور مزدلفہ سے مِنٰی تک سیدنا فضل رضی اللہ عنہ تھے، یہ ممکن ہے کہ ’’ہم پھر سوار ہوئے‘‘ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مراد ان کی اپنی ذات نہ ہو۔ان احادیث سے درج ذیل احکام ثابت ہوئے: غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہونا چاہیے۔ سکون اور وقار کے ساتھ چلنا چاہیے، جلد بازی اور کسی کو تکلیف دینے سے باز رہنا چاہیے، اگر کوئی کھلی جگہ مل جائے تو قدرے تیزی سے چل لینا چاہیے۔ مزدلفہ پہنچنے تک سفر کو جاری رکھنا چاہیے اور کسی عذر کے بغیر نہیں رکنا چاہیے۔نمازِ مغرب راستے میں ادا نہ کی جائے، بلکہ مزدلفہ پہنچ کر نمازِ عشاء کے ساتھ پڑھی جائے۔ ذکر و تلبیہ والا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 4463
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ يَسِيرَ الْعَنَقِ وَجَعَلَ النَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ: ((السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ)) حَتَّى جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ وَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ وَقَالَ: ((هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے تو کچھ تیز رفتاری سے چلے، لوگ دائیں بائیں نکلے جارہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر ان کو فرما رہے تھے: لوگو! آرام سے چلو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں پہنچ گئے، وہاں آکر دونوں نمازوں یعنی مغرب اور عشاء کو جمع کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں ٹھہرے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قُزَح پہاڑ پر وقوف کیا اور روانہ ہوتے وقت سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہوا ہے، لیکن سارا مزدلفہ جائے وقوف ہے۔