کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4448
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَوَاقِفٌ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ بِعَرَفَاتٍ مَعَ النَّاسِ حَتَّى يَدْفَعَ مَعَهُمْ مِنْهَا تَوْفِيقًا مِنَ اللَّهِ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبل از بعثت لوگوںکے ساتھ عرفات میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں وقوف کر رہے تھے،یہاں تک کہ آپ اللہ تعالی کی توفیق سے لوگوں کے ساتھ ہی واپس ہوئے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نزول وحی سے قبل بھی اپنی قوم کی عادت کی مخالفت کی اور عام لوگوں کے ساتھ عرفہ میں وقوف کیا،یہ اللہ تعالی کی توفیق سے ہوا، پھر جب دین اسلام کا نزول ہوا تو اللہ تعالی نے قریشیوں کو حکم دیا کہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح عرفہ سے واپس لوٹیں۔ اللہ تعالی کے فرمان {ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ} میں یہی حکم دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عرفات میں جانا اور وہاں سواری پر وقوف کرنا بعثت سے پہلے کا واقعہ ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالی کی طرف سے خاص توفیق حاصل تھی اور اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی عمل پر برقرار رکھنا تھا، بہرحال حجۃ الوداع کے موقع پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سواری پر وقوف کیا اور یہی عمل ہمارے لیے حجت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4448
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابن خزيمة: 3057، والحاكم: 1/ 464، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 1577، 1578، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16879»
حدیث نمبر: 4449
عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَشْهَدُ لَوَقَفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ، قَالَ: فَمَا مَسَّتْ قَدَمَاهُ الْأَرْضَ حَتَّى أَتَى جَمْعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عرفات میں وقوف کیا، مزدلفہ آنے تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک زمین کو نہ لگے تھے،( یعنی آپ سواری پر سوار تھے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4449
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابوداود ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19694»
حدیث نمبر: 4450
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ قَدْ حَجَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُهُ يَخْطُبُ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرِهِ (وَفِي لَفْظٍ:) رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نبیط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج ادا کیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفہ کے دن اونٹ پر خطبہ ارشاد فرماتے دیکھاتھا، ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفہ کے دن بعد از زوال ایک سرخ اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دیتے دیکھا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’عَشِیَّۃ‘‘ کا اطلاق زوال سے غروب آفتاب کے وقت تک ہوتا ہے۔ سنن نسائی کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ خطبہ (ظہر کی) نماز سے پہلے دیا تھا، صحیح مسلم کی روایت کردہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہی بات بیان کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز سے پہلے خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4450
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد مضطرب ۔ أخرجه ابن ماجه: 1286، والنسائي: 5/ 253، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18928»
حدیث نمبر: 4451
عَنْ أَبِي مَالِكِ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي نُبَيْطُ بْنُ شُرَيْطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، إِذْ تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ عَلَى عَجُزِ الرَّاحِلَةِ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى عَاتِقِ أَبِي فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ((أَيُّ يَوْمٍ أَحْرَمْتُ؟)) قَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ، قَالَ: ((فَأَيُّ بَلَدٍ أَحْرَمْتُ؟)) قَالُوا: هَذَا الْبَلَدُ، قَالَ: ((فَأَيُّ شَهْرٍ أَحْرَمْتُ؟)) قَالُوا: هَذَا الشَّهْرُ، قَالَ: ((فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، هَلْ بَلَّغْتُ؟)) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ((اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نبیط بن شریط کہتے ہیں: میں حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے والد کے ہمراہ سواری پر سوار تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ شروع فرما دیا،میں سواری کے پچھلے حصہ پر کھڑا ہوگیا، میں نے اپنا ہاتھ اپنے والد کے کندھے پر رکھ لیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کون سادن زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگوں نے کہا: آج کا دن۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگو ں نے کہا: یہ شہر۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مہینہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خون اور مال ایک دوسرے پر اسی طرح احترام اور حرمت ہیں، جیسے آج کے دن کی،اس مہینے اور اس شہر میں حرمت ہے،لوگو !کیا میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے؟ لوگوں نے کہا:جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ ہو جاؤ، اے اللہ! گواہ ہو جاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اے اللہ! گواہ ہو جاؤ۔‘‘ یعنی اس بات پر گواہ ہو جاؤ کہ لوگ یہ اقرار کر رہے ہیں کہ میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اِن تک تیرا پیغام پہنچا دیا اور تیرا گواہ ہو جانا ہی کافی ہے۔
قارئین کرام! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا یہ سب سے پہلا اور آخری بڑا اجتماع تھا، اس اجتماع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کا مقصد پورا ہوتا ہوا نظر آ رہا تھا، جبکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت والی زندگی کا پہلا اور آخری حج تھا، غورکریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ حرمت والے دن میں، سب سے زیادہ حرمت والے شہر میں اور
سب سے زیادہ حرمت والے مہینے میں خطاب کر رہے ہیں، حرمتوں پر حرمتیں سوار ہو رہی ہیں، لیکن تعلیم کس چیز کی دی جا رہی ہے کہ دوسرے انسان کی جان، مال اور عزت کا خیال رکھنا۔ کاش! امت ِ مسلمہ اس راز کو سمجھ جاتی اور انسانیت کی قدر ومنزلت کے تقاضے پورے کرنا شروع کر دیتی۔ حضرات! وہ تقاضے کیا ہیں؟یقینایہ اتنا طویل موضوع تو نہیں ہے، لیکن اس کو سمجھنے کے لیے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جس بہت بڑے شرعی مزاج کی ضرورت ہے، اس کا اِس زمانے میں شدید فقدان ہے۔ اپنی ذاتوں سمیت جتنے لوگوں سے ہمارا واسطہ پڑا، ان میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نظر نہیں آیا جو احترامِ مسلمان کے تقاضے پورے کر رہا ہو، ہر شخص نے اپنی زندگی کے لیے چند ایک ناقص سی عبادات کا تعین کر رکھا ہے، جن کی بنا پر وہ اتنا کامل مسلمان بن گیا ہے کہ دوسرے ہر مسلمان کو ناقص سمجھتا ہے۔ برائے مہربانی! ان گزارشات کو مفروضہ جات مت سمجھیں،یہ حقائق ہیں، لیکن مصیبتیہ ہے کہ ہمارے مزاجوں کے اندر ان کو تسلیم کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اس موقع ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نماز، روزے، حج، زکوۃ اور دوسرے واجباتِ اسلام پر عمل کرنا آسان ہے، لیکن حقوق العباد کی ادائیگی بہت مشکل ہے، الا یہ کہ مزاج کو شریعت کی روشنی سے منوّر کر لیا جائے۔ سیاسی دھڑوں، مذہبی متعصب اور غیرمنصف گروہوں، خاندانی رقابتوں، ذاتیات کے بھوتوں اور قدیم دشمنیوں اور کِینوں کی وجہ ہم نے اسلام کی ٹنڈ منڈ سی شکل کو کامل اسلام سمجھ لیا ہے، آپ خود غور کریں کہ ایک آدمی والدین کا بھی نافرمان ہو، اپنی اولاد کے اسلامی حقوق بھی ادا نہ کر رہا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ بے نماز بھی ہو، انصاف سے بتائیں کہ ایسے بندے سے اسلام کی کون سی شِق پورے کرنے کی امید کی جا سکتی ہے، جبکہ محتاط اندازے کے مطابق ہمارے معاشرے کے (۹۳) فی صد لوگ ان جرائم میں مبتلا ہیں۔ آس مقام پر ہم صرف ایک مثال ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں: ایک آدمی اپنے خاندان کے ایک بزرگ کے ساتھ نمازِ عید ادا کر کے واپس آ رہا تھا، راستے میں رشتہ دار سیاسی مخالفوں کی عید گاہ پڑتی تھی، اللہ تعالی کاکرنا کہ جب وہ لوگ اپنے مخالفوں کی عید گاہ کے قریب پہنچے تو وہ بھی فارغ ہو کر باہر آنا شروع ہو گئے، اس آدمی نے اپنے بزرگ سے کہا کہ اِن لوگوں سے اب ٹاکرا تو ہو گیا ہے، اس لیے عید کی مناسبت سے ان کو مل لینا چاہیے، لیکن وہ جھٹ سے بولا: ہم کوئی بے غیرت ہیں؟ جبکہ وہ بزرگ حاجی صاحب بھی، حفظِ قرآن کی صفت سے بھی متصف تھے اور نمازوں کے بھی بڑے پابند تھے اور ان کو کافی سارا مذہبی بھی سمجھا جاتا تھا، لیکن خوشی کے موقع پر کسی مسلمان سے ملاقات کر لینا ان کے نزدیک بے غیرتی تھا۔ کئی آیات اور اَن گنت احادیث، جو ان لوگوں سے ملاقات کر لینے کا تقاضا کرتی تھیں، ان کا کیا بنے گا۔ لوگو! اپنی اصلاح کی طرف آؤ اور بزعم خود اپنے آپ کو بہت کچھ نہ سمجھ بیٹھو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4451
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، وانظر الحديث السابق ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18929»
حدیث نمبر: 4452
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ الْأَشْجَعِيِّ أَنَّ أَبَاهُ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رِدْفًا خَلْفَ أَبِيهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ أَرِنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُمْ فَخُذْ بِوَاسِطَةِ الرَّحْلِ، قَالَ: فَقُمْتُ فَأَخَذْتُ بِوَاسِطَةِ الرَّحْلِ، فَقَالَ: انْظُرْ إِلَى صَاحِبِ الْأَحْمَرِ الَّذِي يُؤْمِئُ بِيَدِهِ فِي يَدِهِ الْقَضِيبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سلمہ بن نبیط اشجعی کہتے ہیں: میرے باپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایاتھا، وہ حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے باپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ابا جان! آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو دکھا دیں، انہوں نے کہا: پالان کا آسرالے کر کھڑے ہو جاؤ۔ جب میں پالان کا سہارا لے کر کھڑا ہوگیا، تو میرے والد نے کہا: وہ سرخ اونٹ پر ہاتھ میں چھڑی لئے جو شخصیت اشارہ کر رہی ہے (اور لوگوں سے ہم کلام ہے)، اس کو دیکھو، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4452
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه الدارمي: 1608وانظر الحديث السابق وقبله ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18931»
حدیث نمبر: 4453
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَجَعَلَ يَدْعُو هَكَذَا وَجَعَلَ ظَهْرَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ وَرَفَعَهُمَا فَوْقَ ثُنْدُوَتِهِ وَأَسْفَلَ مِنْ مَنْكِبَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعاکی کہ آپ کی ہتھیلیوں کی پشت چہرے کی طرف تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھوں کو یوں بلند کیا ہوا تھا کہ وہ پستان والی جگہ سے ذرا اوپر اور کندھوں سے ذرا نیچے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4453
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الازدي ۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 177 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11828»
حدیث نمبر: 4454
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ: ((لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیادہ تریہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَفْضَلُ مَا قُلْتُ اَنَا وَالنَّبِیُّوْنَ عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ: لَااِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہٗ،لَہُالْمُلْکُوَلَہُالْحَمْدُ،وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔)) … ’’سب سے افضل کلمہ‘ جو میں نے اور مجھ سے قبل انبیاء نے عرفہ کی شام کو پڑھا‘ یہ ہے: ’’لَااِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہٗ،لَہُالْمُلْکُوَلَہُالْحَمْدُ،وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔‘‘ (نہیں کوئی معبود برحق مگر اللہ‘ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں‘ ساری بادشاہی اور ساری تعریف اسی کی ہے‘ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔)
(الطبرانی: ۱۳/۲)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ یَوْمٍ اَکْثَرَ مِنْ اَنْ یُّعْتِقَ اللّٰہُ فِیْہِ
عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ، وَاِنَّہٗلَیَدْنُوْ ثُمَّ یُبَاھِیْ بِھِمُ الْمَلَائِکَۃَ فَیَقُوْلُ: مَا اَرَادَ ھٰؤُلَائِ۔)) … ’’عرفہ کے دن کی بہ نسبت کوئی ایسا دن نہیں ہے، جس میں اللہ تعالی زیادہ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہو، وہ قریب ہوتا ہے اور پھر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم)
صحیح مسلم کی روایت کردہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی طویل حدیث میں ہے: (ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور جائے وقوف میں پہنچ گئے اور وہاں اس طرح کھڑے ہوئے کہ آپ کی قصواء اونٹنی کا پیٹ (جبل رحمت کے نیچے پڑئی ہوئی) چٹانوں کی طرف تھا اور لوگوں کا مجمع آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں قبلہ رخ ہوئے اور غروبِ آفتاب تک اسی طرح کھڑے رہے۔ احادیث نمبر (۴۴۶۵، ۴۴۶۶) سے ثابت ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقوفِ عرفہ کے دوران ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے۔ حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ وقوفِ عرفات کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام سنتوں کا پاس ولحاظ رکھیں، مثلا: امام کا خطبہ سننا اور اس کے ساتھ باجماعت ظہر وعصر ادا کرنا، اگر مرکزی جماعت نہ مل سکے تو اپنے اپنے خیموں میں ان دو نمازوں کو اسی طریقے کے مطابق ادا کرنا، قبلہ رخ ہو کر وقوف کرنا، کثرت سے مخصوص اذکار کرنا، دوسرے اذکار بھی کیے جا سکتے ہیں، گفتگو اور لمبا چوڑا کھانے پینے میں وقت ضائع نہ کرنا۔ غور کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر و عصر سے فارغ ہو کر غروب آفتاب تک مسلسل قبلہ رخ ہو کر وقوف کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار تھے۔
تنبیہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ والے دن جمعہ تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ ادا نہیں کیا، بلکہ نمازِ ظہر ادا کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4454
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 3585 بلفظ: خير الدعاء دعاء يوم عرفة، وخير ما قلت انا والنبيون من قبلي: لا اله الا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وھو علي كل شيء قدير۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6961 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6961»