کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
حدیث نمبر: 4411
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مُهَلِّينَ بِالْحَجِّ كُلُّنَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَصَلَّيْنَا الرَّكْعَتَيْنِ وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَمَرَنَا فَقَصَّرْنَا ثُمَّ قَالَ: ((أَحِلُّوا)) قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ: ((حِلُّ مَا يَحِلُّ لِلْحَلَالِ مِنَ النِّسَاءِ وَالطِّيبِ)) قَالَ: فَغُشِيَتِ النِّسَاءُ وَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ، قَالَ خَلَفٌ: وَبَلَغَهُ أَنَّ بَعْضَهُمْ يَقُولُ: يَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى مِنَى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ (وَفِي لَفْظٍ: فَقَالَ فَقَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ وَإِنِّي لَأَتْقَاكُمْ وَأَبَرُّكُمْ)) ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَوْ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ)) قَالَ: ((فَخُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ)) قَالَ: فَأَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَأَرَادُوا التَّوَجُّهَ إِلَى مِنَى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، قَالَ: فَكَانَ الْهَدْيُ عَلَى مَنْ وَجَدَ، وَالصِّيَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَجِدْ وَأَشْرَكَ بَيْنَهُمْ فِي هَدْيِهِمْ، الْجَزُورُ بَيْنَ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةُ بَيْنَ سَبْعَةٍ وَكَانَ طَوَافُهُمْ بِالْبَيْتِ وَسَعْيُهُمْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِحَجِّهِمْ وَعُمْرَتِهِمْ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْيًا وَاحِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم سارے کے سارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے، ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد دودورکعت نماز پڑھی، پھر ہم نے صفا مروہ کی سعی کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بال کٹوانے کاحکم دیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حلال ہوجاؤ یعنی احرام کھول دو۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس چیز کے لیے حلال ہونا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ چیز حلال سمجھو جو احرام کے بغیر حلال ہوتی ہے، مثلاً خوشبو اور بیوی وغیرہ۔ پس عورتوں سے مجامعت کی گئی اور خوشبوئیں مہک اٹھیں۔خلف کہتے ہیں:جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات موصول ہوئی کہ بعض لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کے بارے میں کہا: اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب ہم منیٰ کی طرف جارہے ہوں گے تو ہماری شرم گاہیں منی ٹپکا رہی ہوں گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں خطبہ دیا اور اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: تمہاری باتیں مجھ تک پہنچ چکی ہیں، میں تم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ نیک ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس بات کا مجھے بعد میں پتہ چلا، اگر پہلے معلوم ہو جاتی تو میں سرے سے قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور اگر میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لایاہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے حج کے احکام ومسائل سیکھ لو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس لوگ حلال ہوگئے اور اسی حالت پر برقرار رہے، یہاں تک کہ جب آٹھ ذوالحجہ کا دن آ گیا اور وہ منیٰ کو جانے لگے تو انہوں نے حج کا احرام باندھا، جو لوگ صاحبِ استطاعت تھے انہوں نے قربانی کی اور جو لوگ صاحب استطاعت نہ تھے انہوں نے قربانی کے عوض دس روزے رکھے اور آپ نے صحابہ کو اونٹ اور گائے کی قربانی میں سات سات آدمیوں کو شریک کیا اور حج قران والوں کے لئے بیت اللہ کے طواف اور صفا مروہ کی سعی کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … صرف عمرہ کا تلبیہ کہنے والے صحابہ بھی موجود تھے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا کہنا کہ سارے لوگ حج کا تلبیہ کہہ رہے تھے، اس کو اکثریت پر یا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے علم پر محمول کیا جائے گا۔ اس معاملے میںصحابہ کی کل تین قسمیں تھیں: کسی نے حج اور عمرے دونوںکا، کسی نے صرف حج کا اور کسی نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا تھا۔ حج قران کرنے والے مکہ مکرمہ پہنچ کر طوافِ قدوم اور صفا مروہ کی سعی کرتے ہیں اور پھر (۱۰) ذوالحجہ کو صرف طواف افاضہ کرتے ہیں، اس طرح ان کی طوافِ قدوم کے بعد والی سعی اور طواف افاضہ ان کو حج اور عمرہ دونوں سے کفایت کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ حج کی نیت کو عمرہ کی نیت میں تبدیل کر دینا درست ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4411
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1557، 2506، 4352، 7367، ومسلم: 1216 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15006»
حدیث نمبر: 4412
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ قَالَ: فَأَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ: ((اجْعَلُوا حَجَّكُمْ عُمْرَةً)) قَالَ: فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ فَكَيْفَ نَجْعَلُهَا عُمْرَةً؟ قَالَ: ((انْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا، فَرَدُّوا عَلَيْهِ الْقَوْلَ فَغَضِبَ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ غَضْبَانًا فَرَأَتِ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَتْ: مَنْ أَغْضَبَكَ أَغْضَبَهُ اللَّهُ؟ قَالَ: ((وَمَا لِي لَا أَغْضَبُ وَأَنَا آمُرُ فَلَا أُتْبَعُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ حج کیلئے روانہ ہوئے، ہم نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے حج کے احرام کو عمرہ کا احرام قرار دو۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو حج کا احرام باندھا تھا، اب ہم اسے عمرہ کا احرام کیسے قراردیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں جو حکم دے رہاہوں، اس پر غور کرو اور اسے سر انجام دو۔ لیکن لوگوں نے پھر وہی بات دوہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضب ناک ہوگئے اور غصہ کی حالت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پر غضب کے آثاردیکھے تو کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس نے ناراض کر دیا،اللہ اس پر ناراض ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ناراض کیوں نہ ہوں، بات یہ ہے کہ میں کوئی حکم دیتا ہوں اور میری پیروی نہیں کی جاتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4412
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، سماع ابي بكر بن عياش من ابي اسحاق السبيعي ليس بذاك القوي، ثم ان ابا اسحاق لم يصرح بسماعه من البرائ۔ ۔ أخرجه ابن ماجه: 2982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18722»
حدیث نمبر: 4413
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ، فَقَالَ: ((وَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ)) (قَالَ الْحَكَمُ: كَأَنَّهُمْ أَحْسِبُ) وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِيَ حَتَّى أَشْتَرِيهِ ثُمَّ أَحِلُّ كَمَا أَحَلُّوا)) قَالَ رَوْحٌ: يَتَرَدَّدُونَ فِيهِ (قَالَ الْحَكَمُ: كَأَنَّهُمْ هَابُوا أَحْسِبُ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ کی حالت میں تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کس نے آپ کو غصہ دلایا، اللہ اسے جہنم رسید کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں نے لوگوں کو ایک حکم دیاہے، لیکن وہ اس پر عمل کرنے میں متردد ہیں، جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر یہ پہلے آ جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا، بلکہ یہیں سے خریدلیتا اور میں بھی ان لوگوں کی طرح احرام کھول دیتا۔
وضاحت:
فوائد: … قارئین کرام! یہ تو آپ جانتے ہیں کہ اس امت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمانبرداری کا سب سے زیادہ حق ادا کرنے والے صحابۂ کرام ہی تھے، اس حقیقت کی غمازی کرنے والی اَن گنت مثالیں موجود ہیں۔تو پھر مذکورہ بالا حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر ان کے متردد ہونے کا کیا معنی و مفہوم ہے، کچھ دوسری احادیث میں بھی اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں، مثلا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں روزہ توڑ دیا تھا، لیکن بعض صحابہ تردّد میں پڑ گئے تھے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر صحابہ کرام نے یہ سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن پر شفقت کرتے ہوئے اور ان کی مجبوری کو مد نظر رکھ کر محض ان کو رخصت دی ہے، جبکہ اُن کا نظریہیہ ہوتا تھا کہ وہ اس عمل کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ اس رخصت کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسئلے کی پوری وضاحت کرتے کہ یہ صرف رخصت والی بات نہیں ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے تمام تقاضے پورے کرنے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔ کیا آپ غور نہیں کرتے کہ جن صحابہ کو حج کے موقع پر عمرہ ادائیگی کے بعد احرام کھولنے میں تردّد ہوا تھا، وہی بعد میں اسی حج تمتع کا فتوی دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4413
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25939»
حدیث نمبر: 4414
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الْأَرْضِ وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا، وَيَقُولُونَ: إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ، وَعَفَا الْأَثَرْ، وَانْسَلَخَ صَفَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنْ اعْتَمَرَ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصَبِيحَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ لِصُبْحِ) رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْحِلِّ؟ قَالَ: ((الْحِلُّ كُلُّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو روئے زمین پر سب سے بڑا گناہ سمجھتے تھے، اس لئے وہ لوگ مہینوں میں تقدیم وتاخیر کرتے اور محرم کو صفرقراردیتے اور وہ کہا کرتے تھے:جب سفر کی وجہ سے اونٹوں کو آئے ہوئے زخم درست ہوجائیں، راستوں سے قافلوں کی آمدورفت کے نشانات مٹ جائیں اور صفر کامہینہ گزر جائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ کرنا حلال ہو گا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ چارذوالحجہ کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے پہنچے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ اسے حج کی بجائے عمرہ کا احرام قراردیں اور عمرہ کرکے احرام کھول دیں۔ لیکن انھوں نے تو اس بات کو بہت بڑا خیال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا حلال ہونا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکمل طور پرحلال ہونا۔
وضاحت:
فوائد: … دورِ جاہلیت کے لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے حرمت والے مہینوں میں تقدیم و تاخیر کر لیتے تھے، اس کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ وہ سال کو تیرہ مہینوں کا تصور کر لیتے ہوئے صفر کو سال کا اور اشہر الحج کا آخری مہینہ قرار دیتے تھے، اس طرح حج کے بعد حج کے مہینوں کے چالیس پچاس دن بچ جاتے تھے اور اتنے عرصے میں اونٹوں کے زخم مندمل ہو جاتے تھے۔ ان الفاظ کی مزید شرح حدیث نمبر (۴۱۰۶) میں گزر چکی ہے۔ دورِ جاہلیت میں حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا بہت بڑا جرم سمجھا جاتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اس نظریے کو ردّ کر دیا اور سال کے بارہ مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کو جائز قرار دیا، حرمت والا مہینہ ہو یا کوئی اور۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4414
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2274»
حدیث نمبر: 4415
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحِجِّ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، قَالَ: فَلُبِسَتِ الْقُمُصُ وَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ وَنُكِحَتِ النِّسَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چارذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے، لوگ حج کا تلبیہ پکاررہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ قراردیں اور جن لوگوں کے پاس قربانی کے جانور ہیں، وہ اپنے احرام ہی میں رہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: چنانچہ قمیصیں پہن لی گئیں، خوشبوئیں مہک اٹھیں اور بیویوں سے مجامعت کی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4415
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2641»
حدیث نمبر: 4416
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلِّ الْحِلَّ كُلَّهُ، فَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم اس عمرہ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ مکمل طور پر حلال ہوجائیں، قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے، (یعنی قیامت تک حج کے مہینوں میں عمرہ کیاجاسکتا ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4416
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3172»
حدیث نمبر: 4417
عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَنْ قَدِمَ حَاجًّا وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَدِ انْقَضَتْ حَجَّتُهُ، وَصَارَتْ عُمْرَةً كَذَلِكَ سُنَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو لوگ حج کے ارادہ سے آئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرچکے ہیں، ان کا حج پورا ہوگیا اور ان کا یہ عمل عمرہ بن گیا ہے، یہی اللہ تعالی اور رسول اللہ کی سنت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دراصل سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ حج افراد کرنے واالا طواف نہ کرے، وگرنہ اس کو حج فسخ کرنا پڑے گا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کوحکم دیا تھا، یہاں وہ اسی رائے کو بیان کر رہے ہیں۔ لیکن جمہور اہل علم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس رائے سے متفق نہیںہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4417
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «عبد الله بن ميمون الرقي شيخ احمد لم يذكروه بجرح ولا تعديل، وباقي رجاله ثقات۔ أخرجه الطبراني: 11483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2223»
حدیث نمبر: 4418
عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ مَا حَجَّ رَجُلٌ لَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ مَعَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ إِلَّا حَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمَا طَافَ بِهَا حَاجٌّ قَدْ سَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ إِلَّا اجْتَمَعَتْ لَهُ عُمْرَةٌ وَحَجَّةٌ، وَالنَّاسُ لَا يَقُولُونَ هَذَا؟ فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ لَا يَذْكُرُونَ إِلَّا الْحَجَّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيَحِلِّ بِعُمْرَةٍ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُوَ الْحَجُّ، فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَجِّ وَلَكِنَّهَا عُمْرَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے ابن عباس جناب کریب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو العباس!آپ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ جو آدمی حج کی نیت سے آئے اور قربانی کا جانور اس کے ہمراہ نہ ہو، تو وہ بیت اللہ کا طواف کرکے عمرہ مکمل کر کے حلال ہوجائے اور جس کے ہمراہ قربانی کا جانور ہو اس کا حج اور عمرہ جمع ہوجائے گا، جبکہ دوسرے لوگوں کی رائے اس طرح نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: تجھ پر افسوس! بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ تشریف لائے اورصحابہ حج کا تلبیہ پکاررہے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں یہ حکم دیا کہ جن لوگوں کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ بیت اللہ کا طواف کرکے عمرہ کے بعد حلال ہوجائیں،بعض لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول!ہم نے تو حج کا ارادہ کیاتھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حج نہیں ہے، بلکہ یہ تو عمرہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4418
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1564، 3832، ومسلم: 1239، 1240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2360»
حدیث نمبر: 4419
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا هَذَا الْفُتْيَا الَّتِي تَفَشَّتْ بِالنَّاسِ أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ؟ فَقَالَ: سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ بَعْدَ قَوْلِهِ: وَإِنْ رَغِمْتُمْ) قَالَ هَمَّامٌ: يَعْنِي مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنوہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوالعباس! یہ آپ کا کیسا فتویٰ لوگوں میں مشہورہوا ہے کہ جو آدمی بیت اللہ کاطواف کرتا ہے، وہ حلال ہوجاتا ہے؟ انھوں نے کہا: تمہارے نبی کی یہی سنت ہے، خواہ تم لوگ اسے پسند نہ کرو۔ہمام نے کہا: اس کا مطلب ہے کہ جس کے ہمراہ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ (عمرہ کر کے) حلال ہوجائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4419
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1244، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2513»
حدیث نمبر: 4420
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَفْرِدُوا الْحَجَّ وَدَعُوا قَوْلَ هَذَا يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَا تَسْأَلُ أُمَّكَ عَنْ هَذَا؟ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَتْ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا فَأَمَرَنَا فَجَعَلْنَا هَا عُمْرَةً فَحَلَّ لَنَا الْحَلَالُ حَتَّى سَطَعَتِ الْمَجَامِرُ بَيْنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! حج افراد کیاکرو اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کو چھوڑ دو۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواباً کہا: آپ اس بارے میں اپنی والدہ سے کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ پس انھوں نے ان کی خدمت میں ایک آدمی کو بھیج کر مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بات صحیح ہے، کیونکہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حج کے ارادہ سے چلے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اسے عمرہ میں تبدیل کرلیاتھا، اس کے بعد ہمارے لئے (احرام کی وجہ سے ممنوع ہو جانے والی) ہر حلال چیز حلال ہوگئی،یہاں تک کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان سے خوشبوئیں مہک اٹھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4420
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، وھذا اسناده ضعيف ۔ أخرجه مسلم: 1238مثله ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27456»
حدیث نمبر: 4421
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَقَالَ: ((لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً وَلَكِنِّي سُقْتُ الْهُدْيَ وَقَرَنْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے،لیکن جب مکہ مکرمہ پہنچے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ قراردیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر پہلے آ جاتا تو میں بھی اس کو عمرہ بنا دیتا، لیکن میں اپنے ہمراہ قربانی کا جانور لایا ہوں اور میں نے حج و عمرہ کو جمع کر رکھا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4421
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد فيه جهالة ۔ أخرجه ابويعلي: 4345، والبطراني في ’’الاوسط‘‘: 1073 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13813 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13849»
حدیث نمبر: 4422
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا حَتَّى إِذَا طُفْنَا بِالْبَيْتِ قَالَ: ((اجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ)) قَالَ: فَجَعَلْنَا هَا عُمْرَةً فَحَلَلْنَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ صَرَخْنَا بِالْحَجِّ وَانْطَلَقْنَا إِلَى مِنَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے، لیکن جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کرلیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے عمرہ قرار دو، البتہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور ہیں،وہ احرام نہیں کھول سکتے۔ چنانچہ ہم نے اسے عمرہ بنالیا اور ہم حلال ہوگئے، جب آٹھ ذوالحجہ ہوئی تو ہم نے (از سرِ نو) حج کا تلبیہ پکارا اور منیٰ کی طرف روانہ ہوگئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4422
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11027»
حدیث نمبر: 4423
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا فَأَمَرَهُمْ فَجَعَلُوهَا عُمْرَةً، ثُمَّ قَالَ: ((لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلُوا، وَلَكِنْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ)) ثُمَّ أَنْشَبَ أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا فِي بَعْضٍ، فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بِمَا أَهْلَلْتَ؟)) قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهْلَلْتَ بِهِ، قَالَ: فَهَلْ مَعَكَ هَدْيٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَقِمْ كَمَا أَنْتَ وَلَكَ ثُلُثُ هَدْيِي، قَالَ: وَكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِائَةُ بَدَنَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادہ سے آئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو انھوں نے اسے عمرہ بنالیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر یہ پہلے آ جاتا تو میں بھی اسی طرح کرتا جیسے ان لوگوں نے کیا ہے، لیکن اب بات یہ ہے کہ قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا، (یعنی اب حج کے دنوں میں عمرہ کیا جاسکتا ہے)، چنانچہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ باقی سب لوگ حلال ہوگئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے تلبیہ کیسے پکارا؟ انہوں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا ہے، جو آپ نے باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتمہارے ساتھ قربانی کا جانور ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم احرام کی حالت میں ہی رہو اور میرے قربانیوں کا ایک تہائی حصہ تمہارے لیے ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک سواونٹ تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4423
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 932، ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2287»
حدیث نمبر: 4424
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا نَحْسَبُ إِلَّا أَنَّنَا حُجَّاجًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ نُودِيَ فِينَا: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ، قَالَ: فَأَحَلَّ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ إِلَّا مَنْ كَانَ سَاقَ الْهَدْيَ، قَالَ: وَبَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ مِائَةُ بَدَنَةٍ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ، … الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہمارا خیال صرف یہ تھا کہ ہم حج کرنے کے لیے جا رہے ہیں، لیکن جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو یہ اعلان کیاگیا: تم میں سے جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ عمرہ کے بعد حلال ہوجائیں اور جن کے ہمراہ قربانی کے جانور ہیں، وہ احرام کی حالت میں رہیں۔ پس جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ باقی سب لوگ عمرہ کرکے حلال ہوگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سو اونٹ تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے، … ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4424
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1557، 2506، 4352، 7367، واخرجه مسلم: 1213، 1216، 2648 مفرقا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15007»
حدیث نمبر: 4425
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4425
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه بنحوه وباختصار البخاري: 4353، 4354، ومسلم: 1232 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4822»
حدیث نمبر: 4426
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ هَدْيٌ إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ، وَكَانَ عَلِيٌّ قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالُوا: نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْ لَا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ)) وَأَنَّ عَائِشَةَ حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا طَافَتْ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ؟ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ، وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشَمٍ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْعَقَبَةِ وَهُوَ يَرْمِيهَا، فَقَالَ: أَلَكُمْ هَذِهِ خَاصَّةً يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((لَا بَلْ لِلْأَبَدِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا اور اس کا تلبیہ پکارا،صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے، ان کے ہمراہ بھی قربانی کا جانور تھا۔ انہوں نے (احرام باندھتے وقت یوں) کہا تھا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا احرام باندھتا ہوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے تلبیہ یا احرام کو عمرہ میں تبدیل کردیں اور بیت اللہ کا طواف اور سعی کے بعد بال کٹوا کر حلال ہوجائیں، البتہ جن کے پاس قربانی کے جانور ہیں، وہ حلال نہیں ہوسکتے۔ لیکن لوگ کہنے لگے: کیا ہم منیٰ کی طرف اس حال میں جائیں گے کہ ہماری شرم گاہوں سے منی کے قطرات ٹپکتے ہوں گے؟ جب ان کی یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے اب آیا ہے، اگر یہ پہلے آ یا ہوتا تو میں قربانی کا جانورساتھ نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا۔ اسی سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو حیض شروع ہو گیا تھا، لیکن انہوں نے تمام مناسک ادا کئے تھے، صرف بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا اور جب وہ حیض سے پاک ہو گئی تھیں تب طواف کیا تھا۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ لوگ، حج اور عمرہ دوعبادتیں کرکے جارہے ہیں اور میں صرف حج کرکے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ تنعیم تک جائیں (اور ان کو عمرہ کروا کر لائیں) چنانچہ سیدہ نے حج کے بعد ذوالحجہ میں ہی عمرہ کیا تھا۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جمرۃ عقبہ کے قریب ملاقات ہوئی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت رمی کررہے تھے، انھوں نے کہا: اللہ کے رسول! (کیا حج کے دنوں میں عمرہ کرنا) صرف آپ کے ساتھ اسی سال کیلئے مخصوص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بلکہ یہ حکم ہمیشہ کیلئے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کچھ دوسرے صحابہ کے پاس بھی ہدی کے جانور تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے پتہ چل رہا ہے، سیدنا جابر اپنے علم کے مطابق بات کر رہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4426
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1651، 1785، 7230، واخرجه مسلم: 1213 بقصة عائشة منه فقط ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14279 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14330»
حدیث نمبر: 4427
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا سَرِفَ طَمِثْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: ((مَا يُبْكِيكِ؟)) قُلْتُ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجْ الْعَامَ، قَالَ: ((لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟)) يَعْنِي حِضْتِ، قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي)) فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: ((اجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ)) وَكَانَ الْهَدْيُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَذَوِي الْيَسَّارَةِ، قَالَتْ: ثُمَّ رَاحُوا مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهَرْتُ، فَأَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَفَضْتُ يَعْنِي طُفْتُ، قَالَتْ: فَأُتِينَا بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي عَلَى جَمَلِهِ، قَالَتْ: فَإِنِّي لَأَذْكُرُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنِّي أَنْعُسُ فَتَضْرِبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ، حَتَّى جَاءَ بِيَ التَّنْعِيمَ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ جَزَاءً لِعُمْرَةِ النَّاسِ الَّتِي اعْتَمَرُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہم صرف حج کا تذکرہ کر رہے تھے، جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں رورہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں رورہی ہو؟ میں نے عرض کیا: کاش! میں اس سال حج کے لئے نہ آتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے کہ تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم پر یہ چیز لکھ دی ہے، تم وہ تمام مناسک اداکرو جو حاجی لوگ ادا کریں، البتہ تم اس وقت تک بیت اللہ کا طواف نہ کروجب تک حیض سے پاک نہ ہوجاؤ۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: تم ان مناسک کوعمرہ بنالو، جن لوگوں کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، وہ سب حلال ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ،اور دیگر صاحب ِاستطاعت لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے۔ سیدہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: یہ لوگ بعد میں حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے۔ میں دس ذوالحجہ کو حیض سے پاک ہوئی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا تاکہ میں طواف افاضہ کرآؤں۔ پھر ہمارے پاس گائے کا گوشت لایاگیا، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو بتانے والوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی ہے۔ پھر جب حصبہ کی رات تھی (اور لوگ مدینہ منورہ کی طرف واپسی کے موقع پر وادیٔ حصبہ میں ٹھہرے) تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!لوگ حج اور عمرہ کرکے جارہے ہیں اور میں صرف حج کر کے واپس ہو رہی ہوں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو وہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بٹھا کر (عمرہ کرا کر لائے)، مجھے خوب یا دہے میں نو عمر تھی اور جب مجھے اونگھ آ جاتی تو میرا چہرہ پالان کی پچھلی لکڑی کو جالگتا تھا، بہرحال میرے بھائی مجھے تنعیم لے گئے، اور میں نے وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کیا،یہ اس عمرہ کے عوض تھاجو لوگ کرچکے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4427
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 305، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26875»
حدیث نمبر: 4428
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ عَنْ أَبِيهِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟ قَالَ: ((بَلْ لَنَا خَاصَّةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا، کیایہ حکم صرف ہمارے لئے خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ صرف ہمارے لیے خاص ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4428
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال الحارث بن بلال۔ أخرجه ابوداود: 1808، وابن ماجه: 2984، والنسائي: 5/ 179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15947»
حدیث نمبر: 4429
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مُتْعَةَ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟ فَقَالَ: ((لَا بَلْ لَنَا خَاصَّةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول!حج کے احرام کو عمرہ میں تبدیل کرکے حج تمتع کر لینے کی اجازت ہمارے لیے خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے عام ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں،یہ صرف ہمارے لیے خاص ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4429
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15948»