کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4394
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مِنَ الصَّفَا مَشَى حَتَّى إِذَا نَصَبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صفا سے نیچے اترکر وادی کے درمیان پہنچ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوڑتے، یہاں تک کہ وادی کو عبور کر جاتے۔
حدیث نمبر: 4395
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي الْمَسْعَى كَاشِفًا عَنْ ثَوْبِهِ قَدْ بَلَغَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے والی جگہ میں یوں سعی کرتے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر کو گھٹنوں تک اوپر کیا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 4396
عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أُمِّ وَلَدِ شَيْبَةَ (ابْنِ عُثْمَانَ) أَنَّهَا أَبْصَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَقَدِ انْكَشَفَ الثَّوْبُ عَنْ رُكْبَتَيْهِ) يَقُولُ: ((لَا يُقْطَعُ الْأَبْطَحُ إِلَّا شَدًّا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ شیبہ بن عثمان کی ام ولد (سیدہ تملک عبدریہ) رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان اس طرح سعی کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کپڑا گھٹنوں سے ہٹ رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: اس وادی کو دوڑ کر ہی عبور کیاجائے۔
حدیث نمبر: 4397
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَوْخَةٍ وَهُوَ يَسْعَى فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ وَهُوَ يَقُولُ: ((لَا يُقْطَعُ الْوَادِي إِلَّا شَدًّا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ایک عورت (یعنی سیدہ تملک رضی اللہ عنہا ) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک چھوٹے دروازے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ وادی میں دوڑرہے تھے اور فرما رہے تھے: اس وادی سے دوڑ کر ہی گزرا جائے۔
حدیث نمبر: 4398
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمِقْدَامِ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا لَكَ لَا تَرْمُلُ؟ فَقَالَ: قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبداللہ بن مقدام کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ صفااورمروہ کی سعی کے دوران عام رفتار سے چل رہے تھے، اس لیے میں نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! کیا بات ہے، آپ دورڑتے کیوں نہیں؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دوران دوڑے بھی تھے اور اس کو ترک بھی کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4399
عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي فِي الْوَادِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَا يَسْعَى، فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ أَسْعَى فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَإِنْ أَمْشِ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ کثیر بن جمہان کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا مروہ کے درمیان دیکھا کہ وہ عام رفتار سے چل رہے تھے اور دوڑ نہیں رہے تھے جب میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: اگر میں دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہاں دوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور اگر میں عام رفتار سے چلوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہاں عام رفتار سے چلتے ہوئے بھی دیکھا ہے، جبکہ اب میں بوڑھا بھی ہوچکا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں: ۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہاڑی سے اترتے اور چڑھتے وقت چلتے تھے اور وادی میں دوڑتے تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ چلنا اور دوڑنا مراد لے رہے ہیں۔
۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی میں دوڑتے دوڑتے دو چار قدم چل بھی لیتے تھے۔
امام ترمذی نے کہا: اہل علم نے صفا مروہ کے درمیان دوڑنے کو مستحبّ قرار دیا ہے، اگر کوئی آدمی نہ دوڑ سکے تو وہ چل لے۔
آجکل صفا مروہ کی پہاڑیوں کے کچھ نشان باقی ہیں اور ہموار جگہ بہت زیادہ ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وادی میں دوڑتے تھے، اب وہاں سبز رنگ کی ٹیوبیں لگا دی گئی ہیں، جن کو میلین اخضرین کہتے ہیں، اس لیے صرف ان سبز نشانوں کے درمیان ہی دوڑنا چاہیے۔
۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی میں دوڑتے دوڑتے دو چار قدم چل بھی لیتے تھے۔
امام ترمذی نے کہا: اہل علم نے صفا مروہ کے درمیان دوڑنے کو مستحبّ قرار دیا ہے، اگر کوئی آدمی نہ دوڑ سکے تو وہ چل لے۔
آجکل صفا مروہ کی پہاڑیوں کے کچھ نشان باقی ہیں اور ہموار جگہ بہت زیادہ ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وادی میں دوڑتے تھے، اب وہاں سبز رنگ کی ٹیوبیں لگا دی گئی ہیں، جن کو میلین اخضرین کہتے ہیں، اس لیے صرف ان سبز نشانوں کے درمیان ہی دوڑنا چاہیے۔