کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
حدیث نمبر: 4387
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: اسْتَلَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعَةً، حَتَّى إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ، فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى} فَقَرَأَ فِيهِمَا بِالتَّوْحِيدِ، وَ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَخَرَجَ إِلَى الصَّفَا، … الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجراسود کا استلام کیا،اس کے بعد طواف کے ابتدائی تین چکروں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمل کیا اور باقی چار چکروں میں عام رفتار سے چلے، طواف سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام ابراہیم پر آئے اور اس کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی اور یہ آیت پڑھی: {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاھِیْمَ مُصَلًّی} (اورتم مقام ابراہیم کے قریب نماز پڑھو) (سورۂ بقرہ: ۱۲۵) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دورکعتوں میں سورۂ اخلاص اور سورۂ کافرون کی تلاوت کی تھی، نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ حجراسود کے پاس آئے اور اس کا استلام کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کی طرف تشریف لے گئے، … ۔
حدیث نمبر: 4388
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْحَجَرِ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْهَا وَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الصَّفَا فَقَالَ: ((أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کرکے ابتدائی تین چکروںمیں حجراسود سے حجر اسود تک رمل کیا، مکمل طواف کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دورکعت نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجراسود کے پاس تشریف لائے، بعد ازاں زمزم کی طرف گئے اور وہاں جا کر یہ پانی پیا اور اپنے سر پر بھی ڈالا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر حجراسود کے پاس تشریف لائے اور اس کا استلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کی تشریف لے گئے اور فرمایا: جس سے اللہ تعالی نے ابتداکی ہے، میں بھی اسی سے ابتدا کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کی دو رکعتوںکے بعد اور زمزم کا پانی پینے کے بعد دودفعہ حجر اسود کا استلام کیا، لیکن اس روایت کے علاوہ صحیح مسلم کی روایت کردہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سمیت باقی تمام روایات میں طواف کی دو رکعتوں کے بعد ایک دفعہ استلام کرنے اور اس کے بعد صفا مروہ کی سعی شروع کر دینے کا ذکر ہے۔ واللہ اعلم۔
اس حدیث کے آخری جملے کا اس آیت کے ساتھ تعلق ہے: {اِنَّ الصَّفَا وَالْمَـرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} … ’’بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۵۸)چونکہ اللہ تعالی نے اس آیت میں پہلے صفا پہاڑی کا نام لیا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسی سے سعی کا آغاز کیا۔
اس حدیث کے آخری جملے کا اس آیت کے ساتھ تعلق ہے: {اِنَّ الصَّفَا وَالْمَـرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} … ’’بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۵۸)چونکہ اللہ تعالی نے اس آیت میں پہلے صفا پہاڑی کا نام لیا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسی سے سعی کا آغاز کیا۔
حدیث نمبر: 4388M
وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا، … الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کے بعدمقام ابراہیم کے قریب دورکعت نماز پڑھی، پھر سلام پھیرا اور صفا کی طرف چلے گئے، … ۔
حدیث نمبر: 4389
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّائِبِ كَانَ يَقُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَيُقِيمُهُ عِنْدَ الشَّقَّةِ الثَّالِثَةِ مِمَّا يَلِي الْبَابَ مِمَّا يَلِي الْحِجْرَ، فَقُلْتُ، يَعْنِي الْقَائِلُ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ هَاهُنَا أَوْ يُصَلِّي هَاهُنَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُومُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَيُصَلِّي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن عبداللہ بن سائب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سائب، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھام کر لے جاتے اور حطیم کی طرف بیت اللہ کے دروازہ کے قریب تیسرے روز ان کے پاس لے جاکرکھڑا کردیتے، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، عبداللہ بن سائب سے کہتے: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی مقام پر کھڑے ہوکر نماز ادا فرمایا کرتے تھے؟ وہ کہتے: جی ہاں، یہ سن کر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وہاں کھڑے ہوکر نماز ادا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4390
عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، قَالَتْ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّهَا لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا عَلَيْهِ كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا نَزَلَتْ إِنَّ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ، وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} قَالَتْ: ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِهِمَا فَلَيْسَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَدَعَ الطَّوَافَ بِهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ جنابِ عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ کیا آپ نے اس آیت پر غور نہیں کیا: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَـرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔) اللہ کی قسم! اس آیت سے تو ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی آدمی صفا مروہ کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: بھانجے!تم نے بڑی غلط بات کہی ہے، اگر بات اسی طرح ہوتی جیسے تم کہتے ہوتو اس آیت کی عبارت یوں ہوتی فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ لَّا یَطَّوَّفَ بِہِمَا (اس پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان کا طواف نہ کرے)۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ آیت تو اس لئے نازل ہوئی تھی کہ انصار کا یہ قبیلہ اسلام سے قبل منات نامی بت کے لئے احرام باندھا کرتا تھا اور یہ لوگ مشلل کے قریب اس کی پوجا کیاکرتے تھے،اس منات کے لئے احرام باندھنے والے لوگ صفا اور مروہ کی سعی کرنے کو گناہ سمجھتے تھے، جب ان لوگوں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔) (سورۂ بقرہ: ۱۵۸) اب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان کی سعی کو مشروع قرار دیا ہے، لہٰذا کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس سعی کو ترک کرے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صفامروہ کی سعی کے بارے میں کہا: ((مَا اَتَمَّ اللّٰہُ حَجَّ امْرِیئٍ وَلَا عُمْرَتَہٗلَمْیَطُفْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔)) … اللہ تعالی اس بندے کا حج اور عمرہ پورا نہیں کرے گا، جو صفا مروہ کی سعی نہیں کرے گا۔ عروہ نے آیت کے الفاظ ’’ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں‘‘ سے یہ اندازہ لگایا کہ سعی کوئی مباح عمل ہے، اگر واجب ہوتی تو اس آیت کے الفاظ اس طرح نہ ہوتے۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، جو تیز فہم، گہری معرفت اور لطافت ِ علم سے متصف تھیں، نے وضاحت کی کہ آیت میں تو طواف کرنے والے سے گناہ کی نفی کی گئی ہے، پھر انھوں نے بتایا کہ اس آیت سے نہ سعی کا وجوب ثابت ہوتا ہے اور نہ عدم وجوب، پھر انھوں نے شانِ نزول اور اس سیاق کی حکمت کی وضاحت کر دی۔ مکہ مکرمہ سے سمندر کی جانب قدید کے قریب ایک جگہ کا نام مُشلَّل ہے۔