کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور¤دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
حدیث نمبر: 4382
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بَيْنَ الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ وَالْحَجَرِ: {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکن یمانی اورحجراسود کے درمیان یہ دعا پڑھ رہے تھے: {رَبَّنَا آتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَ فِیْ الْآخِـرَۃِ حَسَنَـۃً وَقِـنَا عَذَابَ النَّارِ} (اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطافرما اورآخرت میں بھی بھلائی نصیب فرمانا اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما)۔ (سورۂ بقرہ:۲۰۱)
وضاحت:
فوائد: … طواف کے دوران رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیانیہ دعا بطورِ خاص پڑھنی چاہیے، چکر کے باقی حصے میں کوئی بھی ذکر اور دعا کی جا سکتی ہے اور درود و سلام بھی پڑھا جا سکتا ہے، کسی چکر کا کوئی مخصوص ذکر نہیں ہے، چونکہ طواف کو نماز کہا گیا ہے اور ساری کی ساری نماز ذکر پر مشتمل ہے، اس لیے طواف میں بھی کثرت کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 4383
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي الْبَيْتَ فَيَسْتَلِمُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ: ((بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت اللہ میں تشریف لاتے اور حجراسود کا استلام کرتے تو یہ الفاظ پڑھتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۴۳۵۵) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: تم قوی آدمی ہو، اس لیے تم حجراسود پر ہجوم کرکے کمزوروں کو تکلیف نہ پہنچانا،اگر جگہ مل جائے تو استلام کرلینا، وگرنہ اس کی طرف رخ کرکے ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ اور ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ کہہ لینا۔‘‘حجر اسود کا استلام کرتے وقت یہ الفاظ کہنے چاہئیں۔
حدیث نمبر: 4384
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور جمرات کی رمی،یہ سارے امور اللہ تعالی کا ذکر کرنے کی خاطر مشروع کئے گئے ہیں۔
حدیث نمبر: 4385
عَنْ طَاوُسٍ عَنْ رَجُلٍ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّمَا الطَّوَفُ صَلَاةٌ، فَإِذَا طُفْتُمْ فَأَقِلُّوا الْكَلَامَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طواف نماز ہی ہے، اس لیے جب تم طواف کرو تو کم باتیں کیا کرو۔
حدیث نمبر: 4386
عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَطُوفُونَ وَهُمْ يَقُولُونَ: الْيَوْمُ قَرْنَا عَيْنَا نَقْرَعُ الْمَرْوَتَيْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سباع بن ثابت کہتے ہیں: میں نے اہلِ جاہلیت کو سنا کہ وہ طواف کرتے ہوئے یوں کہتے تھے: آج ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک ملی ہے کہ ہم صفا مروہ کی سعی کررہے ہیں۔