کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4379
عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ الْأَوْدِيَةَ وَجَاءَ بِهَدْيٍ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنْ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ بِعَرَفَةَ، فَأَمَّا أَنْتُمْ يَا أَهْلَ مَكَّةَ فَأَخِّرُوا طَوَافَكُمْ حَتَّى تَرْجِعُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورتحال تو یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیاں تو طے کر کے آئے تھے، لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تو اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ آپ وقوفِ عرفہ سے پہلے طواف کریں اور صفا مروہ کی سعی کریں، مکہ والو! رہا مسئلہ تمہارا تو تم لوگ حج سے واپسی تک طواف کو موخر رکھا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … جیسے اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ عمرہ کرنے والا صرف طوافِ قدوم ہی کرے گا، یعنییہی طواف اس کے عمرے کے لیے بھی کافی ہو گا، اسی طرح اس حقیقت پر بھی ان کا اجماع ہے کہ اہل مکہ، طوافِ قدوم سے مستثنی ہیں، کیونکہیہ طواف باہر سے آنے والے کے لیے مشروع ہے، اہل مکہ آٹھ ذوالحجہ کو اپنی اپنی رہائش گاہوں سے احرام باندھ کر منیٰ کو روانہ ہوجائیں گے اور دوسرے حاجیوں کی طرح واپس آ کر طوافِ افاضہ کریں گے۔
حدیث نمبر: 4380
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُ إِنْسَانًا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جو دوسرے آدمی کی ناک میں رسی ڈال کر اس کو کھینچ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست ِ مبارک سے اس رسی کو کاٹ دیا اور اسے حکم دیا کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچے۔
حدیث نمبر: 4381
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ بِخَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: ((قُدْهُ بِيَدِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کہ آپ کا ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزر ہوا، جس نے رسی وغیرہ کے ساتھ اپنا ہاتھ دوسرے آدمی کے ساتھ باندھا ہواتھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹ ڈالا اور فرمایا: اس کا ہاتھ پکڑ کر چلو۔
وضاحت:
فوائد: … تکریم انسانیت کا سبق دیا جا رہا ہے، اگر کسی انسان کو اس طرح پکڑنے کی ضرورت ہو تو اس کو ہاتھ سے پکڑنا چاہیے، رسی وغیرہ تو جانوروں کو ڈالی جاتی ہے۔ معلوم ہوا کہ دورانِ طواف خیر و بھلائی والی باتیں کی جا سکتی ہیں، حدیث نمبر (۴۳۲۶)کے فوائد میں اس موضوع سے متعلقہ مزید دلائل گزر چکے ہیں۔