کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: حج افراد کرنے والے کا طواف
حدیث نمبر: 4370
عَنْ وَبَرَةَ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: أَيَصْلُحُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَأَنَا مُحْرِمٌ؟ قَالَ: مَا يَمْنَعُكَ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَنْهَانَا عَنْ ذَلِكَ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ مِنَ الْمَوْقِفِ، وَرَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ مَالَتْ بِهِ الدُّنْيَا وَأَنْتَ أَعْجَبُ إِلَيْنَا مِنْهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَسُنَّةُ اللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ مِنْ سُنَّةِ ابْنِ فُلَانٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں آیا اور ان سے پو چھا: کیایہ جائز ہے کہ میں (حج افراد کے) احرام کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کروں؟ انھوں نے کہا: تمہیں اس سے کونسی چیز مانع ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا:فلاں آدمی ہمیں اس سے اس وقت تک منع کررہا ہے، جب تک لوگ عرفات سے واپس نہ آ جائیں، نیز میں نے اسے دیکھا ہے کہ دنیا نے اس کو فتنے میں ڈال رکھا ہے، تاہم ہماری نظر میں آپ اس سے برتر ہیں۔سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کیا تھا تو آپ نے بیت اللہ کا طوا ف اور صفا مروہ کی سعی کی تھی، اگر تمہاری بات درست ہے کہ فلاں آدمی تمہیں احرام کی حالت میں طواف کرنے سے منع کرتا ہے تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا طریقہ فلاں کے طریقے سے اولیٰ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … فلاں آدمی سے مراد سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، ان کا خیالیہ تھا کہ حج افراد کرنے والا طواف نہ کرے، وگرنہ اس کو حج فسخ کرنا پڑے گا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا تھا۔ لیکن جمہور اہل علم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق جب اس آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں کہاکہ ’’دنیا نے اس کو فتنے میں ڈال رکھا ہے‘‘ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے تواضع اور عاجزی کرتے ہوئے کہا: وَاَیُّنَا اَوْ اَیُّکُمْ لَمْ تَفْتِنْہُ الدُّنْیَا۔ … اور ہم میں سے یا تم میں سے کون ہے، جس کو دنیا نے فتنے میں مبتلا نہیں کیا۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں فتنے والی بات کرنے کی بنیادیہ تھی کہ وہ والی ٔ بصرہ بن گئے تھے، جبکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کسی قسم کی ولایت کو اختیار نہیں کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4370
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1233، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5194»
حدیث نمبر: 4371
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ؟ قَالَ: وَمَا بَأْسُ ذَلِكَ؟ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے حج کا احرام باندھا ہوا ہے تو کیا میں اس حالت میں بیت اللہ کاطواف کرسکتا ہوں؟ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس میں کیا حرج ہے؟اس نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے منع کیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے خود دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا اور آپ نے بیت اللہ کا طواف بھی کیااور صفا مروہ کی سعی بھی کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4371
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4512»
حدیث نمبر: 4372
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ أَنَّهُ خَرَجَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حُجَّاجًا حَتَّى وَرَدُوا مَكَّةَ فَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ فَاسْتَلَمُوا الْحَجَرَ، ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ أُسْبُوعًا، ثُمَّ صَلَّيْنَا خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا رَجُلٌ ضَخْمٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ يُصَوِّتُ بِنَا عِنْدَ الْحَوْضِ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ وَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَقَالُوا: ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَتَيْنَاهُ قَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: أَهْلُ الْمَشْرِقِ وَثَمَّ أَهْلُ الْيَمَامَةِ، قَالَ: فَحُجَّاجٌ أَمْ عُمَّارٌ؟ قُلْتُ: بَلَى حُجَّاجٌ، قَالَ: فَإِنَّكُمْ قَدْ نَقَضْتُمْ حَجَّكُمْ، قُلْتُ: قَدْ حَجَجْتُ مِرَارًا فَكُنْتُ أَفْعَلُ كَذَا، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا مَكَانَنَا، حَتَّى يَأْتِيَ ابْنُ عُمَرَ، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ عُمَرَ إِنَّنَا قَدِمْنَا فَقَصَصْنَا عَلَيْهِ قِصَّتَنَا وَأَخْبَرْنَاهُ، قَالَ: إِنَّكُمْ نَقَضْتُمْ حَجَّكُمْ، قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَخَرَجْتُمْ حُجَّاجًا؟ قُلْنَا: نَعَمْ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ كُلُّهُمْ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبداللہ بن بدر سے روایت ہے کہ وہ اپنے چند احباب کے ساتھ حج کو روانہ ہوئے، جب یہ لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو مسجد حرام میں داخل ہوئے اور حجراسود کا استلام کیا، پھر ہم نے بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے، اس کے بعد ہم نے مقام ابراہیم کے پیچھے دورکعت نماز ادا کی، اتنے میں ہم نے دیکھا کہ ایک بھاری بھرکم آدمی، جس نے ایک چادر باندھی ہوئی تھی اور ایک چادر اوپر اوڑھ رکھی تھی، وہ حوض کے پاس بیٹھا ہمیں بلارہا تھا۔ ہم اس کی طرف چلے گئے، جب میں نے اس کے متعلق پوچھا کہ یہ کون آدمی ہے تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا: ہم اہل یمامہ ہیں، جو مشرق کی طرف سے آئے ہیں، انہوں نے پوچھا: حج کے لئے آئے ہو یا عمرہ کرنے کے لئے؟ میں نے کہا: جی حج کے لیے آئے ہیں، انھوں نے کہا: تم لوگوں نے تو اپنا حج فاسد کردیا ہے، میں نے عرض کیا: میں تو متعدد مرتبہ حج کرچکا ہوں اور ہر دفعہ ایسے ہی کرتا رہاہوں۔اس کے بعد ہم اپنی رہائش گاہ کی طرف چلے گئے، تاکہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آئیں اور ہم ان سے یہ مسئلہ دریافت کریں۔ میں نے عرض کیا: اے عبد اللہ بن عمر! ہم حج کرنے کے لیے آئے ہیں، پھر ہم نے سارا ماجرا ان کے گوش گزار کیا اور کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے تو ہمیں کہا ہے کہ ہمارا حج فاسد ہو گیا ہے۔سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، بتاؤ کیا تم حج کرنے آئے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ، ان سب نے حج کیا اور سب نے اسی طرح کیا تھا جس طرح تم نے کیا ہے، یعنی تمہارا عمل درست ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو حج قران کر رہے تھے، بہرحال حج افراد کرنے والے کے لیے عرفہ میں وقوف کرنے سے پہلے طواف قدوم اور صفا مروہ کی سعی مشروع ہے، پھر ایسا شخص (۱۰) ذوالحجہ کو طوافِ افاضہ کرے گا اور صفا مروہ کی پہلی سعی پر اکتفا کرتے ہوئے دوبارہ سعی نہیں کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4372
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 3906، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5939»