کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4034
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ وَسَأَلُوهُ عَنْ لَيْلَةٍ يَتَرَاءَوْنَهَا فِي رَمَضَانَ، قَالَ: ((لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رمضان کے بارے میں شب ِ قدر کے بارے میں سوال کیا، تاکہ وہ اسے تلاش کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تئیسویں رات ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4034
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ اخرجه ابوداود: 1379، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16044 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16140»
حدیث نمبر: 4035
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَأَرَانِي صَبِيحَتَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ))، فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَانْصَرَفَ وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے شب ِ قدر کو دیکھا تو تھا، لیکن پھر وہ مجھے بھلوا دی گئی، اب میں دیکھتا ہوں کہ میں اس رات کی صبح کو پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ پس تئیسویں رات کو بارش ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں (صبح) کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ کی پیشانی اور ناک پر کیچڑ کا نشان تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4035
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16141»
حدیث نمبر: 4036
وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ هَذَا الشَّهْرِ (يَعْنِي رَمَضَانَ) فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَتَى نَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ الْمُبَارَكَةَ؟ قَالَ: ((الْتَمِسُوهَا هَذِهِ اللَّيْلَةَ))، وَقَالَ: وَذَلِكَ مَسَاءَ لَيْلَةِ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَهِيَ إِذًا يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوَّلُ ثَمَانٍ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّهَا لَيْسَتْ بِأَوَّلِ ثَمَانٍ وَلَكِنَّهَا أَوَّلُ السَّبْعِ، إِنَّ الشَّهْرَ لَا يَتِمُّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ماہِ رمضان کے اواخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس برکت والی رات کو کب تلاش کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو اسی آج والی رات میں تلاش کرو۔ یہ تئیسویں رات کی شام کو بات ہو رہی تھی، ایک آدمی نے کہا:اے اللہ کے رسول! اس کا مطلب یہ ہوا کہ بقیہ آٹھ راتوں میں پہلی رات شب ِ قدر ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بقیہ آٹھ میں پہلی نہیں ہے، بلکہ بقیہ سات میں پہلی ہے، یہ مہینہ تیس دن کا پورا نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4036
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ اخرجه ابن خزيمة: 2185، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 5481، و أخرجهه بنحوه ابوداود: 1380، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16046 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16142»
حدیث نمبر: 4037
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حُذَيْفَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَظَرْتُ إِلَى الْقَمَرِ صَبِيحَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَرَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ، وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: إِنَّمَا يَكُونُ الْقَمَرُ كَذَاكَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے شب ِ قدر کی صبح کو چاند کی طرف دیکھا، وہ مجھے آدھے تھال کی مانند نظر آیا، ابو اسحاق نے کہا: تئیسویں رات کی صبح کو چاند ایسے ہی دکھائی دیتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4037
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 3411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23517»
حدیث نمبر: 4038
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خَرَجْتُ حِينَ بَزَغَ الْقَمَرُ، كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ))، فَقَالَ: ((اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت نکلا جب چاند طلوع ہو رہا تھا، وہ آدھے تھال کی طرح لگ رہا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج شب ِ قدر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4038
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف حديج بن معاويه، كان سييء الحفظ كثير الوھم، وسماعه من ابي اسحاق السبيعييغلب علي ظننا انه بعد الاختلاف لمخالفة شعبة له في اسناد الحديث۔ اخرجه ابو يعلي: 525، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 793»
حدیث نمبر: 4039
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ فِي رَمَضَانَ، فَقِيلَ لِي: إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ، قَالَ: فَقُمْتُ وَأَنَا نَاعِسٌ فَتَعَلَّقْتُ بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي، قَالَ: فَنَظَرْتُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ماہِ رمضان میں سویا ہوا تھا، مجھے خواب میں کہا گیا کہ آج شب ِ قدر ہے، میں اونگھتا ہوا اٹھ پڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیمے کی رسیوں کے ساتھ لٹکا ، پھر جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، یہ تئیسویں رات تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4039
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه الطبراني: 11777، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2302»
حدیث نمبر: 4040
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ؟))، قَالَ: قُلْنَا: مَضَتْ ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَ ثَمَانٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا، بَلْ مَضَتْ مِنْهُ ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَ سَبْعٌ، اطْلُبُوهَا اللَّيْلَةَ))، قَالَ: يَعْلَى فِي حَدِيثِهِ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اس مہینہ کے کتنے دن گزر چکے ہیں؟ ہم نے کہا: بائیس دن گزر چکے ہیں اور آٹھ باقی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، بلکہ بائیس گزر چکے ہیں اور سات باقی ہیں، اس رات کو شب ِقدر کو تلاش کرو، مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی پہلی احادیث کے راوی سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ رمضان کی تئیسویں رات کو شب ِ قدر قرار دیتے تھے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال اس باب سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں رمضان کی تئیسویں کی رات بھی، قدر والی رات ہوئیہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4040
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه ابن ماجه: 1656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7423 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7417»