کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4025
عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: ذُكِرَتْ لَيْلَةُ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِمُلْتَمِسِهَا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي عَشْرِ الْأَوَاخِرِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوِتْرِ مِنْهُ))، قَالَ: فَكَانَ أَبُو بَكْرَةَ يُصَلِّي فِي الْعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ كَصَلَاتِهِ فِي سَائِرِ السَّنَةِ، فَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اجْتَهَدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس شب ِ قدر کا ذکر ہوا، انہوں نے کہا:میں تو اس رات کو صرف آخری عشرے میں تلاش کروں گا، کیونکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم اس کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا معمول یہ تھا کہ وہ رمضان کے پہلے بیس دنوں میں تو پورے سال والی عادت کے مطابق نماز پڑھتے، لیکن جب آخری عشرے کا آغاز ہو جاتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے۔
حدیث نمبر: 4026
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِي وِتْرٍ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهَا فَنُسِّيتُهَا وَهِيَ لَيْلَةُ مَطَرٍ وَرِيحٍ أَوْ قَالَ: قَطْرٍ وَرِيحٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناجابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شب ِ قدر کو ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو، میں نے اس رات کو دیکھا تو تھا، لیکن پھر مجھے بھلا دیا گیا، (اس دفعہ) یہ بارش اور ہوا والی رات ہو گی۔
حدیث نمبر: 4027
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَتَلَاحَى رَجُلَانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى رَجُلَانِ فَرُفِعَتْ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ، أَوِ السَّابِعَةِ أَوِ الْخَامِسَةِ، (وَفِي لَفْظٍ فَاطْلُبُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تَاسِعَةٍ أَوْ سَابِعَةٍ أَوْ خَامِسَةٍ)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں شب ِ قدر کے بارے میں بتلانا چاہتے تھے، (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ) دو آدمی جھگڑ رہے تھے، اور پھر فرمایا: میں تمہیں شب ِ قدر کے بارے میں بتلانے کے لیے آرہا تھا، لیکن جب دو آدمیوں کو جھگڑتا ہوا پایا تو وہ علامتیں اٹھا لی گئیں اور ممکن ہے کہ اسی میں تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو، اب تم اس کو آخری عشرے میں اکیسویں، تئیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرنا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ استدلال بھی کر لینا چاہیے کہ مسلمانوں کا آپس میں جھگڑناکس قدر نحوست والا فعل ہے کہ اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ ٔ مبارکہ سے شب ِ قدر کی علامتیں اٹھا لی گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرماناکہ’’ ممکن ہے کہ اسی میں تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔‘‘ بہتری کی وجہ یہ ہے کہ اگر شب ِ قدر کا تعین کر دیا جاتا ہے تو صرف ایک رات کا قیام کیا جاتا، اب جو شخص لیلۃ القدر کو پانے کا ارادہ کرے گا، اس کو آخری عشرے کی پانچ طاق راتوں کا قیام کرنا پڑے گا، ان میں سے ایک قدر والی رات ہو گی اور باقی چار راتوں کے قیام کا ثواب بھی مل جائے گا۔
حدیث نمبر: 4028
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا، فَفِي أَيِّ الْوِتْرِ تَرَوْنَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب ِ قدر کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے، تم اس کو جانتے ہی ہو، تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو، تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ کونسی طاق رات ہوگی؟
حدیث نمبر: 4029
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس رات کو آخری عشرے میں اس وقت تلاش کیا کرو، جب نو یا پانچ یا سات راتیں باقی ہوں۔
حدیث نمبر: 4030
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 4031
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَقَدْ بُيِّنَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَمَسِيحُ الضَّلَالَةِ، فَكَانَ تَلَاحٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ، فَأَتَيْتُهُمَا لِأَحْجِزَ بَيْنَهُمَا فَأُنْسِيتُهَا وَسَأَشْدُو لَكُمْ شَدْوًا، أَمَّا لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا، وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَإِنَّهُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ، أَجْلَى الْجَبْهَةِ، عَرِيضُ النَّحْرِ، فِيهِ دَفْءٌ، كَأَنَّهُ قَطَنُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى))، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ!، يَضُرُّنِي شَبَهُهُ؟ قَالَ: ((لَا، أَنْتَ امْرُؤٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ امْرُؤٌ كَافِرٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے شب ِ قدر اور ضلالت والے مسیح دجال کے بارے میں حتمی طور پر بتلا دیا گیا تھا، میں تمہیں آگاہ کرنے کے لیے آیا، لیکن مسجد کے دروازے پر دو آدمی آپس میں الجھ رہے تھے، میں ان کے درمیان رکاوٹ بننے کے لیے ان کی طرف گیا، اتنے میں مجھے ان باتوں کا علم بھلا دیا گیا، اب بالاختصار بات یہ ہے کہ تم شب ِ قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو اور دجال کانا ہوگا، پیشانی پر بال تھوڑے ہوں گے، گردن موٹی ہوگی، کبڑے پن کی وجہ سے جھکا ہوا ہو گا، یوں سمجھیں کہ گویا کہ وہ قطن بن عبدالعزی کے مشابہ ہوگا۔ یہ سن کر سیدنا قطن رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس کے ساتھ میری مشابہت میرے لیے نقصان دہ تو نہیں ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، تم مسلمان ہو اور وہ کافر ہوگا۔
حدیث نمبر: 4032
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ، فَلَمَّا تَفَضَّلَ أَمَرَ بِبُنْيَانِهِ، فَنُقِضَ ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَنَّهَا أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَخَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ فَجَاءَ رَجُلَانِ يَحْتَقَّانِ، مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَنُسِّيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ))، فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ! إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، قَالَ: أَنَا أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكُمْ، فَمَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ؟ قَالَ: تَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا التَّاسِعَةُ، وَتَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ ثَلَاثَةً وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ، وَتَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب ِ قدر کی وضاحت سے قبل رمضان کے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا، جب یہ عشرہ بیت گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حجرے کو اکھاڑنے کا حکم دیا، سو اسے اکھاڑ دیا گیا، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر واضح ہوا کہ وہ رات تو آخری عشرے میں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ حجرہ دوبارہ لگا دیا جائے، پس اسے دوبارہ کھڑا کر دیا گیا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری عشرے کا اعتکاف کیا، پھر لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! مجھے حتمی طور پر شب ِ قدر کے بارے میں بتلا دیا گیا تھا اور میں تمہیں آگاہ کرنے کے لیے آرہا تھا، لیکن ہوا یوں کہ دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے،ان کے ساتھ شیطان بھی تھا، پس مجھے یہ علم بھلا دیا گیا، اب تم اس رات کو نویں اور ساتویں اور پانچویں طاق رات میں تلاش کرو۔ میں ابونضرہ نے کہا:اے ابوسعید! آپ ہم سے بہتر گنتی جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہم (صحابہ ہونے کی وجہ سے) تمہاری بہ نسبت اس کے زیادہ حقدار بھی ہیں۔ میں نے کہا: نویں، ساتویں اور پانچویں رات کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے کہا: جس رات کو تم اکیسویں رات کہتے ہو، اسے چھوڑ دو، اس سے اگلی رات نویں ہے،جس رات کو تم تئیسویں رات کہتے ہو، اسے چھوڑ دو اس سے اگلی رات ساتویں ہے اور جس رات کو تم پچیسویں رات کہتے ہو، اسے چھور دو، اس سے اگلی رات پانچویں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول ’’نویں، ساتویں اور پانچویں‘‘ سے مراد اکیسویں، تئیسویں اور پچیسویں رات ہے، لیکن سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی وضاحت کا مقصد مہینہ کو تیس دنوں کا فرض کر کے سائل کو سمجھانا ہے کہ عرب لوگ آخر سے بھی مہینہ کو شمار کر لیتے ہیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کا تعلق (۲۹) دنوں کے مہینہ سے ہے۔