حدیث نمبر: 4017
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفِي رَمَضَانَ هِيَ أَوْ فِي غَيْرِهِ؟، قَالَ: ((بَلْ هِيَ فِي رَمَضَانَ))، قَالَ: قُلْتُ: تَكُونُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا، فَإِذَا قُبِضُوا رُفِعَتْ أَمْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: ((بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ))، قَالَ: قُلْتُ: فِي أَيِّ رَمَضَانَ هِيَ؟ قَالَ: ((الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَّلِ، أَوْ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ))، ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ ثُمَّ اهْتَبَلْتُ غَفْلَتَهُ، قُلْتُ: فِي أَيِّ الْعِشْرِينَ هِيَ؟ قَالَ: ((ابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا))، ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ وَحَدَّثَ ثُمَّ اهْتَبَلْتُ غَفْلَتَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِحَقِّي عَلَيْكَ لَمَا أَخْبَرْتَنِي فِي أَيِّ الْعَشْرِ هِيَ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ مِثْلَهُ مُنْذُ صَحِبْتُهُ أَوْ صَاحَبْتُهُ، كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ: ((الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! مجھے شب ِ قدر کے بارے میں بتلائیں کہ یہ ماہِ رمضان میں ہوتی ہے یا کسی اور مہینے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ماہِ رمضان میں ہوتی ہے۔ میں نے کہا: کیایہ رات اس وقت تک ہوتی ہے، جب تک اللہ کے نبی دنیا میں موجود ہوں اور جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں تو یہ بھی اٹھا لی جاتی ہے یایہ قیامت تک باقی رہے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ تو قیامت تک باقی رہے گی۔ میں نے کہا: یہ ماہِ رمضان کے کس حصہ میں ہوتی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے پہلے یا آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف باتیں بیان کیں، لیکن بیچ میں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مصروفیت سے وقتی عدم توجہ کو غنیمت سمجھتے ہوئے اچانک یہ سوال کر دیا کہ ان بیس راتوں میں سے کونسی شب ِ قدر ہو سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرو، اب اس کے بعد مجھ سے کوئی سوال نہ کرنا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید گفتگو جاری رکھی اور میں نے پھر موقع پا کر اور آپ کی مصروفیت سے وقتی عدم توجہ کو غنیمت جان کر یہ سوال کر دیا کہ اے اللہ کے رسول! میرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو حق ہے، میں اس کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مجھے بتلا دیں کہ ان دس راتوں میں قدر والی رات کون سی ہے؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مجھ پر اس قدر غصہ آیا کہ جب سے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں تھا، کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر اس قدر غضبناک نہیں ہوئے تھے، بہرحال پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیتے ہوئے فرما دیا کہ : تم اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرو، اب اس کے بعد کوئی سوال نہ کرنا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ قدیم صحبت والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصے کی وجہ ان کا اصرار کے ساتھ سوال کرنا تھا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو منع بھی کر چکے تھے، لیکن شب ِ قدر کی معرفت اور حصول علم کی حرص ان کو مزید سوال پر آمادہ کر رہی تھی۔
حدیث نمبر: 4018
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَرَوْنَ الرُّؤْيَا فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنِّي أَوْ قَالَ: أَسْمَعُ رُؤْيَاكُمْ تَوَاطَأَتْ عَلَى السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُتَحَرِّيهَا، فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگ مختلف خواب دیکھتے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان کرتے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے خواب سن رہا ہوں، یہ ماہِ رمضان کی آخری سات راتوں سے موافقت رکھتے ہیں، لہذا تم میں سے جو آدمی شب ِ قدر کو تلاش کرنا چاہتا ہے، وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔
حدیث نمبر: 4019
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ، فِي التِّسْعِ الْغَوَابِرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شب ِ قدر کو آخری دس یا آخری نو راتوں میں تلاش کیا کرو۔
حدیث نمبر: 4020
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِمْ مُسْرِعًا، قَالَ: حَتَّى أَفْزَعَنَا مِنْ سُرْعَتِهِ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا قَالَ: جِئْتُ مُسْرِعًا أُخْبِرُكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَلَكِنِ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی تیزی سے صحابہ کی طرف آئے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلدی کو دیکھ کر گھبرا گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس پہنچے تو فرمایا: میں تمہیں شب ِ قدر سے آگاہ کرنے کے لیے تیزی سے آرہا تھا، لیکن جو چیز تمہیں بتانا چاہتا تھا وہ راستہ میں مجھے بھلا دی گئی، بہرحال تم اس رات کو ماہِ رمضان کے آخری دھاکے میں تلاش کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … بھول جانے کی وجہ یہ تھی کہ دو آدمی جھگڑ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُدھر مصروف ہوئے تو شب ِ قدر کی علامتیں بھلا دی گئیں۔
حدیث نمبر: 4021
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((اطْلُبُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَإِنْ غُلِبْتُمْ، فَلَا تُغْلَبُوا عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شب ِ قدر کو ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کیا کرو، اگر تم ایسا کرنے سے مغلوب ہو جاؤ تو آخری سات دنوں میں اس کو تلاش کرنے سے پیچھے نہ رہنا۔