کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4009
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوقِظُ أَهْلَهُ (وَفِي لَفْظٍ: نِسَاءَهُ) فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل وعیال کو عبادت کے لیے بیدار رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 4010
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَيْقَظَ أَهْلَهُ وَرَفَعَ الْمِئْزَرَ، (وَفِي لَفْظٍ: وَشَدَّ الْمِئْزَرَ)، قِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ: مَا رَفَعَ الْمِئْزَرَ؟ قَالَ: اعْتِزَالُ النِّسَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اہل وعیال کو بیدار رکھتے اور چادر کس لیا کرتے تھے، ابو بکر بن عیاش سے کسی نے پوچھا: چادر کس لینے کا مفہوم کیا ہے؟ انھوں نے کہا: بیویوں سے علیحدگی۔
حدیث نمبر: 4011
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب ماہِ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ رات کو خود بھی بیدار رہتے اور اپنے اہل وعیال کو بھی جگا کر رکھتے اور چادر کس لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 4012
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): قَالَتْ: كَانَ يَخْلِطُ فِي الْعِشْرِينَ الْأُولَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ وَصَلَاةٍ، فَإِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ جَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ماہِ رمضان کے پہلے بیس دنوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو سوتے بھی تھے اور نماز بھی پڑھتے تھے، لیکن جب آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے اور چادر کس لیتے۔
حدیث نمبر: 4013
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت کرنے میں جو محنت کرتے تھے، وہ باقی دنوں میں نہ کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رمضان کے آخری عشرے کی راتوں کو خوب عبادت کی جائے اور آل اولاد کو بھی اس مقصد کے لیے بیدار رکھا جائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شب ِ قدر بھی اسی عشرے میں ہے اور یہ رمضان کا آخر بھی ہے اور عام لوگوں نے رہی سہی کمی بیشی کو بھی اسی دھاکے میں پورا کرنا ہے۔ آج کل اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ جب وہ اس عشرے کی راتوں کونوافل کا اور شب ِ قدر کے قیام کے لیے بیدار رہنے کا اہتمام کرتے ہیں تو ان کا بیشتر وقت گپ شپ لگانے اور چائے وائے پینے میں گزر جاتا ہے۔