کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 4006
عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَذِنَ لَهَا، فَأَمَرَتْ بِبِنَائِهَا فَضُرِبَ وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَتْ، فَأَمَرَتْ بِبِنَائِهَا، فَضُرِبَ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ أَمَرَتْ بِبِنَائِهَا فَضُرِبَ، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى انْصَرَفَ، فَبَصُرَ بِالْأَبْنِيَةِ، فَقَالَ: ((هَذِهِ؟)) قَالُوا: بِنَاءُ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، وَزَيْنَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((آلْبِرَّ أَرَدْتُنَّ بِهَذَا؟ مَا أَنَا بِمُعْتَكِفٍ))، فَرَجَعَ فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَكَفَ عَشْرَ شَوَّالٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف کا ذکر کیا،یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اعتکاف کی اجازت لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی،پھر انہوں نے اپنے لیے ایک خیمے کا حکم دیا،جو نصب کر دیا گیا، اس کے بعد سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ اس کے لیے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اعتکاف کی اجازت طلب کریں۔ انہوں نے اجازت لی لے، چنانچہ انہوں نے بھی اپنے لیے خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا، جو نصب کر دیا گیا۔ جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے یہ کچھ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنا خیمہ لگوا لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر پھرے تو یہ خیمے دیکھ کر پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدہ عائشہ، سیدہ حفصہ اور سیدہ زینب کے اعتکاف کیلئے خیمے لگائے گئے ہیں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس سے تمہارا مقصود نیکی کا ہے؟ میں نے اب اعتکاف نہیں کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آگئے اور جب ماہِ رمضان سے فارغ ہوئے تو شوال کے دس دنوں کا اعتکاف کیا۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مصلحت کے لیے اعتکاف ترک کر دیا تھا، لیکنیہ مسئلہ ثابت ہو گیا کہ خواتین کے لیے جائے اعتکاف بھی مسجد ہی ہے۔ اگر کوئی خاتون اعتکاف میں بیٹھنا چاہے تو وہ خاوند سے اجازت لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4006
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 2045، ومسلم: 1173، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25051»
حدیث نمبر: 4007
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ مُسْتَحَاضَةٌ فَكَانَتْ تَرَى الصُّفْرَةَ وَالْحُمْرَةَ، فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اہلیہ نے اعتکاف کیا، حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں، ان کو زردی اور سرخی مائل خون آتا تھا، بسا اوقات تو ہم ان کے نیچے تھال رکھتیں، جبکہ وہ نماز ادا کر رہی ہوتی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … استحاضہ: وہ خون ہے، جو کسی رگ کے پھٹنے کی وجہ سے عورت کی شرمگاہ سے خارج ہوتا ہے، یہ خون حیض اور نفاس کے خون کے علاوہ ہوتا ہے، ایسی عورت کو مستحاضہ کہتے ہیں اور یہ صوم و صلاۃ سے مستثنی نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4007
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 310، 2037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25512»
حدیث نمبر: 4008
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔
وضاحت:
فوائد: … اعتکاف کا محل مسجد ہی ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَا تُبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عَاکِفُوْنَ فِی الْمَسَاجِدِ} (سورۂ بقرہ: ۱۸۷) … ’’عورتوںسے اس وقت مباشرت نہ کرو جب تم مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں ہو۔‘‘ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کی مردوں اور عورتوں میں جائے اعتکاف کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے، جو خواتین اعتکاف کرنے کی خواہش مند ہوں، وہ مسجد میں ہی اعتکاف کریں۔ عہد ِ نبوی میں عورتوں کا اعتکاف بھی مسجد میں ہی ہوتا تھا، اگر کسی علاقے میں کسی فتنے کا اندیشہ ہو تو خواتین اعتکاف نہ کریں، فتنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ مسئلہ کو تبدیل کر کے گھروں میں اعتکاف کا اہتمام شروع کر دیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 4008
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 2026، ومسلم: 1171، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25120»