کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3973
عَنْ صَدَقَةَ الدِّمَشْقِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ الصِّيَامِ صِيَامَ أَخِي دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صدقہ دمشقی کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور روزوں کے بارے میں سوال کیا۔انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : سب سے زیادہ فضیلت والے روزے میرے بھائی داؤد علیہ السلام کے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3973
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، الفرج بن فضالة ضعيف، وابوھرم مجھول، وصدقة الدمشقي لايعرف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2876»
حدیث نمبر: 3974
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَهُ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: داود علیہ السلام کے روزے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور اسی طرح ان کی رات کی نماز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ نصف رات سونے کے بعد ایک تہائی رات قیام کرتے اور پھر رات کا چھٹا حصہ سو جاتے، رہا مسئلہ روزوں کا تو وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … داود علیہ السلام ایک تہائی رات قیام کرتے تھے، اگر چھ گھنٹے کی رات ہو تو وہ تین گھنٹے سوتے تھے، دو گھنٹے قیام کرتے تھے اور پھر ایک گھنٹہ سو جاتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3974
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1131، ومسلم: 1159 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6491»
حدیث نمبر: 3975
عَنْ أَبِي سَلْمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَعَمْ، قَالَ: ((فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ))، قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشَدَّدَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: ((فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ))، قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشَدَّدَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: ((صُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ وَلَا تَزِدْ عَلَيْهِ))، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا كَانَ صِيَامُ دَاوُدَ (عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ) قَالَ: ((كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم ساری رات قیام کرتے ہو اور ہر روز روزہ رکھتے ہو۔ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ رکھا کروا ور ناغہ بھی کیا کرو اوررات کو قیام بھی کیا کر اور سویا بھی کر، کیونکہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے، تیری اہلیہ کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے، مہینہ میں تین روزے رکھ لیا کر،اتنے ہی تیرے لیے کافی ہیں۔ لیکن ہوا یوں کہ میں نے سختی کی،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی فرمائی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ہر ہفتہ میں تین دن روزے رکھ لیا کر۔ لیکن میں نے سختی کی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی کی اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ روزے رکھنے کی قوت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کی طرح روزے رکھ لیا کر اور ان پر اضافہ نہ کر۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! داود علیہ السلام کیسے روزے رکھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3975
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1975، 5199، ومسلم: 1159 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6867»
حدیث نمبر: 3976
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مُرْنِي بِصِيَامٍ، قَالَ: ((صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ))، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً فَزِدْنِي، قَالَ: ((صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ))، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً فَزِدْنِي، قَالَ: ((فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ سَبْعَةِ أَيَّامٍ))، قَالَ: فَمَا زَالَ يَحُطُّ لِي، حَتَّى قَالَ: ((إِنَّ أَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ أَوْ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ شَكَّ الْجُرَيْرِيُّ، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا))، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَمَّا ضَعُفَ: لَيْتَنِي كُنْتُ قَنَعْتُ بِمَا أَمَرَنِي بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے روزوں کے متعلق حکم دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کرو، تمہیں مزید نو دنوں کا اجر بھی مل جائے گا، (کیونکہ ہر نیکی کا اجر دس گنا ملتا ہے) ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں، اس لیے آپ مجھے زیادہ روزے رکھنے کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دو دن روزہ رکھ لیا کرو، تمہیں مزید آٹھ دنوں کا ثواب مل جائے گا۔ لیکن میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ میں اس سے زیادہ کی قوت ہے، لہٰذا آپ مجھے مزید روزوں کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دن روزے رکھ لیا کرو، تمہیں مزید سات دنوں کے روزوں کا ثواب مل جائے گا۔ لیکن میری بار بار گزارش سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید عمل کی مزید گنجائش پیدا کرتے گئے (اور اجر میں کمی کرتے گئے)، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل روزے میرے بھائی داود علیہ السلام کے ہیں، اور وہ اس طرح کہ تم ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو۔ جب سیدنا عبداللہ بوڑھے ہو گئے تو کہا کرتے تھے: کاش کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے حکم پر اکتفا کر لیا ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3976
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بغير ھذه السياقة، وھو حديث ذكره الامام احمد في عدة اماكن، أخرج بعض لفظه البخاري و مسلم، وانظر لتفصيله الرقم: 6477 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6877 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6877»
حدیث نمبر: 3977
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَصُومُ ذَلِكَ الصِّيَامَ حَتَّى أَدْرَكَهُ السِّنُّ وَالضَّعْفُ، كَانَ يَقُولُ: لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدناعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، … سابقہ حدیث کی طرح ہی بیان کیا … ،مزید اس میں ہے: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اسی طرح روزے رکھتے رہے، یہاں تک کہ وہ عمر رسیدہ اور کمزور ہو گئے، اس وقت وہ کہا کرتے تھے: اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دی ہو ئی رخصت کو قبول کر لیتا تو یہ مجھے میرے اہل وعیال اور مال و دولت سے زیادہ پسند ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … دوسری سندوالی پوری حدیثیہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،، سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے اور ان سے پوچھا: ’’مجھے تمہارے بارے میں یہ ا طلاع ملی ہے کہ تم رات کو قیام کرتے ہو اور دن کو روزہ رکھتے ہو۔‘‘ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے لیےیہی عمل کافی ہے کہ تم ایک ماہ میں تین روزے رکھ لیا کرو، چونکہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ملتا ہے، اس لیے گویا کہ یہ سارے زمانے کے روزے ہو جائیں گے۔‘‘ انھوں نے کہا: لیکن میں نے اپنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سختی کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی کی، میں نے کہا: میرے اندر مزید طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تو پھر تجھے ہر ہفتہ سے تین روزے کفایت کریں گے۔‘‘ لیکن میں نے مزید سختی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی کی، میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ عمل کی طاقت موجود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بہترین روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں،یعنی نصف زمانہ کے روزے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تیرے نفس کا تجھ پر حق ہے اور تیرے اہل کا تجھ پر حق ہے۔‘‘ بہرحال سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ یہی روزے رکھتے رہے، لیکن جب وہ عمرہ رسیدہ اور کمزور ہو گئے تو وہ کہا کرتے تھے: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی تو یہ مجھے میرے اہل و مال سے بہتر تھی۔ یہ وجہ زیادہ اچھی لگتی ہے کہ ایک ایک ناغے سے روزہ رکھنے سے روزوں کی کثرت بھی ہوگی اور یہ کثرت عین مطلوب ہے اور زیادہ مشقت اور کمزوری بھی نہیں ہوگی کیونکہ روزوں کے درمیان ناغہ کر لینے سے روزہ رکھنے سے لاحق ہونے والی کمزوری ساتھ ساتھ دور ہوتی جائے گی اور دیگر حقوق بھی متاثر نہیں ہوں گے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3977
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6878»