حدیث نمبر: 3963
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ماہِ رمضان کے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے، اس نے گویا سال بھر روزے رکھے۔
حدیث نمبر: 3964
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ماہِ رمضان کے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے، اس نے گویا پورے سال کے روزے رکھے۔
حدیث نمبر: 3965
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، فَشَهْرٌ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ، وَصِيَامُ سِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ، فَذَلِكَ تَمَامُ صِيَامِ السَّنَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، تویہ ایک مہینہ ثواب میں دس مہینوں کے برابر ہو جائے گا اور پھر افطاری یعنی عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھ لیے تو یہ ثواب کے لحاظ سے پورے سال کے روزے ہو جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … رمضان کے مکمل اور شوال کے چھ، کل (۳۶) روزے بنتے ہیں اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا ملتا ہے، اس اعتبار سے ایسے آدمی کو (۳۶۰) یعنی ایک سال کے روزوں کا ثواب ملتا ہے۔ شوال کے چھ روزوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ عید الفطر کے فوراً بعد شروع کئے جائیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ وہ لگاتار رکھے جائیں، پورے مہینے میں جیسے آسانی ہو، چھ کی گنتی پوری کر لی جائے۔