کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: محرم کی (۹)تاریخ کو یوم عاشوراء قرار دینے والوں اور اس سے پہلے یا بعد میں روزہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3926
عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عِنْدَ زَمْزَمَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسُ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، قَالَ: عَنْ أَيِّ بَالِهِ تَسْأَلُ؟ قُلْتُ: عَنْ صَوْمِهِ، قَالَ: إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعِهِ فَأَصْبِحْ مِنْهُ صَائِمًا، قُلْتُ: أَكَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حکم بن اعرج کہتے ہیں: میں سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ زمزم کے کنویں کے قریب ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے۔ میں نے پوچھا: آپ مجھے یومِ عاشورہ کے بارے میں بتائیں۔ انھوں نے کہا: اس کی کون سی حالت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اس دن کے روزے کے بارے میں، انھوں نے کہا: جب ماہ محرم کا چاند دیکھو، تو تاریخ کو شمار کرتے رہو، جب ۹ محرم کی صبح ہو جائے تو اس دن روزہ رکھو۔میں نے پوچھا:’کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح روزہ رکھا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3926
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1133، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2135»
حدیث نمبر: 3927
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ)، بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) إِذَا أَنْتَ أَهَلَلْتَ الْمُحَرَّمَ فَاعْدُدْ تِسْعًا ثُمَّ أَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا، الْحَدِيثَ كَمَا تَقَدَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: جب تم ماہِ محرم کا چاند دیکھو تو (۹) محرم تک شمار کرتے رہو اور نویں محرم کی صبح روزہ کی حالت میں کرو۔ باقی حدیث اوپر والی ہی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا مقصود یہ نہیں ہے کہ (۹) محرم یوم عاشوراء ہے، وہ درج ذیل حدیث اور اس کی تشریح میں مذکورہ احادیث کی روشنی میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ محرم کی (۹) اور (۱۰) تاریخوں کا روزہ رکھا جائے۔ امام شوکانی نے کہا: زیادہ مناسب یہی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس نے اس دن کی طرف سائل کی رہنمائی کی ہے، جس میں روزہ رکھا جاتا ہے اور اس کے لیےیوم عاشوراء کا تعین نہیں کیا کہ وہ محرم کا دسواں دن ہے، کیونکہ اس کے بارے میں تو سوال ہی نہیں کیا گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ سائل کا مقصود یہ ہے کہ اس دن کا تعین کیا جائے جس کو روزہ رکھا جائے گا، اس لیے انھوں نے (۹) محرم کی بات کی۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ کہنا کہ ’’جی ہاں، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے۔‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ رہتے تو اسی طرح روزے رکھنے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قولی حدیث میں اسی چیز کی وضاحت کی تھی۔ (نیل الاوطار: ۴/ ۳۲۶)
درج ذیل حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اگر آئندہ سال زندہ رہا تو نو (تاسع) محرم کا روزہ رکھوں گا۔ اس سے نو اور دس محرم کے دو روزے رکھنے کی تائید نہیں ہوتی۔ بلکہ عاشوراء (دس محرم) کی جگہ صرف نو محرم کے روزے کی تائید ہوتی ہے، ورنہ آپ فرماتے میں نو اور دس محرم کا روزہ رکھوں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3927
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2214»
حدیث نمبر: 3928
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نو محرم کو ضرور روزہ رکھوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عزم کے دو مطلب لیے جا سکتے ہیں: (۱) آئند دس محرم کے ساتھ ساتھ نو محرم کا بھی روزہ رکھیں گے، تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو۔ (۲) آئندہ صرف نو محرم کا روزہ رکھیں گے، تاکہ یہودیوں کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔ اس لیے سلف صالحین کے ہاں بھییہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے، اگرچہ جمہور علماء و فقہاء کی رائے یہی ہے کہ یوم عاشورا دس محرم ہی ہے، جبکہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ یوم عاشورا نو محرم ہے۔ جمہور کی رائے راجح معلوم ہوتی ہے، اس صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزم کا یہ معنی ہو گاکہ ہم دس محرم کے ساتھ ساتھ نومحرم کا بھی روزہ رکھیں گے، تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو سکے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہفتہ والے دن روزہ رکھنے سے منع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہودیوں کی مشابہت سے بچنا تھا، جیسا کہ شارح ابوداؤد علامہ عظیم آبادی نے کہا، لیکن پھر اس صورت میں اجازت دے دی کہ اگر اس کے ساتھ جمعہ کے دن کا روزہ رکھا جائے تو ہفتہ کے دن کا روزہ بھی رکھا جا سکتا ہے۔ ایک اور مثال سے اسی مؤقف کی تائیدہوتی ہے: سیدنابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: … صحابہ نے کہا: اے اللہ رسول! بیشک اہل کتاب چمڑے کے موزے پہنتے ہیں اور جوتے نہیں پہنتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنْتَعِلُوْا وَتَخَفَّفُوْا وَخَالِفُوْا أَھْلَ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل کتاب کی مخالفت کے لیے موزوں کو ترک کی تعلیم نہیں دی، بلکہ ان کے ساتھ جوتوں کے استعمال کا اضافہ کردیا۔ مخالفت کی صورت یہ ہو گئی کہ وہ صرف موزے پہنتے ہیں اور ہم موزے بھی پہنتے ہیں اور جوتے بھیاستعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح دس محرم کے ساتھ ساتھ نو محرم کا روزہ رکھنا بھی اہل کتاب کے ساتھ مخالفت کرنے کی ایک صورت ہے۔ واللہ اعلم
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزم کا پہلا معنی ہی راجح ہے، درج ذیل روایات سے اسی معنی کی تائید ہوتی ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور لوگوں کو ایسا کرنے کا حکم دیا تو صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہودی اور عیسائی بھی اس دن کی تعظیم کرتے ہیں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((فَاِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ صُمْنَا التَّاسِعَ۔)) قَالَ: فَلَمْ یَاْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتّٰی تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ ’’اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو جب اگلا سال ہو گا، ہم نو کا روزہ رکھیں گے۔‘‘ لیکن ہوا یوں کہ ابھی تک اگلا سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تھے۔
معجم کبیر طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنْ عِشْتُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ إِلٰی قَابِلٍ صُمْتُ التَّاسِعَ، مَخَافَۃَ أَن یَّفُوْتَنِییَوْمُ عَاشُوْرَائَ)) ’’اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نو محرم کا روزہ رکھوں گا، تاکہ یوم عاشورا کا روزہ فوت ہو جانے کا خطرہ (ختم ہو جائے)۔‘‘ (صحیحہ:۳۵۰) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: صُوْمُوْا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ وَخَالِفُوْا الْیَھُوْدَ۔ نو اور دس کو روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔ (سنن بیہقی: ۴/ ۲۸۷)
ہفتہ کے ساتھ جمعہ کا روزہ رکھنا اور جوتے اور موزے اکٹھے پہننا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے، اس لیےیہ تو ٹھیک ہے اور مخالفت کییہ بھی ایک صورت ہے اسی طرح نو اور دس محرم کے اکٹھے روزے اگر آپ سے ثابت ہوتے تو ہم کہتے یہ بھی مخالفت کی ایک شکل ہے۔ یہ چونکہ ثابت نہیں اس لیے اس جگہ اصل مخالفت یہ ہے کہ جس دن (دس محرم) کا یہودی روزہ رکھتے ہیں، اس کا روزہ نہ رکھا جائے اور مسلم کی حدیث کا مطلب یہی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہی مطلب سمجھا ہے، اس لیے وہ یہ عاشورہ کے بارے سوال کرنے والے کو بتا رہے ہیں کہ نو محرم صبح کوتمہارا روزہ ہونا چاہیے۔
اس حدیث کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر دس کا روزہ رکھیں،یہود کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے اور اگر نو کا روزہ بھی نہ رکھا جائے تو یوم عاشوراء کا روزہ بالکل رہ جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عاشوراء کا روزہ بالکل رہ جانے کے خوف سے میں نو کا روزہ رکھوں گا تاکہ مخالفت بھی ہو جائے اور روزہ بھی رکھ لیا جائے۔(عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3928
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1971»
حدیث نمبر: 3929
وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ وَصُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یومِ عاشوراء کو روزہ رکھا کرو، البتہ اس کے معاملے میں یہودیوں کی مخالفت کیا کرو اور وہ اس طرح کہ اس سے ایک دن کا روزہ رکھ لیا کرو یا اس کے بعد۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم درست معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پہلے ایک روزہ رکھ کر مشابہت کو ختم کیا جا سکتا ہے، اسی طرح بعدمیں بھی رکھا جا سکتا ہے، جیسے جمعہ کے دن کے روزے کا مسئلہ ہے۔
ضعیف حدیث سے استدلال کی شرعی کوئی حیثیت نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3929
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن ابي ليلي، سييء الحفظ وداود بن علي الھاشمي، قال الامام الذھبي: وليس حديثه بحجة، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘ اخرجه ابن خزيمة: 2095، والبيھقي: 4/ 287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2154»