کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 3902
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ كَفَّارَةُ سَنَتَيْنِ، سَنَةٍ مَاضِيَةٍ وَسَنَةٍ مُسْتَقْبَلَةٍ، وَيَوْمُ عَاشُورَاءَ كَفَّارَةُ سَنَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کا کفارہ ہے اور عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کا کفارہ ہے۔
حدیث نمبر: 3903
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ صِيَامَ عَرَفَةَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ))، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ صَوْمَ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: عرفہ کے روزہ کے بارے میں آپ کاکیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اس روزے کو گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنائے گا۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! عاشوراء کے روزے کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امیدہے کہ وہ اس روزے کو گزشتہ ایک سال کا کفارہ بنائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … یوم عاشورا سے مراد محرم کا دسواں دن ہے، ابتدائے اسلام میں یہ روزہ فرض تھا اور صرف ایک سال یعنی دو سن ہجری کی ابتداء میں اس کی فرضیت کا مسئلہ پیش آیا تھا، کیونکہ اسی سن کے رمضان میں روزے فرض ہو گئے تھے اور رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد عاشورا کا روزہ مستحب قرار دیا گیا تھا، اس کی مزید وضاحت اگلی احادیث میں آرہی ہے۔ عرفہ کے دن سے مراد (۹) ذوالحجہ کا دن ہے، جس دن حجاج کرام عرفہ کے میدان میں جمع ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3904
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ صَامُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: ((مَا هَذَا مِنَ الصِّيَامِ؟)) قَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي نَجَّى اللَّهُ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْغَرَقِ وَغَرَّقَ فِيهِ فِرْعَوْنَ، وَهَذَا يَوْمٌ اسْتَوَتْ فِيهِ السَّفِينَةُ عَلَى الْجُودِيِّ فَصَامَهُ نُوحٌ وَمُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ))، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالصِّيَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہودی لوگوں کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسا روزہ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنو اسرائیل کو غرق ہونے سے بچایا اور فرعون کو غرق کر دیا اور اسی دن کو نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پر آ کر ٹھہری تھی، اس لیے نوح اور موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھا تھا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں موسیٰ علیہ السلام اور اس دن کے روزے کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دے دیا۔
حدیث نمبر: 3905
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: ((مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَ؟)) قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَصَامَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ))، قَالَ: فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور دیکھا کہ یہودی دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں، آپ نے ان سے پوچھا: یہ دن کون سا ہے، جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ بڑا مبارک دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی اور موسیٰ علیہ السلام نے اس کا روزہ رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی صادر فرمایا۔
وضاحت:
فوائد: … رسالت، دینی بھائی چارے اور ظاہری قرابت کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ اس کا بہترین جواب یہی ہے کہ اس مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخالفت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ کے آخری سال میں اس خواہش کا اظہار کر دیا تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ رہے تو (۹) ذوالحجہ کو روزہ رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ربیع الاول کے مہینے میں مدینہ منورہ پہنچے تھے، پھر جب محرم کا مہینہ آیا تو یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
حدیث نمبر: 3906
عَنْ ثُوَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُومُوهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصِيَامِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ثویر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا تھا: یہ یومِ عاشوراء ہے، تم اس دن کا روزہ رکھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 3907
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ بِيَوْمِ عَاشُورَاءَ أَنْ نَصُومَهُ، وَقَالَ: هُوَ يَوْمٌ كَانَتِ الْيَهُودُ تَصُومُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دس محرم کو روزہ رکھنے کا حکم دیا، اس دن کو یہودی روزہ رکھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3908
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ قَرْيَةٍ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعَةِ فَرَاسِخَ، أَوْ قَالَ: فَرْسَخَيْنِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَأَمَرَ مَنْ أَكَلَ أَنْ لَا يَأْكُلْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَنْ يُتِمَّ صَوْمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس محرم کو چار چار یا دو دو فرسخ تک بستیوں میں پیغام بھیجا کہ جس آدمی نے کچھ کھا لیا ہو وہ بقیہ دن میں کچھ نہ کھائے اور جس نے تاحال کچھ نہیں کھایا وہ اپنا روزہ پورا کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرضیت ِ رمضان سے قبل یوم عاشوراء کے روزے کا خاصا اہتمام کیا تھا، ایک فرسخ تقریبا سات آٹھ کلومیٹر کا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 3909
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ: ((مَنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ كَانَ أَكَلَ فَلَا يَأْكُلْ شَيْئًا وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشوراء کے دن بنو اسلم قبیلے کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کرے: جس نے آج روزہ رکھا ہوا ہے، وہ اسے پورا کرے اور جو کچھ کھا پی چکا ہے، وہ بھی اب کچھ نہ کھائے پئے اور اس طرح روزہ مکمل کرے۔
حدیث نمبر: 3910
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيِّ النَّصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: ((أَصُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا؟)) فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَعَمْ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا، قَالَ: ((فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ هَذَا))، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُؤْذِنُوا أَهْلَ الْعَرُوضِ أَنْ يُتِمُّوا يَوْمَهُمْ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا محمد بن صیفی انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یومِ عاشوراء کو ہمارے ہاں تشریف لائے اور پوچھا: کیا تم لوگوں نے آج روزہ رکھا ہے؟ بعض نے کہا: جی ہاں، اور بعض نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہرحال بقیہ دن کا روزہ پورا کرو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اہلِ عَروض کو بھی اطلاع کر دیں کہ وہ بھی اس دن کا روزہ مکمل کریں۔
وضاحت:
فوائد: … ’’عَروض‘‘ کے تعین کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) اس کا اطلاق مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ان کے پڑوس والے شہروں پر ہوتا ہے اور (۲) مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور یمن کو عَروض کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3911
عَنْ هِنْدِ بْنِ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِي مِنْ أَسْلَمَ، فَقَالَ: ((مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ وَجَدْتَّهُ مِنْهُمْ قَدْ أَكَلَ فِي أَوَّلِ يَوْمِهِ فَلْيَصُمْ آخِرَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ہند بن اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے قبیلہ بنو اسلم کی طرف بھیجا اور فرمایا: اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج یومِ عاشوراء کا روزہ رکھیں، اگر ان میں سے کوئی آدمی کھا پی چکا ہو تو وہ بھی دن کے آخری یعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھے۔
حدیث نمبر: 3912
عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ، فَقَالَ: ((مُرْ قَوْمَكَ بِصِيَامِ هَذَا الْيَوْمِ))، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُّهُمْ قَدْ طَعِمُوا؟ قَالَ: ((فَلْيُتِمُّوا آخِرَ يَوْمِهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیتے ہوئے فرمایا: اپنی قوم کو آج کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم دو۔ انھوں نے کہا: اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں تو پھر آپ کی رائے کیا ہو گی؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی وہ دن کے آخری یعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھ لیں۔
حدیث نمبر: 3913
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ، فَقَالَ: ((مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ))، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُّهُمْ قَدْ طَعِمُوا؟ قَالَ: ((فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھیجا اور فرمایا: اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج کے دن کا روزہ رکھیں۔ انھوں نے کہا: اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں تو آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لیں۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا اسما بن حارثہ کو ان کے بیٹے سیدنا ہند کے ساتھ ان کی قوم کی طرف بھیجا ہو اور ہر ایک نے صرف اپنا اپنا تذکرہ کر دیا ہو۔
پہلے ایک حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہند بن اسماء کو اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ نے ہند کے باپ اسماء کو بھیجا تھا۔ فوائد میں اس ظاہری تعارض کی توجیہ پیش کی گئی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
پہلے ایک حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہند بن اسماء کو اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ نے ہند کے باپ اسماء کو بھیجا تھا۔ فوائد میں اس ظاہری تعارض کی توجیہ پیش کی گئی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 3914
عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ يَوْمًا: ((هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُومُوا))، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي تَرَكْتُ قَوْمِي مِنْهُمْ صَائِمٌ، وَمِنْهُمْ مُفْطِرٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اذْهَبْ إِلَيْهِمْ فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بعجہ کے باپ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ان سے فرمایا: آج یومِ عاشوراء ہے، اس دن کا روزہ رکھو۔ بنو عمرو بن عوف کے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ ان میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے اور کسی نے نہیں رکھا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی طرف جاؤ اور ان کو کہو کہ جس نے روزہ نہیں رکھا ہوا وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لے۔
حدیث نمبر: 3915
عَنْ مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتْ أُمِّي: كُنْتُ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلَيْنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَصُومُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مزیدہ بن جابر کہتے ہیں: میری والدہ نے بیان کیا ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کوفہ کی مسجد میں تھیں، سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ وہاں کے حاکم تھے، انھوں نے ایک دن کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یومِ عاشوراء کو روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، اس لیے تم اس دن کا روزہ رکھو۔
حدیث نمبر: 3916
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَيَأْمُرُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یومِ عاشوراء کا خود بھی روزہ رکھا کرتے تھے اور اس کا حکم بھی دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3917
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ غَيْرَ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَعْنِي عَاشُورَاءَ، وَهَذَا الشَّهْرَ شَهْرَ رَمَضَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے دنوں کی بہ نسبت کسی مخصوص دن کی فضیلت کو تلاش کرتے ہوئے روزہ رکھا ہو، ما سوائے یومِ عاشوراء کے اور ماہِ رمضان کے۔