کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نفلی روزہ شروع کر دینے سے اس کے واجب نہ ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3896
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ (بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ شَرَابًا فَنَاوَلَهَا لِتَشْرَبَ، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ، فَقَالَ: ((إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَاقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِي وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مشروب پیا اور مجھے بھی دیا۔ میں نے بعد میں کہا: میں تو روزے سے تھی، لیکن آپ کے جوٹھے کو چھوڑنا گوارا نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ روزہ ماہِ رمضان کی قضاء کا تھا تواس کے عوض ایک روزہ رکھ لینا اور اگر یہ نفلی تھا تو تمہاری مرضی ہے کہ قضائی دو یا نہ دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3896
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قال الالباني: صحيح (صحيحه:2802)۔ اخرجه الترمذي: 731، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27449»
حدیث نمبر: 3897
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ حَتَّى قَعَدَتْ عَنْ يَسَارِهِ، وَجَاءَتْ أُمُّ هَانِئٍ فَقَعَدَتْ عَنْ يَمِينِهِ وَجَاءَتِ الْوَلِيدَةُ بِشَرَابٍ فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَتْ: لَقَدْ كُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ لَهَا: ((أَشَيْءٌ تَقْضِينَهُ عَلَيْكِ؟)) قَالَتْ: لَا، قَالَ: ((لَا يَضُرُّكِ إِذًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب بیٹھ گئیں اور سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا آکر دائیں جانب بیٹھ گئیں، اتنے میں ایک لونڈی کوئی مشروب لائی، پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود پیا اور پھر سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو دیا، اس نے (پینے کے بعد) کہا: میرا تو روزہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیایہ قضاء کا روزہ تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تجھے نقصان نہیں دے گا (یعنی کوئی حرج نہیں ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3897
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27436»
حدیث نمبر: 3898
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْفَتْحِ فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الْمُتَطَوِّعَ أَمِيرٌ عَلَى نَفْسِهِ، فَإِنْ شِئْتِ فَصُومِي وَإِنْ شِئْتِ فَأَفْطِرِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن میرے ہاں تشریف لائے، آپ کی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور پھر مجھے دے دیا ، میں نے کہا: میں تو روزے دار ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نفلی عبادت کرنے والا اپنا امیر خود ہوتا ہے، اس لیے اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو افطار کر دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3898
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27448»
حدیث نمبر: 3899
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُهْدِيَتْ لَحَفْصَةَ شَاةٌ وَنَحْنُ صَائِمَتَانِ، فَفَطَّرَتْنِي فَكَانَتِ ابْنَةَ أَبِيهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: ((أَبْدِلَا يَوْمًا مَكَانَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو ایک بکری کا گوشت بطور ہدیہ پیش کیا گیا، جبکہ ہم دونوں روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ افطار کرادیا، آخر وہ اپنے (عظیم باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ) ہی کی بیٹی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے عوض ایک ایک روزہ رکھ لینا۔
وضاحت:
فوائد: … اس مسئلہ سے متعلقہ مزید احادیث: سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور چند صحابہ کے لیے کھانا تیار کیا، جب کھانا لگا دیا گیا تو ایک آدمی نے کہا: میرا تو روزہ ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ذَالِکُمْ اَخُوْکُمْ وَتَکَلَّفَ لَکُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ لَہٗ: ((اَفْطِرْ،وَصُمْمَکَانَہٗیَوْمًا اِنْ شِئْتَ۔)) یہ تمہارا بھائی ہے اور اس نے تمہارے لیے تکلف کیا ہے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی فرمایا: ’’تو اب روزہ توڑ دے اور اگر تیری چاہت ہو تو اس کی جگہ پر ایک دن روزہ رکھ لینا۔‘‘ (سنن بیہقی: ۴/ ۲۷۹)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یَاْتِیَہَا وَہُوَ صَائِمٌ، فَیَقُوْلُ: ((اَصْبَحَ عِنْدَکُمْ شَیْئٌ تُطْعِمُوْنِیْہِ؟)) فَتَقُوْلُ: لاَ، مَا اَصْبَحَ عِنْدَنَا شَیْئٌ کَذَاکَ، فَیَقُوْلُ: ((إِنِّی صَائْمٌ۔)) ثُمَّ جَاَء َہَا بَعْدَ ذَلِکَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ جاَئَ یَوْمًا آخَرَ) فَقَالَتْ: اُہْدِیَتْ لَنَا ہَدِیَّۃٌ فَخَبَأْ نَاہَا لَکَ، قَالَ: ((مَا ہِیَ؟)) قَالَتْ: حَیْسٌ، قَالَ: ((قَدْ اَصْبَحْتُ صَائِمًا۔)) فَاَکَلَ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں میرے ہاں تشریف لاتے اور پوچھتے: ’’تمہارے ہاں کوئی ایسی چیز ہے جو مجھے کھلا سکو؟ میں کہتی: جی نہیں، ہمارے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: ’’تو پھر میں روزے دار ہوں۔‘‘پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے اور میں نے کہا: ہمیں ایک ہدیہ دیا گیا تھا، ہم نے آپ کے لیے چھپا رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ’’وہ کیا ہے؟‘‘ میں نے کہا: حَیْس ہے، (یعنی کھجور، گھی اور پنیر کا حلوہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’آج تو میں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھا لیا۔ (مسلم: ۱۱۵۴،مسند احمد: ۲۴۷۲۴)
سنن نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھانا کھا لیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بڑا تعجب ہوا اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے پاس روزے کی حالت میں تشریف لائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حَیْس کھا لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، یَا عَائِشَۃُ! اِنَّمَا مَنْزِلَۃُ مَنْ صَامَ فِیْ غَیْرِ رَمَضَانَ أَوْ غَیْرِ قَضَائِ رَمَضَانَ اَوْ فِیْ التَّطَوُّعِ بِمَنْزِلَۃِ رَجُلٍ اَخْرَجَ صَدَقَۃَ مَالِہٖفَجَادَمِنْھَابِمَاشَائَفَاَمْضَاہُوَبَخِلَمِنْھَابِمَابَقِیَ فَاَمْسَکَہٗ۔)) ’’جی ہاں، عائشہ! جس آدمی نے رمضان اور قضائے رمضان کے علاوہ کوئی نفلی روزہ رکھا ہوا ہو تو وہ اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنے مال میں سے صدقہ کے لیے (کچھ رقم) نکالے، لیکن پھر اس میں سے جتنی مقدار چاہے صدقہ کر دے اور جتنی مقدار چاہے روک لے۔‘‘
نسائی کی ایک اور روایت میں ہے: فَاَکَلَ مِنْہُ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّمَا مِثْلُ صَوْمِ الْمُتَطَوِّعِ مِثْلُ الرَّجُلِ یُخْرِجُ مِنْ مَالِہٖالصَّدَقَۃَ فَاِنْ شَائَ اَمْضَاھَا وَاِنْ شَائَ حَبَسَھَا۔)) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھانا کھایا اور فرمایا: ’’نفلی روزہ رکھنے والے کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنے مال سے صدقہ کے لیے کچھ مال نکالتا ہے، لیکن پھر چاہے تو اسے صدقہ کر دے اور چاہے تو روک لے۔‘‘
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی صدقہ کی نیت سے اپنے مال میں سے کچھ مال علیحدہ کرتا ہے، لیکن ابھی تک اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس سارے معین مال کا صدقہ کر دے یا سارے کو روک لے، یا کچھ روک لے اور کچھ صدقہ کر دے۔ بالکل اسی طرح نفلی روزہ رکھنے والے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ روزہ توڑ بھی سکتا ہے اور پورا بھی کر سکتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی روزے کی نیت طلوع فجر کے بعد بھی کسی جا سکتی ہے، لیکنیہ اس صورت میں ہو گا کہ متعلقہ آدمی نے سحری سے لے کر اس وقت تک کھایا پیا نہ ہو۔ اس باب سے ثابت ہوا کہ نفلی روزہ بلا عذر توڑا جا سکتا ہے اور اس کی قضاء بھی لازم نہیں ہے، مستحبّ ہے، سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدناعبد اللہ بن مسعود، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا عبدا للہ بن عباس اور سیدنا جابر بن عبداللہ اور امام سفیان ثوری، امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق اور جمہور اہل علم کییہی رائے ہے۔ البتہ امام ابو حنیفہیہ کہتے ہیں کہ نفلی روزے کو پورا کرنا ضروری ہے اور بلا عذر اس کو افطار نہیں کر سکتا اور اس نے کسی عذر کی وجہ سے روزہ توڑ دیا تو اس کی قضائی لازم ہو گی۔ لیکنیہ مسلک مرجوح ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3899
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، سفيان بن حسين الواسطي ضعيف في الزھري، وقد اختلف علي الزھري في وصله وارساله، وارساله ھو الصواب۔ اخرجه ابوداود: 2457، والترمذي: 735، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26535»