حدیث نمبر: 3869
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَوْمُ عِيدٍ، فَلَا تَجْعَلُوا يَوْمَ عِيدِكُمْ يَوْمَ صِيَامِكُمْ إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جمعہ کا دن، عید کا دن ہے، پس تم اِس عید کے دن روزہ نہ رکھا کرو، الّا یہ کہ اس سے پہلے ایک دن روزہ رکھ لو یا بعد والے دن۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَلَا تَخْتَصُّوْا لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ بِقِیَامٍ مِنْ بَیْنِ اللَّیَالِیْ وَلَا تَخْتَصُّوْا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِصِیَامٍ مِنْ بَیْنِ الْاَیَّامِ اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ فِیْ صَوْمٍ یَصُوْمُہٗ اَحَدُکُمْ۔))
’’جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ اور جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ خاص نہ کرو، الّا یہ کہ جمعہ کا دن کسی کی عادت والے روزے میں آ جائے۔ ‘‘
اس موضوع سے متعلقہ تمام احادیث کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس آدمی کے لیے جمعہ کا روزہ رکھنا جائز ہے، جو جمعرات یا ہفتہ کو بھی روزہ رکھے، اسی طرح وہ شخص بھی جمعہ کے دن کا روزہ رکھ سکتا ہے، جس کی عادت میں جمعہ کا دن آجائے، مثلا ایک آدمی ہر سال عرفہ کے دن یعنی (۹) ذوالحجہ کا روزہ رکھتا ہے، اگر اتفاق سے یہ دن جمعہ کا بھی ہو تو اس کیلئے روزہ رکھنا جائز ہو گا۔ جمعہ کا دن اس اعتبار سے عید ہے کہ اس میں ہفتے کے باقی دنوں کی بہ نسبت کئی خصوصیات پائی جاتی ہیں، لوگ نمازِ عید کی طرح نمازِ جمعہ میں جمع ہوتے ہیںاور عید کے خطبے کی طرح اس میں خطبۂ جمعہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں نہانا، خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور اچھے کپڑے پہننا، یہ امور بھی عید سے مشابہت پیدا کر دیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
’’جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ اور جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ خاص نہ کرو، الّا یہ کہ جمعہ کا دن کسی کی عادت والے روزے میں آ جائے۔ ‘‘
اس موضوع سے متعلقہ تمام احادیث کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس آدمی کے لیے جمعہ کا روزہ رکھنا جائز ہے، جو جمعرات یا ہفتہ کو بھی روزہ رکھے، اسی طرح وہ شخص بھی جمعہ کے دن کا روزہ رکھ سکتا ہے، جس کی عادت میں جمعہ کا دن آجائے، مثلا ایک آدمی ہر سال عرفہ کے دن یعنی (۹) ذوالحجہ کا روزہ رکھتا ہے، اگر اتفاق سے یہ دن جمعہ کا بھی ہو تو اس کیلئے روزہ رکھنا جائز ہو گا۔ جمعہ کا دن اس اعتبار سے عید ہے کہ اس میں ہفتے کے باقی دنوں کی بہ نسبت کئی خصوصیات پائی جاتی ہیں، لوگ نمازِ عید کی طرح نمازِ جمعہ میں جمع ہوتے ہیںاور عید کے خطبے کی طرح اس میں خطبۂ جمعہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں نہانا، خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور اچھے کپڑے پہننا، یہ امور بھی عید سے مشابہت پیدا کر دیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر: 3870
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي أَيَّامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا، الّایہ کہ دوسرے دنوں کی عادت چل رہی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری (۱۹۷۵) اور صحیح مسلم (۱۱۴۴) میں بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث موجود ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَصُوْمُ اَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اِلّٰا یَوْمًا قَبْلَہٗاَوْبَعْدَہٗ)) ’’تممیں سے کوئی آدمی جمعہ کے روز کا روزہ نہ رکھے، الا یہکہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھے۔‘‘
حدیث نمبر: 3871
عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ قَالَ: سَمِعْتُ لَيْلَى امْرَأَةَ بِشْرٍ تَقُولُ: إِنَّ بَشِيرًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَأَصُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَا أُكَلِّمُ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَحَدًا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَصُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا فِي أَيَّامٍ هُوَ أَحَدُهَا أَوْ فِي شَهْرٍ، وَأَمَّا أَنْ لَا تُكَلِّمَ أَحَدًا فَلَعَمْرِي! لَا أَنْ تَكَلَّمَ بِمَعْرُوفٍ وَتَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَسْكُتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ لیلیٰ زوجہ بشیر کہتی ہیں کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میں جمعہ کے دن روزہ رکھوں گا اور اس دن کسی سے کلام نہیں کروں گا، (یہ جائز ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف جمعہ کے دن روزہ نہیں رکھنا، الّا یہ کہ دوسرے دنوں میں یا مہینے میں (ایک عادت کے ساتھ) روزے رکھے جا رہے ہوں اور یہ جمعہ کا دن بھی ان میں سے ایک ہو جائے، باقی رہا مسئلہ تمہارے خاموش رہنے کا تو میری عمر کی قسم! تمہارا نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے لیے بولنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 3872
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! أَنْتَ نَهَيْتَ النَّاسَ أَنْ يَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: لَا، لَعَمْرُ اللَّهِ! غَيْرَ أَنِّي وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا يَصُمَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا فِي أَيَّامٍ يَصُومُهَا فِيهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو حارث بن کعب کے ایک فرد سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: میں سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک آدمی نے آکر پوچھا: ابوہریرہ! آپ نے لوگوں کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا:نہیں، اللہ کی عمر کی قسم! البتہ اس حرمت کے ربّ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی بھی جمعہ کے دن روزہ ہر گز نہ رکھے، الّایہ کہ یہ دن ایسے دوسرے دنوں میں آ جائے، جن کے وہ روزے رکھ رہا ہو۔
حدیث نمبر: 3873
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَهِيَ صَائِمَةٌ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فَقَالَ لَهَا: ((أَصُمْتِ أَمْسِ؟)) فَقَالَتْ: لَا، قَالَ: ((أَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟)) فَقَالَتْ: لَا، قَالَ: ((فَأَفْطِرِي إِذًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انھوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر روزہ توڑ دو۔
حدیث نمبر: 3874
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْهَجْرِيِّ عَنْ جُوَيْرِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَالَ لَهَا: ((أَصُمْتِ أَمْسِ؟)) قَالَتْ: لَا، قَالَ: تَصُومِينَ (وَفِي لَفْظٍ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي) غَدًا؟ قَالَتْ: لَا، قَالَ: ((فَأَفْطِرِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن ان کے ہاں تشریف لائے، جبکہ وہ روزہ سے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا تمہارا کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ انھوں نے کہا:جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: توپھر روزہ افطار کر لو۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہفتہ کے دن کا روزہ رکھنے کی بھی نیت رکھتا ہو، بصورت ِ دیگر جب اس کو اس مسئلے کا پتہ چلے گا، تو وہ روزہ توڑ دے گا۔
حدیث نمبر: 3875
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحْدَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو۔
حدیث نمبر: 3876
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ: أَسْمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ!
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن عباد سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمعہ کے دن ر وزہ رکھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس گھر کے رب کی قسم!
وضاحت:
فوائد: … ان روایات کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا منع ہے، البتہ درج ذیل روایت قابل غور ہے: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یَصُوْمُ مِنْ غُرَّۃِ کُلِّ شَھْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ وَقَلَّمَا کَانَ یُفْطِرُیَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مہینے کے ہر ماہ کے شروع میں تین دن روزہ رکھتے تھے اور جمعہ کے دن تو کم ہی افطار کرتے تھے۔ (ابن ماجہ، نسائی) اگر درج بالا روایات کی روشنی میں یہ فیصلہ کرلیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہیں رکھتے ہوں گے، بلکہ اس کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کا روزہ ملاتے ہوں گے، تو بہتر ہو گا اور اس سے ساری نصوص پر عمل ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 3877
عَنْ حَسَّانِ بْنِ نُوحٍ الْحِمْصِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: تَرَوْنَ كَفِّي هَذِهِ؟ فَأَشْهَدُ أَنِّي وَضَعْتُهَا عَلَى كَفِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ، وَقَالَ: ((إِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حسان بن نوح حمصی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن بسر کو دیکھا، انھوں نے کہا: لوگو! تم میری یہ ہتھیلی دیکھ رہے ہو؟ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اس کو اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کر دیا ہے الّایہ کہ فرضی روزہ ہو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر کھانے کے لیے کچھ نہ ملے، ما سوائے درخت کے چھلکے کے، تو وہی کھا کر (روزہ نہ ہونے کی نشاندہی کر دینی چاہیے)۔
حدیث نمبر: 3878
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُخْتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا عُودَ عِنَبٍ أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضَغْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی بہن سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: ہفتہ کا روزہ نہ رکھا کرو، الّا یہ کہ یہ ان دنوں میں آ جائے کہ جن کے روزے تم پر فرض ہیں، اگر اس دن کو کسی کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ ہو، ما سوائے انگور کی لکڑی یا درخت کے چھلکے کے، تو اسی کو چبا لے۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ایسے نہ ہو کہ ہفتہ کا دن کھائے پئے بغیر گزر جائے۔
حدیث نمبر: 3879
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْعَرْجِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَغَدَّى وَذَلِكَ يَوْمَ السَّبْتِ، فَقَالَ: ((تَعَالَيْ فَكُلِي))، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ لَهَا: ((صُمْتِ أَمْسِ؟)) فَقَالَتْ: لَا، قَالَ: ((فَكُلِي فَإِنَّ صِيَامَ يَوْمِ السَّبْتِ لَيْسَ لَكِ وَلَا عَلَيْكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبید اعرج کہتے ہیں: مجھے میری دادی نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کھانا کھا رہے تھے، یہ ہفتہ کا دن تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ۔ لیکن انہوں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کھا لو، کیونکہ ہفتہ کے دن کے روزہ کا نہ ثواب ملتا ہے اور نہ گناہ ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ثواب اور گناہ کا نہ ملنا اس صورت میں ہے، جب آدمی جہالت کی وجہ سے روزہ رکھ لے، وگرنہ اگر علم ہونے کے بعد یا بطورِ تعظیم ہفتہ کا روزہ رکھے گا تو گنہگار ہو گا۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ صرف ہفتہ کا روزہ رکھناممنوع ہے، لیکن حدیث نمبر (۳۸۶۹) اور (۳۸۷۳) وغیرہ سے معلوم ہوا کہ جمعہ اور ہفتہ، دو دنوں کا لگاتار روزہ رکھا جا سکتا ہے، اس رخصت سے یہ استدلال کرنا بھی ممکن ہے کہ ہفتہ اور اتوار کا لگاتار روزہ رکھنا جائز ہے، حدیث نمبر (۳۹۶۸) سے بھییہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے اور یہ بات ایسے ہی ہے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشوراء کے ساتھ(۹) محرم کا روزہ رکھنے کا بھی عزم کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہودیوں کی مخالفت کرنا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آئندہ سال نو محرم کا روزہ رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا نہ کہ دس کے ساتھ نو محرم کا بھی۔ اس کی مزید وضاحت عاشورا کے روزے کے بارے مستقل عنوان کے تحت آرہی ہے۔ اسے ملاحظہ فرمائیں۔ (عبداللہ رفیق)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آئندہ سال نو محرم کا روزہ رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا نہ کہ دس کے ساتھ نو محرم کا بھی۔ اس کی مزید وضاحت عاشورا کے روزے کے بارے مستقل عنوان کے تحت آرہی ہے۔ اسے ملاحظہ فرمائیں۔ (عبداللہ رفیق)