کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ایام تشریق کے روزوں کی ممانعت
حدیث نمبر: 3860
عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: بَيْنَمَا نَحْنُ بِمِنًى إِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ هَذِهِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ، فَلَا يَصُومُهَا أَحَدٌ))، وَاتَّبَعَ النَّاسَ عَلَى جَمَلِهِ يَصْرُخُ بِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ام عمرو کہتی ہیں: ہم منیٰ میں تھے، اچانک سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں، لہذا کوئی آدمی ان دنوں کا روزہ نہ رکھے۔ وہ اونٹ پر سوار تھے، لوگوں کو اپنے پیچھے لگا رکھا تھا اور بآواز بلند یہ اعلان کرتے جا رہے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3860
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 2890 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 567»
حدیث نمبر: 3861
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ (سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ أَيَّامَ مِنًى (وَفِي لَفْظٍ: ((يَا سَعْدُ! قُمْ فَأَذِّنْ بِمِنًى)) أَنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَلَا صَوْمَ فِيهَا)) يَعْنِي أَيَّامَ التَّشْرِيقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: منیٰ کے دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ اعلان کرنے کا حکم دیایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعد! اٹھو اور منی میں یہ اعلان کرو کہ یہ کھانے کے پینے کے دن ہیں، اس لیے ان دنوں میں کوئی روزہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد ایام تشریق تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3861
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه البزار: 1067 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1456 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1456»
حدیث نمبر: 3862
عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْيَوْمِ الْأَوْسَطِ مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، قَالَ: فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَدَنَا الْقَوْمُ وَتَنَحَّى ابْنٌ لَهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: ادْنُ فَكُلْ، قَالَ: فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّهَا أَيَّامُ طَعْمٍ وَذِكْرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو شعثاء کہتے ہیں: ہم ایام تشریق کے درمیانی دن کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اتنے میں کھانا لایا گیا اور لوگ کھانے کے قریب ہوئے، لیکن ان کا ایک بیٹا ذرا دور ہو گیا، سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: قریب ہو کر کھانا کھاؤ۔ لیکن اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ یہ سن کر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3862
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن بالمتابعات والشواھد۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 2903، وابن ابي شيبة: 4/ 20، وابن خزيمة: 2148 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4970»
حدیث نمبر: 3863
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَهُنَّ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((عرفہ کا دن، قربانی کا دن اور ایامِ تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں عرفہ کے دن یعنی (۹) ذوالحجہ کو بھی عید کا دن قرار دیا گیا ہے، لیکن اس دن کو روزہ رکھنا افضل ہے، اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3863
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2419، والنسائي: 5/ 252، والترمذي: 773 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17514»
حدیث نمبر: 3864
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ يَطُوفُ فِي مِنًى: ((أَنْ لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ منی میں گھوم پھر کر یہ اعلان کریں کہ لوگو! ان دنوں کا روزہ نہ رکھو، کیونکہ یہ کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3864
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 2883، ومالك في ’’المؤطا‘‘: 1/ 376 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10674»
حدیث نمبر: 3865
عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ (الزُّرَقِيِّ) الْأَنْصَارِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ السَّهْمِيَّ أَنْ يَرْكَبَ رَاحِلَتَهُ أَيَّامَ مِنًى فَيَصِيحُ فِي النَّاسِ: ((لَا يَصُمَنَّ أَحَدٌ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ))، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ يُنَادِي بِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی رسول کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ منی والے دنوں میں اپنی سواری پر سوار ہو کر بآواز بلند یہ اعلان کریں کہ کوئی آدمی بھی ان دنوں میں روزہ نہ رکھے کیونکہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔ پھر میں نے ان کو دیکھا کہ وہ سواری پر سوار ہو کر یہ اعلان کر رہے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3865
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «مرفوعه صحيح لغيره۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 2880، والطحاوي: 2/ 246، ومالك في ’’المؤطا‘‘: 1/ 376، والدار قطني: 2/ 212 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21950 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22296»
حدیث نمبر: 3866
عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَلَى أَبِيهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَرَّبَ إِلَيْهِمَا طَعَامًا فَقَالَ: كُلْ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: عَمْرُو: كُلْ فَهَذِهِ الْأَيَّامُ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِفِطْرِهَا وَيَنْهَى عَنْ صِيَامِهَا، قَالَ: مَالِكُ: وَهِيَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے ام ہانی ابو مُرّہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے والد سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے، انہوں نے ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور کہا: کھاؤ۔ اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ سیدناعمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ان دنوں میں افطار کرنے کا حکم دیا ور ان کا روزہ رکھنے سے منع کر دیا۔ امام مالک نے کہا: یہ ایامِ تشریق تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3866
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه ابوداود: 2418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17768 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17920»
حدیث نمبر: 3867
عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَعَثَ بِشْرَ بْنَ سُحَيْمٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ: ((أَلَا إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسُ مُؤْمِنٍ (وَفِي لَفْظٍ: إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَفِي لَفْظٍ آخَرَ: إِلَّا مُؤْمِنٌ) وَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ)) يَعْنِي أَيَّامَ التَّشْرِيقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ خبردار! جنت میں صرف مومن ہی جائے گااور یہ دن کھانے پینے کے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد ایامِ تشریق تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3867
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1720 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15429 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15507»
حدیث نمبر: 3868
عَنْ يَوْنُسَ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنایونس بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایام تشریق میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے۔ حج تمتع میں ایک ہدی (یعنی ایک بکرییا پھر اونٹ یا گائے کے ساتویں حصے) کی قربانی دینی پڑتی ہے، لیکن جس حاجی کو قربانی کرنے کی طاقت نہ ہو، وہ کل دس روزے رکھے، تین ایامِ حج میں اور سات واپس گھر لوٹ کر، جبکہ ایام حج، جن میں روزے رکھنے ہیں، وہ ذوالحجہ کی (۹) تاریخ اور ایام تشریق ہیں۔ اس لیے ایسا حاجی ایام تشریق میں روزے رکھ سکتا ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، امام مالک، امام احمد، امام اوزاعی اور امام اسحاق کی بھییہی رائے ہے۔ اس مسئلہ کی مزید وضاحت کتاب الحج میں آئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3868
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره۔ اخرجه البزار: 1068، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16826»