کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رمضان کے روزوں کی قضاء اور اس کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 3852
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ لَمْ يَقْضِهِ لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُ، وَمَنْ صَامَ تَطَوُّعًا وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ لَمْ يَقْضِهِ فَإِنَّهُ لَا يُتَقَبَّلُ مِنْهُ حَتَّى يَصُومَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ماہِ رمضان کو پالے، جبکہ سابقہ رمضان کے روزوں کی قضاء اس کے ذمے باقی ہو تو اس کے اِس رمضان کے روزے قبول نہیں ہوں گے، اسی طرح جو آدمی نفلی روزے رکھ رہا ہو، جبکہ اس کے ذمہ رمضان کے روزوں کی قضا ہو تو اس وقت تک یہ نفلی روزے قبول نہیں ہو گے جب تک وہ اُن کی قضائی نہ دے لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3852
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ۔ اخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3308 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8606»
حدیث نمبر: 3853
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا كُنْتُ أَقْضِي مَا يَكُونُ عَلَيَّ مِنْ رَمَضَانَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: میرا معمول یہ تھا کہ میں ماہ رمضان کے روزوں کی قضا شعبان میں دیا کرتی تھی،یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے۔
وضاحت:
فوائد: … رمضان میں رہ جانے والے روزوں کی قضائی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَـعِـدَّۃٌ مِّـنْ اَیَّامٍ اُخَرَ} ’’دوسرے دنوں میں گنتی کو پورا کرنا ہے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۸۴) یہ آیت مطلق ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی قید نہیں لگائی گئی، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دس ماہ کے بعد شعبان میں روزوں کی قضائی دیا کرتی تھیں، اس لیے کسی وقت بھی قضائی دی جا سکتی ہے، اگلے رمضان کے بعد تک تاخیر کی جا سکتی ہے، لیکن اس بات پر علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ بغیر عذر کے اگلے رمضان کے بعد تک تاخیر کر دینا مکروہ ہے۔ یہ بات علیحدہ ہے کہ کئی آیات اور احادیثیہ رغبت دلائی گئی ہے کہ اس قسم کی ذمہ داریوں کو جلدی جلدی اد اکر لینا چاہیے، کیونکہ موت اور بیماری کا کوئی علم نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3853
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1950، ومسلم: 1146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24999 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25513»