کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 3847
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ (الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) مِنَ الْفُسْطَاطِ إِلَى الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ فِي سَفِينَةٍ فَلَمَّا دَفَعْنَا مِنْ مَرْسَانَا أَمَرَ بِسُفْرَتِهِ، فَقُرِّبَتْ ثُمَّ دَعَا إِلَى الْغَدَاءِ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَصْرَةَ! وَاللَّهِ! مَا تَغَيَّبَتْ عَنَّا مَنَازِلُنَا بَعْدُ؟ فَقَالَ: أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَكُلْ، فَلَمْ نَزَلْ مُفْطِرِينَ حَتَّى بَلَغْنَا مَا حَوَّزَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ فسطاط سے اسکندریہ جانے کے لیے ایک کشتی پر سوار ہوا، جب ہم اپنی بندرگاہ سے روانہ ہوئے تو انہوں نے دستر خوان منگوایا، پس وہ ان کے قریب کیا گیا، پھر انہوں نے مجھے کھانے کی د عوت دی،یہ رمضان کا واقعہ تھا۔ میں نے کہا: ابو بصرہ! اللہ کی قسم! ابھی تو ہمارے مکانات ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ہوئے؟ یہ سن کر انہوں نے کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے اعراض کرتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ انہوں نے کہا: تو پھر کھاؤ، پھر ہم نے اپنی منزلِ مقصود پر پہنچنے تک کوئی روزہ نہ رکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3847
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27233 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27775»
حدیث نمبر: 3848
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): قَالَ: رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ السَّفِينَةَ وَهُوَ يُرِيدُ الْإِسْكَنْدَرِيَّةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں ابو بصرہ کے ساتھ ایک کشتی پر سوار ہوا، وہ اسکندریہ جا رہے تھے، … ۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث اور پچھلے باب کی حدیث (۳۸۴۶)کے فوائد میں مذکورہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ جب ایک آدمی طلوع فجر کے بعد کسی وقت سفر کا قصد رکھتا ہو تو وہ اس دن کا روزہ ترک کر سکتا ہے، یہ بات بالکل ایسے ہی ہے،جیسے روزے کی صلاحیت رکھنے والے ایک آدمی کے بارے میں ڈاکٹر حضرات نے یہ فیصلہ کر دیا ہو کہ فلاں دن اس شخص کا آپریشن کیا جائے گا، تو اس دن نہ وہ آدمی روزہ رکھے گا اور نہ کوئی اسے رکھنے دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3848
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27776»
حدیث نمبر: 3849
عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ عَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْ قَرْيَتِهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ قَرْيَةِ عُقْبَةَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ إِنَّهُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ النَّاسُ، وَكَرِهَ آخَرُونَ أَنْ يُفْطِرُوا، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ أَرَاهُ، إِنْ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ وَأَصْحَابِهِ، يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: اللَّهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ منصور کلبی کہتے ہیں: سیدنا دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ ماہ رمضان میں اپنی بستی سے عقبہ بستی کے نواح میں جانے کے لیے روانہ ہوئے، انہوں نے بھی روزہ رکھنا ترک کر دیا اور ان کے ساتھ والے بعض لوگوں نے بھی، جبکہ بعض نے روزہ چھوڑنے کو پسند نہ کیا، جب وہ اپنی بستی میں واپس پہنچے تو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج ایسی چیز دیکھی ہے کہ مجھے جس کو دیکھنے کی توقع نہ تھی، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے عمل سے اعراض کیا ہے۔ دراصل وہ یہ بات ان لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے جنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، پھر یہ دعا کرنے لگے: اے اللہ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے۔
وضاحت:
فوائد: … ہم حدیث نمبر (۲۳۵۷)کے باب میں قصر کی مسافت پر سیر حاصل بحث کر آئے ہیں،یہ مسئلہ بھی اسی مسافت سے متعلقہ ہے، اس لیے قارئین کو اس بحث کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3849
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27773»