کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جو آدمی روزہ تو رکھ لے، لیکن پھر اسی دن اس کو سفر کی وجہ سے توڑ دے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 3841
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ (وَفِي لَفْظٍ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ) فَصَامَ حَتَّى مَرَّ بِغَدِيرٍ فِي الطَّرِيقِ وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، قَالَ: فَعَطِشَ النَّاسُ وَجَعَلُوا يَمُدُّونَ أَعْنَاقَهُمْ وَتَتُوقُ أَنْفُسُهُمْ إِلَيْهِ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَأَمْسَكَهُ عَلَى يَدِهِ حَتَّى رَآهُ النَّاسُ ثُمَّ شَرِبَ فَشَرِبَ النَّاسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تھے، ایک روایت میں ہے کہ ماہِ رمضان کے دس دن گزر چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا،عین دوپہر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی کے ایک تالاب کے پاس سے گزرے، چونکہ لوگ پیاسے تھے، اس لیے وہ گردنیں لمبی کر کے دیکھ رہے تھے اور ان کے نفس پانی کو چاہ رہے تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوا کر اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے نوش فرمایا اور لوگوں نے بھی پانی پی لیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3841
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 4276، ومسلم: 1113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3460»
حدیث نمبر: 3842
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ وَصَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ دَعَا بِمَاءٍ فِي قَعْبٍ، وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَشَرِبَ، وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، يُعْلِمُهُمْ أَنَّهُ قَدْ أَفْطَرَ فَأَفْطَرَ الْمُسْلِمُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں سفر پر روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور دوسرے مسلمانوں نے روزہ رکھا ہو اتھا،جب کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکڑی کے پیالے میں پانی منگوایا،جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی پیا اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہے تھے، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو یہ بتلانا چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو روزہ توڑ دیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی روزہ افطار کر لیا۔
وضاحت:
فوائد: … کدید مقام، مدینہ منورہ سے سات دنوں کی مسافت پر ہے، اس کے قریب ہی قُدَید مقام ہے اور یہ دونوں عسفان کے ما تحت انتظامی علاقے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3842
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2363»
حدیث نمبر: 3843
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا فَأُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَأَفْطَرَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے (سفر میں) دن روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ قدید مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا پیالہ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے روزہ توڑ دیا اور لوگوں کو بھی افطار کرنے کا حکم دے دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3843
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 2953، ومسلم: 1113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3279 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3279»
حدیث نمبر: 3844
عَنْ طَاوُوسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ يُرِيدُ مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى أَتَى عُسْفَانَ، قَالَ: فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ثُمَّ أَفْطَرَ، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اوراسے اپنے ہاتھ پر رکھا،یہاں تک کہ سب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح دیکھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔ اسی لیے سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ (سفر میں) جو چاہے روزہ رکھ لے اور جو چاہے افطار کر لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3844
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 4279، ومسلم: 1113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2350 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2350»
حدیث نمبر: 3845
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَصَامَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: قَوْلُهُ "إِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ" مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ أَوْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: كَذَا فِي الْحَدِيثِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن سفر پر روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدید مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔(قانون یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری فعل پر عمل کیا جاتا ہے۔کسی نے سفیان سے پوچھا: یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری فعل پر عمل کیا جاتا ہے۔ امام زہری کے ہیں یا سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے؟ انہوں نے کہا: اسی طرح اس حدیث میں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی روایت میں یہ وضاحت موجود ہیں کہ یہ آخری الفاظ امام زہری کے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3845
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1944، 2953، 4275، ومسلم: 1113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1892»
حدیث نمبر: 3846
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَهَرٍ مِنَ السَّمَاءِ، وَالنَّاسُ صِيَامٌ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ مُشَاةً وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ فَقَالَ: ((اشْرَبُوا أَيُّهَا النَّاسُ!))، قَالَ: فَأَبَوْا، قَالَ: ((إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَيْسَرُكُمْ، إِنِّي رَاكِبٌ))، فَأَبَوْا، قَالَ: فَثَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخِذَهُ فَنَزَلَ فَشَرِبَ وَشَرِبَ النَّاسُ وَمَا كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَشْرَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سفر کے دوران) بارانی پانی کی ایک نہر پر پہنچے، گرمی سخت تھی اور لوگ روزے سے تھے اور پیدل سفر کر رہے تھے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! پانی پی لو۔ لیکن لوگوں نے پانی نہ پیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تم میں سب سے زیادہ آسانی والا ہوں، میں تو سوار ہوں۔ لیکن لوگ (روزہ نہ توڑنے پر) اڑے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ران موڑی، نیچے اترے اورپانی پی لیا اور (یہ منظر دیکھ کر) لوگوں نے بھی پانی پی لیا، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ پانی پینے کا نہیں تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کے دو مسائل تو بالکل واضح ہیں، ایکیہ کہ دوران رمضان سفر کے لیے جانا درست ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر رمضان کی گیارہ تاریخ کو مدینہ منورہ سے نکلے تھے اور بیس تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچ گئے تھے، دوسرا یہ کہ رمضان کا دورانِ سفر رکھا ہوا روزہ توڑا جا سکتا ہے، درج بالا احادیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس روزے کو توڑا ہے، اس کی ابتداء بھی سفر سے ہوئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ ایک آدمی حضر میں روزے کا آغاز کرتا ہے، پھر وہ دن کے کسی حصے میں سفر پر چلا جاتا ہے، کیا ایسے شخص کو روزہ توڑنے کا یا پورا کرنے کا اختیار حاصل ہے؟ ظاہر بات تو یہی ہے کہ اسے یہ اختیار حاصل ہے، امام احمد اور امام اسحق کییہی رائے ہے، اس مسلک پر دلالت کرنے والی درج ذیل دلیلیں ہیں: (۱) نصوصِ شرعیہ میں سفر اور مرض کو مطلق طور پر روزہ نہ رکھنے کے لیے عذر قرار دیا گیا ہے، اب یہ قید لگانا درست نہیں ہے کہ یہ رخصت اس شخص کے لیے ہے جو سحری سے پہلے سفر شروع کر دے، کیونکہیہ تو بلا دلیل مطلق کو مقید کرنے والی بات ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اس رخصت کا سبب مشقت ہے اور وہ اپنی جگہ پر برقرار ہے۔
(۲)جیسے روزے کے دوران بیمار ہو جانے والے کو روزہ چھوڑنے کا اختیار ہوتا ہے، اسی طرح کا معاملہ سفر شروع کرنے والے کا ہے۔ اب اس میں یہ فرق کرنا درست نہیں ہے کہ مرض کا روزے دار کے اختیار کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، جبکہ سفر تو اختیاری چیز ہے، کیونکہ ضروری نہیں کہ سفر اختیاری ہی ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ شریعت نے مرض اور سفر کو عذر قرار دیا ہے اور اختیار و اجبار کا کوئی فرق نہیں کیا۔
(۳)محمد بن کعب کہتے ہیں: اَتَیْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ فِیْ رَمَضَانَ وَھُوَ یُرِیْدُ سَفَرًا، وَقَدْ رُحِلَتْ لَہٗرَاحِلَتُہٗ،وَلَبِسَثِیَابَ السَّفَرِ، فَدَعَا بِطَعَامٍ فَاَکَلَ۔ فَقُلْتُ لَہٗ: سُنَّۃٌ؟ قَالَ: سُنَّۃٌ، ثُمَّ رَکِبَ۔ میں ماہِ رمضان میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ سفر پر جانا چاہتے تھے، ان کی سواری تیاری کی گئی تھی اور وہ سفر کے کپڑے پہن چکے تھے، پس انھوں نے کھانا منگوا کر کھایا۔ میں نے پوچھا: کیایہ سنت ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سنت ہے، پھر وہ سوار ہو کر سفر کے لیے نکل پڑے۔(ترمذی: ۷۹۹)
(۴) جعفر بن جبر کہتے ہیں: میں صحابی رسول سیدنا ابو بصرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ماہِ رمضان میں وہ کشتی میں سوار ہو کر فسطاط سے نکلے، ابھی تک انھوں نے اس شہر کے گھروں سے تجاوز نہیں کیا تھا کہ انھوںنے دسترخوان منگوایا اور مجھے کہا: قریب آ جاؤ (اور کھانا کھاؤ)۔ میںنے کہا: کیا آپ کو گھر نظر نہیں آ رہے؟ انھوں نے کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے بے رغبتی کرنا چاہتے ہو۔ پس انھوں نے کھانا کھا لیا۔ (ابوداود: ۲۴۱۲) اگلے باب کی پہلی حدیثیہی ہے۔ جمہور اہل علم کے نزدیک ایسے مسافر کو روزہ توڑنے کا اختیار حاصل نہیں ہے، لیکنیہ قول مرجوح ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3846
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابويعلي: 1080، وابن حبان: 3556 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11423 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11443»