کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان
حدیث نمبر: 3835
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى رَجُلًا قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، قَالُوا: هَذَا رَجُلٌ صَائِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَيْسَ الْبِرُّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر کے دوران ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کے اردگرد جمع تھے، اس کے اوپر سایہ کیا گیا تھا اور لوگ بتا رہے تھے کہ یہ روزے دار آدمی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ نیکی نہیں ہے کہ تم لوگ سفر میں روزہ رکھو۔
وضاحت:
فوائد: … اگر روزے کی وجہ سے روزے دار کو سفر میں اس قدر تکلیف ہونے لگ جائے تو یہ روزہ باعث ِ اجر نہیں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3835
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1946، ومسلم: 1115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14193 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14242»
حدیث نمبر: 3836
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَزَادَ) فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُفْطِرَ فَقَالَ: ((أَمَا يَكْفِيكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَصُومَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) یہی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو بلوایا،اسے روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور اس سے فرمایا: کیا تیرے لیے اتنا کافی نہیں ہے کہ تو اللہ کے رسول کے ساتھ اللہ کی راہ میں نکلا ہوا ہے کہ تو پھر روزہ بھی رکھ رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3836
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14562»
حدیث نمبر: 3837
عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ السَّقِيفَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناکعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ ، جو اصحابِ سقیفہ میں سے تھے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بعض اہل یمن کی لغت کے مطابق حدیث کے الفاظ میں تین دفعہ آنے والے لام تعریف کو میم سے بدلہ گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3837
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1664، والنسائي: 4/ 174 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24079»
حدیث نمبر: 3838
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3838
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول۔ اخرجه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24081»
حدیث نمبر: 3839
عَنْ أَبِي طُعْمَةَ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَقْوَى عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ لَمْ يَقْبَلْ رُخْصَةَ اللَّهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابوطعمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا، ایک آدمی نے آکر کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں( تو کیا میں روزہ رکھ لیا کروں)؟سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو آدمی اللہ تعالیٰ کی رخصت کو قبول نہیں کرتا، اسے عرفہ کے پہاڑوں جتنا گناہ ملتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3839
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «سناده ضعيف لضعف ابن لھيعة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5392»
حدیث نمبر: 3840
عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: تَأْخُذُ إِنْ حَدَّثْتُكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ هَذِهِ الْمَدِينَةِ قَصَرَ الصَّلَاةَ وَلَمْ يَصُمْ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بشر بن حرب کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ تم سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انھوں نے کہا: اگر میں تم کو بیان کروں تو تسلیم کرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو واپس آنے تک نماز بھی قصر کرتے تھے اور روزہ بھی ترک کر دیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … مزید کچھ احادیث اور ان کی فقہ ملاحظہ فرمائیں: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مَرَّ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِرَجُلٍ یُقَلِّبُ ظَھْرَہٗلِبَطْنِہٖ،فَسَأَلَعَنْہُ؟فَقَالُوْا: صَائِمٌیَا نَبِیَّ اللّٰہِ، فَدَعَاہُ فَأَمَرَہٗأَنْیُّفْطِرَ فَقَالَ: ((أَمَا یَکْفِیْکَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَمَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَتّٰی تَصُوْمَ۔)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو الٹ پلٹ ہو رہا تھا۔ آپ نے اس کے بارے میں پوچھا؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ روزے دار ہے۔ آپ نے اسے بلایا اور روزہ افطار کرنے کا حکم دیااور فرمایا: ’’کیا تجھے یہ (نیک عمل) کافی نہیں ہے کہ تو رسول اللہ کی صحبت میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے کہ تو نے روزہ رکھنا بھی شروع کر دیا۔‘‘ (أحمد: ۳/۳۲۷، ولہ طرق اخری عن جابر بنحوہ فی ’’الصحیحین‘‘ وغیرھما،الصحیحۃ: ۲۵۹۵)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث ِ مبارکہ میں بڑی واضح دلالت موجود ہے کہ اس وقت سفر میں روزہ رکھنا ناجائز ہو گا، جب مسافر کو اس کی وجہ سے تکلیف ہو گی، اسی پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی درج ذیل دو احادیث کو محمول کیا جائے گا: ((لَیْسَ مِنَ الْبِرِّ اَلصِّیَامُ فِی السَّفَرِ۔)) ’’سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں روزہ نہ توڑنے والوں کے بارے میں کہا تھا: ((اُولٰئِکَ الْعُصَاۃُ۔)) ’’یہی لوگ نافرمان ہیں۔‘‘ جس آدمی کو دورانِ سفر روزہ رکھنے کی وجہ سے تکلیف نہ ہو رہی ہو تو اسے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا اختیار ہے،یہ اس باب کی مختلف احادیث کا خلاصہ اور جمع و تطبیق ہے۔ (صحیحہ: ۲۵۹۵) سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَیُّ ذٰلِکَ عَلَیْکَ أَیْسَرُ فَافْعَلْ۔)) ’’جو تمہارے لیے آسان ہے وہ کرلو۔‘‘ (تمام في’’الفوائد‘‘ق۱۶۱/۱، صحیحہ:۲۸۸۴)
اس حدیث ِ مبارکہ میں مسافر کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کی رخصت دینے کا سبب بیان کیا گیا ہے اور وہ ہے لوگوں کو آسانی فراہم کرنا۔ بلا شک و شبہ لوگوں کی قدرتوں اور طبیعتوں کو دیکھا جائے تو ’’آسانی‘‘ کا کوئی معین کلیہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ رمضان میں لوگوں کے ساتھ روزہ رکھ لینا آسان ہے اور بعد میں قضائی دینا مشکل ہے، اسی لیے وہ دورانِ سفر بھی روزہ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ بعد میں قضائی دینا کوئی پریشان کن معاملہ نہیں ہے، اس لیے وہ رخصت پر عمل کرتے ہیں۔ سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے: {یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمْ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ} (سورۂ بقرہ: ۱۵۸) … ’’اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتے ہیں، نہ کہ مشکل کا۔‘‘
شیخ البانی نے کہا: سفر میں رمضان کے روزے رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں علماء و فقہاء کے اقوال معروف ہیں۔ یہ بات تو یقینی ہے کہ دورانِ سفر روزہ ترک کرنا رخصت ہے، ہمارا خیال ہے کہ یہی عمل محبوب ہے، الا یہ کہ روزے کی قضا دینا مشکل سمجھی جاتی ہو، ایسی صورت میں روزہ رکھ لینا ہی پسندیدہ عمل ہو گا۔ واللہ اعلم۔ اس موضوع پر وسیع مطالعہ کے خواہش مندوں کو نیل الاوطار اور اہل علم و تحقیق کی دوسری کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۹۳۲) سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، (اگر میں ایسے کروں تو) کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: ((ھِیَ رُخْصَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَمَنْ أَخَذَبِھَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَصُوْمَ، فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ۔)) ’’یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے، جو اس کو قبول کرے گا، سو اچھی بات ہو گی اور جو روزہ رکھنا چاہے، تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔‘‘(صحیح مسلم)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے (المنتقی) میں کہا: اس حدیث میں قوی دلالت پائی جاتی ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔ اس استدلال کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’(روزہ رکھنے والے پر) کوئی گناہ نہیں ہوگا۔‘‘ ان الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ دورانِ سفر روزہ رکھنے کی بہ نسبت روزہ نہ رکھنا راجح اور افضل ہے۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ اس حدیث کا یہ ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے، کیونکہیہاں گناہ کی نفی سے مراد یہ ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا جائز ہے اور ایسا کرنے والے پر کوئی حرج نہیں ہے۔
البتہ درج ذیل حدیث سے یہ استدلال کرنا ممکن ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے: نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ اَنْ تُؤتٰی رُخَصُہٗکَمَایَکْرَہُ اَنْ تُؤتٰی مَعْصِیَتُہٗ۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَمَا یُحِبُّ اَنْ تُؤتٰی عَزَائِمُہُ۔)) ’’بیشک اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے، جیسے وہ ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانیوں کاارتکاب کیا جائے۔ اور ایک روایت میں ہے: جیسے وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے لازمی امور پر عمل کیا جائے۔‘‘
اس حدیث سے یہ استدلال کرنا بالکل درست ہے کہ دورانِ سفر روزہ نہ رکھنا افضل ہے، لیکن ممکن ہے کہ حکم اس آدمی کے بارے میں ہو جو قضا دیتے وقت تنگی محسوس نہ کرتا ہو اور سفر میں روزہ کی وجہ سے اسے کوئی مشقت پیش آتی ہو، وگرنہ رخصت کا مقصود فوت ہو جائے گا۔ مزید آپ خود سوچ لیں۔ آپ تقریباً سترہ اٹھارہ احادیث اور بعض کے فوائد کا مطالعہ کر چکے ہیں، ہر قاری کے لیے فیصلہ کرنا بہت آسان ہو گیا ہے، اگر سفر کے موجودہ ذرائع اور سہولیات کو دیکھا جائے تو روزہ رکھ لینا ہی بہتر ہے، الّایہ کہ کوئی بڑی مشقت لاحق ہونے کا خطرہ ہو، بہرحال ہر سفر میں بندے کو روزہ ترک کرنے کا اختیار حاصل ہے، اور اگر کوئی آدمی حضر کی بہ نسبت سفر کے روزہ میں بہت زیادہ تکلیف محسوس کرے، تو اس کا یہ عمل (سفر میں روزہ رکھنا) قابل مذمت ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3840
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الحارث بن عبيد، وبشر بن حرب فيھما ضعف۔ اخرجه الطيالسي: 1863، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5750 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5750»