کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: روزہ چھوڑنے کو جائز کر دینے والے امور اور قضاء کے احکام کا بیان سفر میں روزہ چھوڑنے اور روزہ رکھنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 3825
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَ حَمْزَةُ (بْنُ عَمْرٍو) الْأَسْلَمِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں لگاتار روزے رکھتا ہوں، آیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو چھوڑ دو۔
حدیث نمبر: 3826
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا مِنَّا صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابو دردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، اس قدر شدید گرمی تھی کہ ہم میں سے بعض اپنے سروں پر ہاتھ رکھتے تھے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں کوئی بھی روزے دار نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 3827
عَنْ سَلْمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ((مَنْ كَانَتْ لَهُ حَمُولَةٌ تَأْوِي إِلَى شِبَعٍ فَلْيَصُمْ رَمَضَانَ حَيْثُ أَدْرَكَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن محیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس ایسی سواری ہو جو اسے کھانے کی جگہ تک پہنچا سکتی ہو تو رمضان جہاں بھی اسے پا لے، وہ روزہ رکھے۔
حدیث نمبر: 3828
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَا يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ، يَرَوْنَ أَنَّهُ يَعْنِي أَنَّهُ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ، وَيَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ کرتے تھے، ہم میں سے کوئی روزہ رکھ لیتا تھا اور کوئی نہیں رکھتا تھا، روزہ دار، روزہ نہ رکھنے والوں پر اور روزہ نہ رکھنے والے، روزہ دار پر کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا تھا، ان کا یہ خیال تھا کہ جو شخص سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو اور وہ روزہ رکھ لے تو یہ اچھا ہے اور جو کمزوری محسوس کرتا ہو اور وہ روزہ نہ رکھے تو یہ اس کے لیے اچھا ہے۔
حدیث نمبر: 3829
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَا تَعِبْ عَلَى مَنْ صَامَ فِي السَّفَرِ وَلَا عَلَى مَنْ أَفْطَرَ، قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: نہ تو سفر میں روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب لگا اور نہ روزہ چھوڑنے والے پر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور ترک بھی کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3830
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ، وَنَحْنُ صِيَامٌ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ، فَكَانَتْ رُخْصَةً، فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ مُصَبِّحُو عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ فَأَفْطِرُوا، فَكَانَتْ عَزِيمَةً فَأَفْطَرْنَا، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مکہ مکرمہ کی طرف سفر کیا، جبکہ ہم روزہ کی حالت میں تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو، تمہارے لیے زیادہ طاقت روزہ نہ رکھنے میں ہے۔ چونکہ یہ رخصت تھی، اس لیے ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھا، اس کے بعد جب ہم نے ایک دوسرے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم صبح کو دشمنوں پر حملہ کرنے والے ہو اور تمہارے لیے زیادہ قوت روزہ نہ رکھنے میں ہے، لہذا تم روزہ نہ رکھو۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لازمی حکم تھا اس لیے ہم سب نے روزہ رکھنا ترک کر دیا، بہرحال میں نے دیکھا کہ اس کے بعد بھی ہم صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3831
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): قَالَ: لَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَّ الظَّهْرَانِ أَذَنَنَا بِلِقَاءِ الْعَدُوِّ، فَأَمَرَنَا بِالْفِطْرِ فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرالظہران کے مقام پر پہنچے تو آپ نے ہمیں دشمن کے مقابلہ کی خبر دی اورروزہ ترک کرنے کا حکم دیا،پس ہم سب نے روزہ چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 3832
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرٍ عَامَ الْفَتْحِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْإِفْطَارِ، وَقَالَ: ((إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ عَدُوَّكُمْ فَتَقَوَّوْا))، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا لِصِيَامِكَ فَلَمَّا أَتَى الْكَدِيدَ أَفْطَرَ، قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے سال دورانِ سفر روزہ رکھا،لیکن صحابہ کو روزہ نہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہو، لہذا (روزہ ترک کر کے) قوت حاصل کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزہ رکھنے کی بنیاد پر لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدید مقام پر پہنچے تو روزہ توڑ دیا۔ مجھے بیان کرنے والے نے یہ بھی کہا: میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان تین احادیث میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں مجاہدین کی مکمل رہنمائی کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 3833
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ فِي رَمَضَانَ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ أَفْطَرُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان میں سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ پر رکھا، جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے بھی روزہ توڑ دیا۔
حدیث نمبر: 3834
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، وَالْفَتْحُ فِي رَمَضَانَ فَأَفْطَرْنَا فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ماہِ رمضان میں غزوہ کے لیے گئے، اور فتح مکہ بھی ماہ رمضان میں ہوئی تھی، بہرحال ہم نے ان دونوں غزووں میں روزہ نہیں رکھاتھا۔