کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان
حدیث نمبر: 3820
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ رَجُلٌ يَنْتِفُ شَعْرَهُ وَيَدْعُو وَيْلَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا لَكَ؟))، قَالَ: قَدْ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: ((أَعْتِقْ رَقَبَةً))، قَالَ: لَا أَجِدُهَا، قَالَ: ((صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ))، قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: ((أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا))، قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ، فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: ((خُذْ هَذَا فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ سِتِّينَ مِسْكِينًا))، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا، قَالَ: ((كُلْهُ أَنْتَ وَعِيَالُكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی اپنے بالوں کو نوچتا ہوا اور اپنی ہلاکت کی خبر دیتا ہوا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے ہواکیا ہے؟ اس نے کہا: میں ماہِ رمضان میں(روزے کی حالت میں) اپنی بیوی سے ہم بستری کر بیٹھا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام یا لونڈی آزاد کرو۔ اس نے کہا: میں یہ نہیں کر سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔ اس نے کہا: مجھ میں اتنی طاقت بھی نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ساٹھ مساکین کو کھانا کھلاؤ۔ اس نے کہا: میں تو اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا پیش کیا گیا، اس میں پندرہ صاع کھجور تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: یہ لے جاؤ اور ساٹھ مساکین کو کھلا دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مدینہ منورہ کے ان دو حرّوں (سیاہ پتھروں والے میدان) میں کوئی بھی گھر والے مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اور تمہارا اہل خانہ ہی کھا لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3820
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6944»
حدیث نمبر: 3821
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) بِمِثْلِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ بَدَنَةً، وَقَالَ: عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ: وَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا مَكَانَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ایک اونٹ کا صدقہ کرنے کے حکم کا اضافہ ہے۔عمرو نے اپنی روایت میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا تھا کہ وہ اس کے عوض ایک روزہ بھی رکھے۔
وضاحت:
فوائد: … مؤطا امام مالک کی روایت کے مطابق اس زیادتی کی وضاحت یہ ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایک غلام آزاد کرنے کا حکم دیا، لیکن جب اس نے عدمِ استطاعت کا اظہار کیا توا ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اونٹ صدقہ کرنے کا حکم دیا، اس کے بعد روزوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کی بات ہوئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3821
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6945»
حدیث نمبر: 3822
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَفِيهِ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ فِيهِ تَمْرٌ، قَالَ: ((اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهَا)) الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا، اس میں کھجوریں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور یہ صدقہ کر دو، … ۔
وضاحت:
فوائد: … ’’عَرَق‘‘ اور ’’زِنْبِیْل‘‘ ایک پیمانہ ہے، جس میں پندرہ صاع کھجوریں آتی ہیں، ہم نے آسانی کے لیے اس کا معنی ’’ٹوکرا‘‘ کیا ہے، ایک صاع کا وزن دو کلو سو گرام ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3822
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7772»
حدیث نمبر: 3823
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک غلام یا لونڈی آزاد کرے یا دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔
وضاحت:
فوائد: … دوسری روایات میں ان تین چیزوں کو ترتیب کے ساتھ ذکر کیا گیا، اس حدیث ِ میں ’’اَوْ‘‘ کا لفظ تقسیم کے لیے ہے، نہ کہ تخییر کے لیے۔
مطلبیہ ہے کہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ غلام یا لونڈی آزاد کر یا دو ماہ کے روزے رکھ یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا۔ لیکن دوسری روایات میں ہے کہ آپ نے اسے فرمایا ایک گردن آزاد کر۔ جب اس نے کہا میرے پاس اس کی طاقت نہیں تو آپ نے فرمایا، دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔ اس نے اس کی طاقت بھی نہ ہونے کی بات کی تو آپ نے فرمایا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا گویا رمضان کے روزے کی حالت میں کوئی جماعت کر لے تو وہ ایک گردن آزاد کرے، اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ یہ کفارہ ہیں کہ ان تین کاموں میں سے جو چاہے ایک کام کر لے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3823
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7678»
حدیث نمبر: 3824
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ فَارِعِ أُجُمِ حَسَّانَ، جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: احْتَرَقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ!، قَالَ: ((مَا شَأْنُكَ؟))، قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ، قَالَ: وَذَاكَ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اجْلِسْ))، فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ فَأَتَى رَجُلٌ بِحِمَارٍ عَلَيْهِ غِرَارَةٌ، فِيهَا تَمْرٌ، قَالَ: هَذِهِ صَدَقَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ!، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا؟))، فَقَالَ: هَا هُوَ ذَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ!، قَالَ: ((خُذْ هَذَا، فَتَصَدَّقْ بِهِ))، قَالَ: وَأَيْنَ الصَّدَقَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِلَّا عَلَيَّ وَلِي، فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ أَنَا وَعِيَالِي شَيْئًا، قَالَ: ((فَخُذْهَا))، فَأَخَذَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قلعہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو جل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: بات کیا ہے؟ اس نے کہا: میں ماہ رمضان میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ وہ لوگوں کی ایک طرف بیٹھ گیا، اتنے میں ایک آدمی اپنے گدھا پر ایک بورا لاد کر لایا، اس میں کھجوریں تھیں اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میری طرف سے صدقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جلنے والا کہاں ہے، جو ابھی بات کر رہا تھا؟ وہ خود بولا: جی اے اللہ کے رسول! وہ یہ میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لے جاؤ اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! صدقہ کہاں ہو گا، مگر مجھ پر اور میرے لیے، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میرے اور میرے گھر والوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کو لے جاؤ۔ پس وہ لے کر چلا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایتیہاں مختصر ہے، صحیح بخاری میں غلام کو آزاد کرنے اور دو ماہ کے روزے رکھنے کا ذکر موجود ہے۔
ان احادیث سے ثابت ہونے والے احکام درج ذیل ہیں: (۱)جو آدمی روزے کی حالت مجامعت کرے گا، اس پر یہ کفارہ لازم آئے گا: ایک غلام آزاد کرنا، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنا اور اگر ان کی طاقت بھی نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ حدیث نمبر (۳۸۲۱) سے معلوم ہوا کہ غلام کو آزاد کرنے کی طاقت نہ رکھنے والا اونٹ کا صدقہ کردے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو روزوں والا حکم اختیار کرے، حسن بصری نے اس کفارے میں اونٹ کے ثبوت کا فتوی دیا ہے۔
(۲)یہ کفارہ روزے کی حرمت کو پامال کرنے کا ہے، اس لیے اس کی ادائیگی کے باوجود روزے کی قضائی دینا پڑے گی۔
(۳) اگر کسی آدمی میں کفارہ کی کوئی شق پوری کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ کچھ کیے بغیر بریٔ الذمہ ہو جائے گا، اس حدیث ِ مبارکہ سے بھی اسی چیز کا ثبوت ملتا ہے اور {لَایُکَلِّفَ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا} میں بیان کیے گئے قانون کا بھییہی تقاضا ہے۔
(۴) ایک انتہائی مسئلہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں عورت پر کفارہ پڑے گا یا نہیں؟ اور اگر کفارہ پڑے گا تو اس حدیث میں اس کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟ بلا شک و شبہ جس جرم کی وجہ سے خاوند کو یہ کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے، وہی جرم عورت میں بھی پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ زانی مرد و زن، وہ شادی شدہ ہوں یا کنوارے، سب کی سزا برابر برابر ہے (یعنی مرد اور عورت کی حیثیت میں زنا کی سزا ایک ہے، مختلف نہیں، ہاں یہ بات الگ ہے کہ کنوارے اور شادی شدہ کی سزا میں فرق ہے)، اس لیے روزے کی حالت میں مجامعت کرنے والی خاتون الگ سے اپنا کفارہ ادا کرے گی، رہا یہ سوال اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیوی کے کفارے کا ذکر کیوں نہیں کیا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ جو مجرم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار میں کھڑا ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی توجہ کو اسی پر مرکوز کرتے تھے اور اس سے متعلقہ دوسرے مجرم کی تفتیش از خود نہیں کرتے تھے، کتاب الحدود میں زنا سے متعلقہ اس قسم کی مثالوں کا ذکر آئے گا، کتاب الحدود کا آغاز حدیث نمبر (۶۶۲۱) سے ہو گا، ہاں اگر دوسرے مجرم کا واضح الفاظ میں ذکر کر دیا جاتا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بھی تفتیش کرتے تھے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا انیس رضی اللہ عنہ کویہ حکم دے کر ایک خاتون کی طرف بھیجا کہ اگر وہ اعترافِ جرم کر ے تو اسے رجم کر دینا۔ اس تحقیق کی وجہ یہ تھی کہ اس موقع پر دو دفعہ اس خاتون کا بطورِ مجرمہ تذکرہ کیا گیا، ایسے میں حاکم کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ دوسرے مجرم کے معاملے کو بھی سنجیدگی سے لے۔ اب چونکہ روزے کی حالت میں مجامعت کرنے والے اس مرد نے اپنی بیوی کا بطورِ مجرمہ کوئی تذکرہ نہیں، بلکہ ایک روایت کے الفاظ تو یہ ہیں کہ اس بندے نے کہا: ’’میں نے اپنی بیوی سے ہم بستری کر لی ہے، جبکہ میں روزے دار تھا۔‘‘ جبکہ اس چیز کا بھی احتمال ہے کہ بیوی نے کسی عذر کی بنا پر روزہ ہی نہ رکھا ہوا ہو، یا خاوند کے سامنے مجبور ہو گئی ہو، یا وقتی طور پر روزے کو بھول گئی ہو، امام خطابی نے بھییہ وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام ابو ثور اور امام ابن منذر اور ایک روایت کے مطابق امام احمد اسی نظریے کے قائل ہیں کہ بیوی پر الگ سے کفارہ ہو گا۔
(۵)ان احادیث سے یہ بھی اندازہ لگا لیناچاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں شرعی حدود کی کتنی اہمیت ہے کہ جب خاوند روزے کا پاس و لحاظ رکھے بغیر اپنی بیوی سے ہم بستری کر بیٹھتا ہے تو اسے اتنا بڑا کفارہ دینے کا مکلف بنایا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3824
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 6822، ومسلم: 1112، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26359 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26891»