کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: وصال سے منع کرنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3809
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تَفْعَلُهُ، فَقَالَ: ((إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَظَلُّ، يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا تو کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہا: آپ خود تو وصال کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میری صورتحال تو یہ ہے کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔
حدیث نمبر: 3810
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ فَوَاصَلَ النَّاسُ فَنَهَاهُمْ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: ((إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان میں وصال کیا، سو لوگوں نے بھی وصال شروع کر دیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں منع فرمایا تو کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم جیسا نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا پلایا بھی جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 3811
عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَنَا شَاهِدَةٌ عَنْ وَصْلِ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهَا: أَتَعْمَلِينَ كَعَمَلِهِ؟ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَكَانَ عَمَلُهُ نَافِلَةً لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلا افطار کے تسلسل کے ساتھ روزے رکھنے کے بارے میں دریافت کیا، میں بھی وہاں موجود تھی، تو سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح کا عمل کر لو گی؟ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تو اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل تو نفلی ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 3812
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوَاصِلُ مِنَ السَّحَرِ إِلَى السَّحَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سحری سے دوسری سحری تک وصال کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3813
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 3814
عَنْ لَيْلَى امْرَأَةِ بَشِيرٍ، قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أَصُومَ يَوْمَيْنِ مُوَاصَلَةً فَمَنَعَنِي بَشِيرٌ وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، وَقَالَ: ((يَفْعَلُ ذَلِكَ النَّصَارَى وَلَكِنْ صُومُوا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ، فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ فَأَفْطِرُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ لیلیٰ زوجہ بشیر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :میں نے دو دن کا بلا افطار متواتر روزہ رکھنا چاہا، لیکن میرے شوہر بشیر نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کر دیا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: اس طرح تو عیسائی کرتے ہیں، تم اسی طرح روزے رکھا کرو، جیسے اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے، یعنی رات تک روزہ مکمل کیا کرو، جب رات ہو جائے تو افطاری کر لیا کرو۔
حدیث نمبر: 3815
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تُوَاصِلُوا))، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: ((إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي))، قَالَ: فَلَمْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ، فَوَاصَلَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ ثُمَّ رَأَوُا الْهِلَالَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُكُمْ)) كَالْمُنَكِّلِ بِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وصال نہ کرو۔ لیکن صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو وصال کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں،میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ بہرحال لوگ تو وصال سے باز نہ آئے۔ (جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ مسلسل دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کیا، اس کے بعد چاند نظر آگیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر چاند نظر نہ آتا تو میں مزید وصال کرتا۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ان کے لیے عبرتناک سزا بنا رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سوال یہ ہے کہ اس حدیث سے وصال کے جواز کا استدلال کیا جائے یا عدم جواز کا؟ اگر اس نقطے کو سامنے رکھا جائے کہ اگر یہاں نہی حرمت کے لیے ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو وصال پر برقرار نہ رکھتے تو جواز کا استدلال کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر اس اعتبار سے غور کیا جائے کہ جس چیز کی اجازت اس لیے دی گئی ہے، تاکہ اس کو عبرتناک سزا بنا دیا جائے تو عدم جواز کا مفہوم کشید کیا جائے گا۔ زیادہ رجحان پہلے خیال کی طرف جاتا ہے، جیسا کہ ایک صحابی کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی اور وصال سے منع کیا، اپنے صحابہ پر شفقت کرتے ہوئے اور ان کو حرام قرار نہیں دیا۔ (ابوداود: ۲۳۷۴)