کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بھول کر یا تاویل کر کے کھا پی لینے والے کا بیان
حدیث نمبر: 3788
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا صَامَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا فَنَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدناحسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی آدمی نے روزہ رکھا ہوا ہو اور وہ بھول کر کھا پی لے تو وہ اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا اور پلایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حکم کا تعلق فرضی اور نفلی دونوں روزوں سے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3788
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 6669، ومسلم: 1155 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9125»
حدیث نمبر: 3789
عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ دِينَارٍ عَنْ مَوْلَاتِهَا أُمِّ إِسْحَاقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَأَكَلَتْ مَعَهُ وَمَعَهُ ذُو الْيَدَيْنِ فَنَاوَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَرْقًا، فَقَالَ: ((يَا أُمَّ إِسْحَاقَ! أَصِيبِي مِنْ هَذَا))، فَذَكَرْتُ أَنِّي كُنْتُ صَائِمَةً فَبَرَدَتْ يَدِي لَا أُقَدِّمُهَا وَلَا أُؤَخِّرُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا لَكِ؟))، قَالَتْ: كُنْتُ صَائِمَةً فَنَسِيتُ فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ: الْآنَ بَعْدَ مَا شَبِعْتِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَتِمِّي صَوْمَكِ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ام حکیم بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ام اسحاق رضی اللہ عنہا نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ثرید کا پیالہ لایا گیا، میں نے اور سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہ کھانا کھایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے گوشت والی ایک ہڈی دی اور فرمایا: ام اسحاق! یہ بھی کھا لو۔ اس وقت مجھے یاد آیا کہ میرا تو روزہ تھا۔ میرا ہاتھ تو وہیں رک گیا، میں اسے آگے کر سکتی تھی نہ پیچھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: میرا تو روزہ تھا اور میں بھول گئی تھی۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: اب یاد آیا تجھے، سیر ہونے کے بعد۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا روزہ پورا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ رزق تم کو مہیا کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3789
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ام حكيم بنت دينار و بشار بن عبد الملك ضعيف۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 25/ 411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27069 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27609»
حدیث نمبر: 3790
عَنْ أَسْمَاءَ (بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قُلْتُ لِهِشَامٍ: أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ؟ قَالَ: وَبُدٌّ مِنْ ذَاكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ماہِ رمضان میں ایک دن بادل چھاگئے، (ہم نے سمجھا کہ سورج غروب ہو گیا) اس لیے ہم نے روزہ افطار کر لیا، لیکن بعد میں سورج نظر آنے لگ گیا۔ میں (ابواسامہ) نے ہشام سے کہا: تو پھر لوگوں کو اس روزہ کی قضاء کا حکم دیا گیا تھا؟ انھوں نے کہا: کیااس کے بغیر بھی کوئی چارہ ہے؟
وضاحت:
فوائد: … حدیث کا آخری جملہ ’’کیا اس کے بغیر بھی کوئی چارہ ہے؟‘‘ ہشام بن عروہ کا اپنا استدلال ہے، وگرنہ ایسی صورتحال میں ایسی خطا کرنے والوں کوچاہیے کہ وہ فوراً اپنی خطا سے باز آ کر روزہ مکمل کریں، کیونکہیہ بھی بھولنے کی ہی ایک قسم ہے، ہم نے حدیث نمبر (۳۷۰۵یا۳۷۰۸) میں جس مسئلے پر بحث کی ہے، اس میں ایک شق یہ بھی تھی کہ اگرکسی آدمی کو سحری کا وقت گزر جانے کے بعد دن میں کسی وقت رمضان کا چاند نظر آنے کی خبر ملتی ہے تو وہ اسی وقت سے روزہ کی نیت کر لے گا اور اس پر کوئی قضائی نہیں ہو گی، اس حدیث میں مذکورہ مسئلہ بھی اسی قسم کا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3790
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1959، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27466»