کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
حدیث نمبر: 3773
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟)) قُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَفِيمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن مجھے راحت اور نشاط محسوس ہوا، سو میں نے اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، جبکہ میں روزے کی حالت میں تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: آج میں ایک بہت بڑا کام کر بیٹھا ہوں اور وہ یہ کہ روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو تو اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہو گا؟ میں نے کہا:اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو (پھر اس بوسے کے بارے میں) کیا پوچھتے کیا ہو؟ یعنی بوسہ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی بھی مشروب ہو، اس کو نوش کرنے کے لیے اسے منہ میں ڈالا جاتا ہے، گویا منہ میں پانی ڈالنا پانی پینے کا داعیہ اور چابی ہے، لیکن کلی کے لیے منہ میں یہی پانی ڈالنے سے کچھ نہیں ہوتا، یہی معاملہ بیوی کا بوسہ لینے کے حکم ہے، کہ یہ جماع کا داعیہ اور چابی ہے، لیکن صرف بوسہ لینے سے روزہ متأثر نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3773
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2385، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 138 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 138»
حدیث نمبر: 3774
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ يَجْعَلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا ثَوْبًا تَعْنِي الْفَرْجَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں (اپنی بیوی کے ساتھ) مباشرت کرتے یعنی جسم کے ساتھ جسم ملا لیتے تھے، البتہ اپنے اور اس کی شرمگاہ کے درمیان کپڑا رکھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3774
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه مسلم: 1106 بلفظ ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم كان يباشر وھو صائم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24818»
حدیث نمبر: 3775
عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ: خَرَجَ عَلْقَمَةُ وَأَصْحَابُهُ حُجَّاجًا فَذَكَرَ بَعْضُهُمْ: الصَّائِمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، قَدْ قَامَ سَنَتَيْنِ وَصَامَهُمَا هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ قَوْسِي فَأَضْرِبَكَ بِهَا قَالَ: فَكُفُّوا حَتَّى تَأْتُوا عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَدَخَلُوا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلُوهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ، قَالُوا: يَا أَبَا شِبْلٍ! سَلْهَا، قَالَ: لَا أَرْفُثُ عِنْدَهَا الْيَوْمَ، فَسَأَلُوهَا فَقَالَتْ: كَانَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ علقمہ اور ان کے ساتھی حج کے لیے روانہ ہوئے، کسی نے کہا:روزے دار (اپنی بیوی کا) بوسہ لے سکتا ہے اور اس کے ساتھ لیٹ بھی سکتا ہے۔ ان میں سے ایک آدمی دو سال کے قیام اور روزوں کا اہتمام کر چکا تھا، اس نے یہ سن کر کہا: میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اپنی کمان لے کر تمہیں دے ماروں۔ علقمہ نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچنے تک اس مسئلہ سے رک جاؤ۔ بالآخر وہ سارے لوگ سیدہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ بھی لے لیتے تھے اور مباشرت بھی کر لیا کرتے تھے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سب لوگوں سے زیادہ اپنی حاجت پر قابو پانے والے تھے۔ساتھیوں نے کہا: ابوشبل! اب سیدہ رضی اللہ عنہا سے خود پوچھ لو۔ لیکن اس نے کہا: میں آج ان کے ہاں اس قسم کی گفتگو نہیں کروں گا۔ پھر انھوں نے سوال کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ بھی لے لیتے اور مباشرت بھی کر لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3775
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24631»
حدیث نمبر: 3776
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَهْوَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُقَبِّلَنِي فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ: وَأَنَا صَائِمٌ، قَالَتْ: فَأَهْوَى إِلَيَّ فَقَبَّلَنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بوسہ دینے کے لیے میری طرف جھکے، میں نے کہا: میں تو روزہ دار ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف جھکے اور میرا بوسہ لیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3776
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1927، 1928، ومسلم: 1106 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25536»
حدیث نمبر: 3777
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ ضَحِكَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اہلیہ کا بوسہ لیا، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں تھے، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3777
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26251»
حدیث نمبر: 3778
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَظَلُّ صَائِمًا ثُمَّ يُقَبِّلُ مَا شَاءَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ رکھتے اور پھر افطار کرنے تک جس قدر چاہتے میرے چہرے کے بوسے لیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3778
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25206»
حدیث نمبر: 3779
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ وَيَمُصُّ لِسَانَهَا، قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور ان کی زبان کو چوس لیا کرتے تھے۔ عفان کہتے ہیں: میں نے محمد بن دینار سے پوچھا کہ کیا تو نے یہ حدیث سعد بن اوس سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا : جی ہاں۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کوئی خاوند روزے کی حالت میں اپنی بیوی کی زبان کو چوس لے تو ضروری ہے کہ ایک کا لعاب دوسرے کے پیٹ میں نہ جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3779
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: ويمص لسانھا، وھذا اسناد ضعيف لضعف محمد بن دينار۔ اخرجه ابوداود: 2386 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24916 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25429»
حدیث نمبر: 3780
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ فَسَكَتَ هُنَيَّةً، ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ امام سفیان نے عبد الرحمن بن قاسم سے کہا: کیا تو نے اپنے باپ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے دار ہوتے تھے؟ یہ سن کر عبدالرحمن بن القاسم کچھ دیر خاموش رہے، پھر کہا: جی ہاں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3780
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري:1927، 1928، ومسلم: 1106 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24611»
حدیث نمبر: 3781
عَنْ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَسْأَلُهَا، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ فَإِنْ قَالَتْ: لَا، فَقُلْ لَهَا إِنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَ: فَسَأَلْتُهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَتْ: لَا، قُلْتُ: إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ: لَعَلَّهُ إِيَّاهَا، كَانَ لَا يَتَمَالَكَ عَنْهَا حُبًّا، أَمَّا إِيَّايَ فَلَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو قیس کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کہ طرف بھیجا تاکہ میں ان سے سوال کروں کہ کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے؟ اگر وہ نفی میں جواب دیں تو ان کو یہ کہو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ تو لوگوں کو یہ بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ پس میں گیا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے؟انہوں نے کہا: جی نہیں، میں نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ تو لوگوں کو یہ بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا بوسہ لے لیتے ہوں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان سے بہت زیادہ محبت تھی، رہا مسئلہ میرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حالت میں میرا بوسہ نہیں لیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3781
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، فقد تفرد به موسي بن عُلَيّ اللخمي وھو ليس بحجة اذا انفرد۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 3072، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 23/ 389، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26533 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27068»
حدیث نمبر: 3782
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخٍ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ، فَمَا تَرَيْنَ؟ فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن فروخ کہتے ہیں کہ ایک خاتون نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس کا شوہر اس کا بوسہ لے لیتا ہے، جب کہ وہ دونوں روزے دار ہوتے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی روزے کی حالت میں ہوتے اور میں بھی روزے دار ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3782
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 322، ومسلم: 296، 234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27033»
حدیث نمبر: 3783
عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3783
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26446 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26978»
حدیث نمبر: 3784
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنَالُ مِنْ وَجْهِ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی بعض بیویوں کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3784
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26977»
حدیث نمبر: 3785
عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3785
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، والصواب فيه شتير بن شكل عن حفصة، وھو الحديث السابق۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 3084، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 23/ 492 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26762 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27298»
حدیث نمبر: 3786
عَنْ أَيُّوبَ عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ مِنَ الرُّؤُوسِ وَهُوَ صَائِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو سدوس کے ایک شیخ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روزے دار کے (اپنی بیوی کا) بوسہ لینے کے بارے میں سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں سروں (والے اعضاء) کو استعمال کر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3786
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة الشيخ من بني سدوس۔ اخرجه الطحاوي: 2/ 90 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3391»
حدیث نمبر: 3787
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَ عَطَاءً: أَنَّهُ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ))، فَأَخْبَرَتْهُ امْرَأَتُهُ فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ، فَارْجِعِي إِلَيْهِ، فَقُولِي لَهُ، فَرَجَعَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ، فَقَالَ: ((أَنَا أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِ اللَّهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عطاء بن یسارکہتے ہیں: ایک انصاری آدمی نے مجھے بیان کیا کہ اس نے عہد رسالت میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا تھا، جب اس کی بیوی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کا رسول بھی ایسے کر لیتا ہے۔ جب اس کی بیوی نے اسے جا کر بتایا تو اس نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو بعض چیزوں کی (خصوصی طور پر) رخصت دی جاتی ہے،تو جا اور دوبارہ پوچھ۔ پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹی اور جا کر کہا: میرا شوہر کہتاہے کہ آپ کو صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو بعض امور میں خصوصی اجازت دے دی جاتی ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اللہ کی حدود کو جاننے والا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … درج بالا دو ابواب کی احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ خاوند روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے، اس ضمن میں حدیث نمبر (۳۷۷۱) اور (۳۷۷۵) سب سے زیادہ فیصلہ کن ہیں،یعنی بوسہ لینے
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3787
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه عبد الرزاق: 7412، ومالك في ’’المؤطا‘‘: 1/ 291، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24082»