کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
حدیث نمبر: 3770
عَنْ مَيْمُونَةَ (بِنْتِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَ: ((قَدْ أَفْطَرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لیتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے تو روزہ افطار کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3770
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابويزيد الضبي مجھول۔ اخرجه ابن ماجه:1686 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28177»
حدیث نمبر: 3771
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ شَابٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ: ((لَا))، فَجَاءَ شَيْخٌ فَقَالَ: أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ))، فَنَظَرَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ عَلِمْتُ لِمَ نَظَرَ بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ إِنَّ الشَّيْخَ يَمْلِكُ نَفْسَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،ایک نوجوان نے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اتنے میں ایک بوڑھا آدمی آیااور اس نے بھی یہی سوال کیا کہ وہ روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ یہ جواب سن کر ہم نے (ازراہِ تعجب) ایک دوسرے کی طرف دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تم نے ایک دوسرے کی طرف کیوں دیکھا ہے،بات یہ ہے کہ بوڑھا آدمی اپنے اوپر کنٹرول کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3771
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صححه الالباني بالشواھد (صحيحه: 1606)۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7054»
حدیث نمبر: 3772
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ الْعُذْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ وَأَدْرَكَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانُوا يَنْهَوْنِي عَنِ الْقُبْلَةِ تَخَوُّفًا أَنْ أَتَقَرَّبَ لِأَكْثَرَ مِنْهَا، ثُمَّ الْمُسْلِمُونَ الْيَوْمَ يَنْهَوْنَ عَنْهَا وَيَقُولُ قَائِلُهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ مِنْ حِفْظِ اللَّهِ مَا لَيْسَ لِأَحَدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر عذری رضی اللہ عنہ ، جن کے چہرے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ پھیرا تھا اور انہوں نے بہت سے صحابہ کو پایا تھا، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:صحابہ کرام اس اندیشہ کی بناء پر مجھے (اپنی بیوی کا) بوسہ لینے سے منع کیا کرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے اگلی چیز کی طرف تجاوز کر جاؤں اور آج کے مسلمان (تابعین) بھی اس سے (مطلق طور پر) منع کرتے ہیں اور (بطورِ دلیل) یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حفاظت حاصل تھی، وہ کسی دوسرے کے لیے تو نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3772
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ اخرجه بنحوه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 95 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24069»