کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 3767
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أَعُدُّ وَلَا أُحْصِي، يَسْتَأْكُ (وَفِي لَفْظٍ يَتَسَوَّكُ) وَهُوَ صَائِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے بے شمار مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزہ کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 3768
عَنْ (عَمْرِو) بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ فِي رَمَضَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماہِ رمضان میں کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھاتے ہوئے دیکھا تھا۔
حدیث نمبر: 3769
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْكُبُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ بِالسُّقْيَا، إِمَّا مِنَ الْحَرِّ وَإِمَّا مِنَ الْعَطَشِ، وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ صَائِمًا حَتَّى أَتَى كَدِيدًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ وَهُوَ عَامُ الْفَتْحِ، زَادَ فِي رِوَايَةٍ: قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودیکھا کہ سقیا مقام پر آپ کے سر پر گرمی یا پیاس کی وجہ سے پانی ڈالا جا رہا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے دار تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ قائم رکھا، یہاں تک کہ کدید مقام تک پہنچ گئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور روزہ افطار کر دیا اور لوگوں نے بھی روزہ توڑ دیا،یہ فتح مکہ (کے سفر کے دوران کا) واقعہ ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں:مجھے بیان کرنے والے نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرمی کی شدت کی وجہ سے سر پر پانی ڈال رہے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں تھے۔
وضاحت:
فوائد: … نہانا، سرپر پانی ڈالنا، کلی کرنا، مسواک کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا، اِن سب امور کا روزہ کے ٹوٹنے سے کوئی تعلق نہیں ہے، البتہ ناک میں پانی چڑھاتے وقت مبالغہ نہیں کرنا چاہیے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ پانی حلق میں اتر جائے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَبَالِغْ فِیْ الْاِسْتِنْشَاقِ، اِلَّا اَنْ تَکُوْنَ صَائِمًا۔)) ’’ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کر، الّا یہ کہ تو روزے دار ہو۔‘‘ (سنن اربعہ) اس حدیث سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ کلی اور مسواک کرتے وقت بداحتیاطی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اسی طرح آنکھوں میں سرمہ ڈالنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ کسی شرعی دلیل کے ذریعے روزے دار پراس کی پابندی نہیں لگائی گئی اور جن احادیث میں سرمہ ڈالنے کی ترغیب دلائی گئی، ان کو کسی تخصیصیا قید کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا، البتہ ایسے قطروں کے ڈالنے سے بچنا جائے جن کے حلق پر اتر جانے کا خطرہ ہو۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ چونکہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ اور محبوب ہوتی ہے، اس لیے روزہ کی حالت میں مسواک نہیں کرنا چاہیے، تاکہ وہ بو زائل نہ ہو جائے، تو گزارش ہے کہ اس بو کا تعلق معدے کے خالیہو جانے سے ہے، مسواک وغیرہ کے ذریعے منہ کی صفائی اور بات ہے اور معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے منہ کی بو کا متغیر ہو جانا اور بات ہے۔