کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: روزہ دار کو قے آجانے کا بیان
حدیث نمبر: 3762
عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ، قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ قَالَ: صَدَقَ، أَنَا صَبَّبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ معدان بن ابی طلحہ کہتے ہیں:سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی اور اس طرح روزہ افطار کر دیا۔ اس کے بعد میں دمشق کی جامع مسجد میں مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان سے کہا: ابو درداء رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قے آگئی تھی،اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ افطار کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا: جی، انہوں نے درست کہا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وضو کا پانی بہایا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3762
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 2381، والترمذي: 87، ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22381 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22740»
حدیث نمبر: 3763
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَقَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَفْطَرَ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے از خود قے کی تھی، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ افطار کر لیا، اس کے بعدپانی لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3763
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28087»
حدیث نمبر: 3764
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس روزے دار پر قے غالب آ جائے تو اس پر کوئی قضائی نہیں، لیکن جو از خود قے کرے تو وہ روزے کی قضائی دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3764
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2380، والترمذي: 720، ابن ماجه: 1676، ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10468»
حدیث نمبر: 3765
عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ عَنْ فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ فَشَرِبَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ كُنْتَ تَصُومُهُ، قَالَ: ((أَجَلْ وَلَكِنْ قِئْتُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنافضالہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں ایک ایسے دن میں تشریف لائے، جس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ رکھا کرتے تھے، لیکن ہوا یوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی والا برتن منگوا یا اور پانی پی لیا۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ تو اس دن کا روزہ رکھا کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، لیکن میں نے قے کر دی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3765
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1675، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23935 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24432»
حدیث نمبر: 3766
عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ عَنْ بَلْجٍ عَنْ أَبِي شَيْبَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ وَكَانَ قَاصُّ النَّاسِ بِقُسْطَنْطِينِيَّةَ، قَالَ: قِيلَ لِثَوْبَانَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو شیبہ مہری، جوقسطنطینیہ میں لوگوں کے واعظ (معتبر قصہ گو) تھے، کہتے ہیں: کسی نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کریں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی اور اس طرح روزہ افطار کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … جن روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قے مطلق طور پر روزے کو توڑ دیتی ہے، ان کو حدیث نمبر (۳۷۶۴)کی روشنی میں سمجھیں گے، یعنی اگر کوئی آدمی جان بوجھ کر قے کر دیتا ہے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور وہ قضائی دے گا، لیکن جس آدمی پر قے غالب آ جائے تو اس کا روزہ سالم رہے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3766
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه الطيالسي: 993، وابن ابي شيبة: 3/ 39، والبيھقي: 4/ 220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22730»