کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: روزے کی حالت میں سینگی لگوانے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 3756
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ وَالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ إِبْقَاءً عَلَى أَصْحَابِهِ وَلَمْ يُحَرِّمْهُمَا (وَفِي لَفْظٍ:) وَلَمْ يُحَرِّمْهُمَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ پر شفقت کرتے ہوئے انہیں روزے میں وصال کرنے اور روزہ دار کو سینگی لگوانے سے منع تو فرمایا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کاموں کو حرام نہیں کیا۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کاموں کو اپنے کسی صحابی پر حرام نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3756
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23459»
حدیث نمبر: 3757
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ صَائِمًا مُحْرِمًا، فَغُشِيَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَلِذَلِكَ كَرِهَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزے اور احرام کی حالت میں سینگی لگوائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہو گئی تھی، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزے دار کے لیے سینگی لگوانے کو ناپسند کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3757
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، نصربن باب ضعيف، والحجاج بن ارطاة مدلس وقد عنعن۔ اخرجه ابويعلي: 2449، والطبراني: 11320، والبزار: 1015، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2228»
حدیث نمبر: 3758
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ): قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ اور احرام کی حالت میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سینگی لگوائی، (جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر تھے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3758
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد۔ اخرجه الترمذي: 777، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1943»
حدیث نمبر: 3759
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ بِالْقَاحَةِ وَهُوَ صَائِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قاحہ مقام پر سینگی لگوائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں تھے۔
وضاحت:
فوائد: … مدینہ کے جنوب مغرب میں (۹۵) کلومیٹر فاصلے پر ’’قاحہ‘‘ مقام واقع ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3759
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه الطبراني: 12053، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2186»
حدیث نمبر: 3760
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتِجَامَةً فِي رَأْسِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں سر پر سینگی لگوائی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … تمام روایات کا حکم آپ کے سامنے ہے، صحیح بخاری کی روایت کا درج ذیل متن اس معاملے میں فیصلہ کن ہے: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اِحْتَجَمَ وَھُوَ صَائِمٌ، وَاحْتَجَمَ وَھُوَ مُحْرِمٌ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزے کی حالت میں سینگی لگوائی اور احرام کی حالت میں سینگی لگوائی۔ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں علیحدہ اور روزے کی حالت میں علیحدہ سینگی لگوائی، ان دو چیزوں کو ایک حالت پر محمول کرنا وہم ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3760
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 5700 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2243»
حدیث نمبر: 3761
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ قَالَا ثَنَا ثَابِتٌ ثَنَا هِلَالُ بْنُ عِكْرِمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عِكْرِمَةَ عَنِ الصَّائِمِ أَيَحْتَجِمُ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا كُرِهَ لِلضُّعْفِ، ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ أَكْلَةٍ أَكَلَهَا مِنْ شَاةٍ مَسْمُومَةٍ سَمَّتْهَا امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ہلال بن عکرمہ کہتے ہیں: میں نے عکرمہ سے پوچھا کہ کیاروزے دار سینگی لگوا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: کمزور ہو جانے کی وجہ سے اس کو ناپسند کیا گیا ہے، پھر انہوں نے سیدناابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں سینگی تو لگوائی تھی، لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زہریلی بکری کا گوشت کھا لیا تھا، جو خیبر والوں کی ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھلائی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … دونوں ابواب کی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ روزے دار سینگی لگوا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3761
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه الطبراني: 11699، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3547»